ناکارہ جوتوں سے کھلوٓنے تیار
تعطل جاری ہے
نئی دہلی میں پاکستان اور ہندوستان کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا ۔ معاملات کی صورتحال جلیل عباس جیلانی اور رنجن متھائی کی ملاقات سے قبل جیسی تھی بالکل ویسی ہی اب بھی ہے۔
دونوں خارجہ سیکرٹریوں کے دو روز تک سر جوڑ کر بیٹھے رہنے کے بعد ایک روایتی سا مشترکہ بیان سامنے آیا جس میں آزاد ویزہ پالیسی، ثقافتی رابطوں اور کشمیر سے لے کر ایٹمی حوالے سےِ اعتمادسازی پر ‘ باہمی رضامندی ‘ کی بات کی گئی تھی ۔
جمعرات کو ہونے والی پریس کانفرنس میں جیلانی نے بھارتی وزیرِداخلہ پی چدم برم کے اُس حالیہ الزام کی تردید کی جس میں ذبیح الدین انصاری کی گرفتاری کے بعد جمع ہونے والے ثبوتوں کی بنیاد پر ممبئی حملوں اور انکی منصوبہ بندی میں پاکستان کے ‘ریاستی عناصر’ کو ملوث قرار دیا تھا ۔بدقسمتی سے ایک بار پھر مذاکرات کے موقع پر پراسرار حالات میں مشتبہ دہشت گرد کی گرفتاری نے امن کے امکانات معدوم کردیئے ۔
اور اگر ہندوستان کے ردعمل کا بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اب تک ممبئی حملوں کی پرچھائی سے باہر نہیں نکل سکا۔ دوسری جانب، پاکستان بھی تاحال ممبئی حملوں میں ملوث مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی سے گریزاں نظر آتا ہے جس سے ہندوستان کی مایو سی بڑھتی جا رہی ہے۔
دو ہزار دس میں بھوٹان میں یوسف رضا گیلانی اور منموہن سنگھ کے درمیان ہونے والی ملاقات، جسے میڈیا نے ‘تھمپو اسپرٹ’ قرار دیا تھا، ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوئی۔
اس ملاقات کے بعد ہونے والی تمام ملاقاتوں میں ہر بار دونوں سربراہان نے امن کے عمل کوحقیقت پسندانہ انداز میں آگے بڑھانے کا عزم کیا ۔پچھلے سال مارچ میں جب گیلانی موہالی میں کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ دیکھنے گئے تھے تو انہوں نے منموہن سنگھ کو دورہِ پاکستا ن کی دعوت دی تھی۔اُسی سال جولائی میں پاکستان کی وزیرِداخلہ حنا ربا نی کھر نے نئی دہلی میں ہندوستانی وزیر اعظم کو دوبارہ دورے کی دعوت دی ۔
دونوں وزرائے اعظم نے بعد ازاں مالدیپ اور جنوبی کوریا میں ملاقاتیں کیں مگر ان میں چھوٹے مسائل پر بھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ نیک نیتی سے بھرپور لمحہ اپریل میں اس وقت سامنے آیا جب صدر آصف علی زرداری نے نئی دہلی میں لنچ کے دوران منموہن سنگھ کو پاکستان کے دورے پر مدعو کیا جسے میزبان وزیر اعظم نے یہ کہ کر قبول کیا کہ”انہیں کسی بھی باہمی طور پر طے شدہ وقت پر پاکستان آنے پر خوشی ہوگی” ۔مگر موجودہ حالات میں باہمی طور پر دورے کیلئے تاریخ کا طے نہ ہوپانا باعثِ تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
اسلام آباد کی بنا محصول رکاوٹیں ختم کرنے کی ضد نے انتہائی پسندیدہ ملک کا معاملہ کھٹائی میں ڈال دیا ہے، مئی میں دونوں ممالک کے سیکرٹری داخلہ نے آزاد ویزا پالیسی کے معاہدے کی جلد از جلد تشکیل کے حوالے سے انتہائی سرسری انداز میں بات کی ،اور جون میں دفاعی سیکرٹریوں کے سیاچن پر مذاکرات میں ناکامی کی خبر سامنے آئی ۔ ماضی کے اس ریکارڈ پر دونوں ممالک کو شرمسار ہونا چاہیے ۔جنوبی ایشیاء کے لوگوں کیلئے فقط یہی ایک تسلی ہے کہ دونوں حکومتیں کم از کم مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔رابطے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور یہی ایک مثبت بات ہے۔
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- کراچی، پی ٹی آئی اور متحدہ
- ایم کیو ایم میں تطہیر کا عمل شروع ہوچکا، الطاف
- پندرہ ارب ڈالرز کے سعودی بیل آؤٹ پیکج کا امکان
- کھیل شروع کرتے ہیں






