سٹی آف بونز
ملا ریڈیو کا خطاب
اے میرے بھائیو، بڑو، بیٹو اور پسلی سے پیدا ہونے والیو!
میں ہوں آپ کا پسندیدہ میزبان فضل اللہ۔۔ خراسان کے میدانوں میں اپنے حبیبیوں کے درمیان،جہاں سے مجاہدین کے قافلے آخری فتح کے لیے نکلیں گے۔

اے اہلِ سوات! توبہ کرو۔ وقت آگیا ہے کہ تم جاہلیت کی زندگی چھوڑ دو اور اپنے ریڈیو کی سوئی میرے خطبے کی طرف گھمالو،اگر تم فلاح چاھتے ہو اپنے گناھوں سے تو اپنے گڈریے کی بات سنو اور بھیڑ بکریوں کی طرح قطار میں کھڑے ہو جاؤ۔
سنو! تم لوگ گردن اکڑا کر نہ چلو، ورنہ میں تمہیں بارود کی آگ میں بھسم کر دوں گا اور شاہراہِ القاعدہ کے راستے پر گامزن چلے آؤ۔ اور ایک وقت آے گا جب ہم اس پاک وطن پر ملا عمر کا قانون نافذ کر دیں گے جو اسلامی فلاحی مملکت کا ایسا شاہکار ہوگا کہ ننگ دھڑنگ گورے بھی اس کی نقالی کریں گے۔
مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنے بچوں کو ہمارے پاس بھیجتے ہیں، جنہیں ہم خلعتِ فاخرہ پہنائیں گے، جن پر بارود کے جواہرات ٹانکے ہوں گے اور،جہنمی ہیں وہ لوگ جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں۔

میرے حکم کو توجہ سے سنو تاکہ تم پر میرا عذاب نازل نہ ہو اور میری بندوق تمہیں تمہارے گناہوں سے آزاد نہ کر دے۔ میرے حکم نامے پر عمل کرو تاکہ ہم تمہیں مالم جبہ سے براہِ راست کیبل چیئرکے ذریحے جنت پہنچادیں۔
او اہلِ کالام،سوات اور کانجو ٹاؤن۔۔۔۔ بیس جولائی کا دن مبارک ہو سب کو، یہ وہ دن ہے جب ریڈیوکے موجد مارکونی اور مسولینی کی فاشسٹ کونسل کا رکن داخلِ جہنم ہوا تھا۔
اور۔۔۔ شیطانی گلوکاروں کی آوازیں ٹی وی، سی ڈیز اور کمپیوٹر پر نہ سنو۔ پرہیز کرو ایسے سازوسامان سے جو تمھارے دلوں میں جنسی ہیجان برپا کر دے۔ تمام سی ڈیزکو آگ میں جھونک دو سوائے ان سی ڈیز کے جو ہالینڈ کی بنی ہوں،انہیں اپنے مجاہد بھائیوں کے حوالے کر دو۔ ریڈیو کی صرف وہ آواز سننا تم پر حرام نہیں جو ہماری ہے۔

اور اپنے چہرے کے بال مت کاٹو۔ جو شخص اُسترا اپنی داڑھی کے قریب کرے، وہ شیطان کا دوست ہے۔ اور تمھاری داڑھی لالٹین کے شیشے کے برابر لمبی ہو۔ اگر تم اپنے داڑھی والے چہرے کو اپنے شانوں پر قائم دیکھنا چاہتے ہو، اورباقی چھپے بالوں پر اُسترا ضرور پھیرو۔

جاہلیت کے زمانے کے بت پرستوں کی طرح پتنگیں نہ اُڑاؤ۔ یہ شیطانی دھاگے کاٹ دو جن کی ڈوریاں ہلا کر شیطان تمہیں اپنے اشاروں پر نچاتا ہے کیونکہ یہ پتنگیں ہماری ریڈیو نشریات میں خلل ڈالتی ہیں۔
او پسلی سے پیدا ہونے والیو
نیل پالش اور میک اپ نہ کرو کہ کہیں تمہارے جہادی بھائی گمراہ ہوں۔ اپنے اپ کوایسے ڈھانپ کر رکھو جیسے مصر کے قدیم مقبروں میں حنوط شدہ شہزادیاں۔ او پسلی سے پیدا ہونے والیو! مرد ڈاکٹروں سے الٹراساونڈ نہ کراؤ۔ تمھارے لیے ہماری ساونڈ ہی نجات کا باعث ہے۔

