چین کا تیز ترین سپر کمپیوٹر
گیلانی خاندان کا سیاسی زوال؟
اسلام آباد: ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے لیے سیاسی مشکلوں سے نکلنے کے تمام راستے بند ہو چکےہیں۔
این آر او عمل درآمد کیس میں جہاں وزارت کا عہدہ ہاتھ سے گیا، وہیں وہ آئندہ انتخابات کے لیے بھی نا اہل قرار پائے۔
اور اب بظاہر ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی ان سے منہ موڑتی نظر آ رہی ہے۔
حال ہی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے سابق وزیر اعظم اور ان کے بڑے بیٹے کو حج کیس میں مبینہ بدعنوانیوں پر تحقیقات کے لیے نوٹس ملنے پر پی پی پی کے بعض حلقے بھی حیران ہیں۔
حکمراں جماعت کے ایک سینیئر رہنما نے ڈان سے گفتگو میں کہا کہ ‘پی پی پی کی اپنی حکومت کے زیر انتظام ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے گیلانی فیملی کو پریشان کیا جانا ان کی سمجھ سے بالا تر ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ آخر ایف آئی اے گیلانی خاندانی کے پیچھے کیوں پڑی ہے۔
بدھ کو عبدالقادر گیلانی نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایف ائی آے نے نوٹس واپس نہ لیے تو وہ اور ان کے چھوٹے بھائی قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفٰی دے دیں گے۔
عبدالقادر گیلانی نے قومی اسمبلی میں ایک پر جوش تقریر کے دوران کہا کہ رحمان ملک نے انہیں اور ان کے والد کو یہ کہتے ہوئے مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ ‘ ایف آئی اے ان کے کنٹرول میں نہیں’۔
جس پر قومی اسمبلی نے رولز آف پروسیجر اور پرولیجز کی قائمہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ اڑتالیس گھنٹوں میں معاملے کو حل کرے۔
جب پی پی پی کے وزیر سے پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم کے درمیان تعلقات کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ‘ بظاہر معاملات اچھے نظر آتے ہیں لیکن سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے’۔
یاد رہے کہ جون میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد گیلانی ایوان صدر منتقل ہو گئے تھے لیکن پارٹی قیادت سے تنازعات کی خبروں کے بعد انہوں نے اکتوبر کے پہلے ہفتے ایوان صدر چھوڑ دیا۔
پی پی پی سے علیحدہ ہونے کی صورت میں گیلانی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے میڈیا میں تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف خود چل کر اسلام آباد کلب پہنچےاور گیلانی کو منا کر واپس ایوان صدر لے گئے۔
لیکن نومبر کے پہلے ہفتے میں سابق وزیر اعظم ذاتی وجوہات کی بنا پر ایوان صدر سے قریب ہی واقع سندھ ہاؤس میں منتقل ہو گئے۔
گیلانی خاندان کے انتہائی قریب پی پی پی کے ایک ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ گیلانی خاندان پارٹی قیادت اور بالخصوص حکومتی رویے سے ناخوش ہے۔
ذرائع کے مطابق، سابق وزیر اعظم نے حال ہی میں صدر زرادری سے ملاقات میں اپنے تمام گلے شکوے بیان کیے اور بتایا کہ کس طرح ان کے خاندان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے تعجب ظاہر کیا کہ پارٹی کی ہدایات پر چلنے والے اور اپنے عہدے کی قربانی دینے والے سابق وزیر اعظم کو بالآخر کیوں ثانوی حیثیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ صدر زرداری گیلانی خاندان کی حمایت میں جلد ہی ملتان کا دورہ کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت گیلانی خاندان مایوس نظر آ رہا ہے اور اسے موقع پر انہیں پارٹی کی حمایت درکار ہے۔
پی پی پی کے ایک اور ذرائع نے بتایا آئندہ انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کی وجہ سے نہ صرف سابق وزیر اعظم اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں بلکہ انہیں بد عنوانی کے الزمات کا سامنا کرنے والے بیٹوں کی فکر بھی لاحق ہے۔
‘گیلانی خاندان کے عروج کے دن ختم دیکھائی دیتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان کے سیاسی کیریئر کے حوالے سے مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے’۔
اس حوالے سے پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات اور وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ اور رحمان ملک سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
اسی صفحہ سے
ڈان میڈیا گروپ کا بلاگ مصنف اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں
کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں
Urdu Englishاپنی رائے دیجئے
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- نون لیگ کے رہنما کی ساڑھے پینتالیس کروڑ کی گھڑی: شازیہ مری کا دعویٰ
- اسلام آباد: ٹی ٹی پی کی جانب سے بزنس مینوں سے بھتے کا مطالبہ
- بلوچستان میں لشکرِ جھنگوی
- چندر بھان کا جھنگ







پنجاب کے خلاف اندھی نفرت اور بھیانک تعصب کا شرمناک اور غلیظ کھیل کھیلنے والا بغدادی پناہ گیر ،دنیا کا سبب سے بڑا نسلی دہشت گرد،کرپٹ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی دنیا بھر ایک عبرتناک مثال بن چکا.یہ شخص صبحو شام پنجاب میں وزیر اعظم ہاوس سے ملک کی بارہ کروڑ کی پنجابی بولنے والی آبادی کے صوبے کے خلاف نفرت بھرے بیانات جاری کیا کرتا تھا.اس نے صوفیوںاور درویشوںکی سر زمین .ہمہش سے خاموش پنجاب میںنفرتوںایس بیج بویا جس کی فصل صدر زرداری،پیپلز پارٹی اور یو خو داور پورے ملک جلد ہی کاٹنے والا ہے .ملکی سیاست میںپہلا عزیر اعظم جس نے قومی وسائل کو نفرت و تعصب کی بنیاد پر لوٹا اب عبرت کی بھیانک مثال بن چکا.