اپنے گھروں سے صرف محرم رشتہ داروں اور میرے جہادی بھائیوں کے ساتھ ہی باہر نکلو۔ اگر نکلو تو چمکدار جوتے مت پہنو کیونکہ یہ میرے جہادی بھائیوں کے دل میں ہل چل پیدا کرتے ہیں۔ تمھارے جوتے میرے پیادے سپاہیوں کو اوجڑی کیمپ کی طرح بھک سے اڑا دیتے ہیں۔
غسل خانے میں بائیں پاؤں سے داخل ہو ورنہ میرے پیادے تمھیں اسی پاؤں سے کھینچ کر میدان میں گھسیٹ کر لے آئیں گے اور تمھاری روسٹ قربانی دیں گے، جیسے ہمارے پرہیزگار اہلِ بہاولپور نے دی ہیں۔
فٹ بال مت کھیلو نیکر پہن کر۔ اہلِ سوات کو تربیت دو شمشیر و سنا کی، اور باکسنگ اور گھڑ سواری کی۔

او اہلِ کالام اورسوات! اپنی شلواریں اوپر باندھو اور ڈب کس لو تاکہ تمھارے ٹخنے نظر آئیں۔
اے پسلی سے پیدا کردہ مخلوق! لمبی شلواریں پہنو تاکہ تمھارے ٹخنے نظرنہ آئیں۔ سنو! پازیب نہ پہنو۔ یہ شیطانی آواز پیدا کرتی ہے۔
اپنے سر ڈھانپ کر رکھو اور کپڑا باندھو جیسا کہ زخمی انگلی پر باندھا جاتا ہے۔ اگر تمھارے سر ننگے ہوں گے تو پانچ سو سکے اپنے جہادی بھایوں کو نذرانے کے پیش کرو جیسا کہ منگل باغ کا حکم ہے۔
بے شک! کفار کے قتّال کا وقت آگیا ہے۔ کیا تم لوگوں کو القاعدہ کی سی ڈیز میں اس کی نشایناں نظر نہیں آتی ہیں۔
یہ نشانیاں ہیں امن کے متلاشیوں کے لیے!!!
اسی موضوع پر
ڈان میڈیا گروپ کا بلاگ مصنف اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں
کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں
Urdu Englishاپنی رائے دیجئے
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- نون لیگ کے رہنما کی ساڑھے پینتالیس کروڑ کی گھڑی: شازیہ مری کا دعویٰ
- بلوچستان میں لشکرِ جھنگوی
- اسلام آباد: ٹی ٹی پی کی جانب سے بزنس مینوں سے بھتے کا مطالبہ
- چندر بھان کا جھنگ








بہت غلط طریقے سے مسلمانوں کے شعار کا مذاق اڑایا ہے – دوسروں کی خاطر اپنے مذہب کا خاکہ تو مت اڑایئے
میں وقار کی بات سے اتفاق کرتا ھون
کسی قسم کا اسلام کا مذاق نہیں اڑایا. سچ لکھا ہے بالکل. ملا اسلام کا نام نہیں۔
آپ اسلام کا مذاق اڑا رہے ہیں نا کہ ملا کا۔
یہ سراسر اور کھلم کھلا اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے. اس میں قرانی احکامات اور احادیث نبوی کی توہین کی گئی ہے. سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کا انداز خطبہ حجتہ الوداع کی طرح رکھا گیا ہے…
غسل خانے سے بائیں پاؤں سے داخل ہونا…پسلی سے پپدا ہونے والی مخلوق، ….وغیرہ وغیرہ… استغفراللہ من ذالک
جاہل ملاؤں اور ان کے نام نہاد اسلام کی بہترین نقش نگاری کی گئی ہے. دوغلے پن کے شکار جہلا اور کھوکھلے “ایمان والوں” کے منہ پر یه تحریر ایک زناٹے دار تھپڑ ہے. دوسروں کو جاہل رکھ کر ملا برادری اور انکے حمایت یافتہ لوگ اسلام کے اقدار اور اسلامی تعلیم کی مقصدیت کا مذاق اڑا رہے ہیں. ان مسخروں کو بے پردہ کرنا ایک اہم قومی اور سماجی فریضہ ہے.
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ظاہر پرستی، زبردستی اور تشدد پسندی کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے. لیکن یہی جاہل ملا ہمیں ان تین غیر اسلامی افعال میں ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر کوئی اسکی مخالفت کرے تو تکفیری فتوےٰ جاری کرتا ہے اور “شعائر اسلامی” کا مذاق اڑانے کا جھوٹ موٹ رونا روتا ہے.
اللہ سبحان تعالی اسلام کو ملے کے شر سے بچائے. آمین
بہت خوب، ان جاہل ملاوں کی اصلیت سامنے آتی رہنی چاہیے
ٹھیک ہے کہ بعض جاہل لوگوں نے کچھ شدت اختیار کر کے اسلام کا نام بدنام کیا…لیکن محترم…! آپ نے بھی کوئی اچھا طریقہ اختیار نہیں کیا…اسلام کے احکامات کا کھلم کھلا مذاق بنایا ہے آپ نے…داڑھی..پردہ…ٹخنوں سے اوپر شلوار..غسل خانے میں بائیں پاؤں سے داخل ہونا..وغیرہ وغیرہ…یہ سب اسلامی احکامات ہیں…یہ احکامات ہمیں اسلام نے دئیے ہیں…کسی ملا یا طالبان نے نہیں…اس لیئے ان کا مذاق بنانا اسلام کا مذاق بنانا ہے..اگر آپ کو ملا یا طالبان سے نفرت ہے تو اس کے اظہار کے اور بہت سے طریقے ہیں..اس طرح شعائر اسلام کا مذاق بنانے سے ہماری طالبان یا ملا سے نفرت تو نہیں بڑھی..البتہ آپ سے ضرور ہوگئی ہے…
Mr. Ahsan has written quite correctly and precisely that do not make amuse on our Islamic ways of life imposed by Allah. If you have conflicts with the person who is using the name of Islam (in your consideration) you should taunt only him not on the basis of his ways, you started blaming Islam’s established way of style. Sorry it is very wrong thinking.
ملا کہ آڑ اسلام کو بدنام نہ کریں۔
مزا آ گیا. یہ شعار اسلام کا مذاق ہرگز نہیں. یہ ایک منافق صفت ملا کا خطاب ہے جس کے نزدیک اسلامی احکامات کی جو تشریح وہ کر رہا ہے صرف وہی درست ہے اور اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بزور طاقت اسلامی شعار کا نفاذ کرے جب کہ نہ وہ ریاستی اہل کار ہے اور نہ ہی اس کے صاحب فھم و فراست اور حکیم و دانا ہونے پر امت کا اجماع ہے. یہ بزور شمشیر اسلام کا نفاذ کر رہا ہے جو کہ غلط ہے. یہ ان لوگوں پر تنقید ہے جو خود کو مذہب کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں
کیا ہی بیہودہ مذاق ہے … اس سے بڑھ کہ اور موقع پرستی کیا ہوگی. ؟
مجھے حیرت ہے کہ چاہے کوئی بھی موضوع ہو ایک اسلامی معاشرے میں ایک ادارے نے اس طرح کی حرکت کرنے کی اجازت کیسے دی ہے ؟؟ اسلامی اشعائر کی حرمت کا مذاق اڑانا کوئی تنقیدی عمل نہیں ہے بلکہ تخریبی عمل ہے۔