چین کا تیز ترین سپر کمپیوٹر
فوج سے ووٹرز لسٹوں کی تصدیق کرائی جائے، چیف جسٹس
اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے تجویز دی ہے کہ کراچی میں فوج اور رینجرز کے ذریعے گھر گھر ووٹروں کی تصدیق کے عمل کو شروع کیا جائے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جعلی انتخابی فہرستوں سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انتخابی فہرستوں سے متعلق بہت سی شکایات موصول ہو رہی ہیں، کیوں نہ ہم الیکشن کمیشن کو کہیں کہ کراچی کی حد تک گھر گھر ووٹوں کی تصدیق دوبارہ کریں۔
کراچی میں انتخابی فہرستوں کی تیاری کے لیے فوج اور رینجرز کو شامل کرلیا جائے تو امن و امان کا مسئلہ بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فوج کے ذریعے گھر گھر ووٹروں کی تصدیق قومی مفاد میں ہے۔ ایسا کرنے سے گڑ بڑ کرنے والے عناصر کی خود بخود نشاندہی ہو جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور رینجرز کے ساتھ الیکشن کمیشن کے لوگ ہوں گے تو دیکھیں حالات کیسے ٹھیک ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ورکرپارٹی کیس میں انتخابی فہرستوں سے متعلق فیصلہ دے چکی ہے۔ ووٹ انفرادی معاملہ ہے، سیاسی جماعتیں اس سے الگ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ فہرستوں کی درستگی کے عمل سے سیاسی جماعتوں کو دور رکھنا ہوگا۔
الیکشن کمیشن نے کراچی سے باہر منتقل کیے گئے ووٹوں کی فہرست عدالت میں جمع کرا دی، رپورٹ کے مطابق کراچی میں بتیس ہزار دو اکاسی ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کتنی درخواستوں پرووٹروں کے ووٹ تبدیل کیے گئے۔
ایک موقع پر جماعت اسلامی کے وکیل رشید اے رضوی نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کے ایک گھر کے پتے پر چھ سو ترپن ووٹ ہیں۔
مسلم لیگ ن کے وکیل رانا شمیم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے افسر ووٹوں کی تصدیق کے لیے کسی کے گھر نہیں گئےاور کراچی میں الیکشن کمیشن کا کراچی میں میں کوئی کنٹرول نہیں وہ مکمل طور پر بے بس ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج اور ایف سی کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق کی تجویز درست ہے۔ تاہم مجھے خوف ہے کہ جو باتیں میں کر رہاہوں میرے خلاف معلوم نہیں کیا ہوگا۔
رشید اے رضوی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے درست انتخابی فہرست بنائی ہیں تو تصدیق سے کیوں کترا رہے ہیں۔ موجودہ انتخابی فہرستوں پر شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے۔ اگر موجودہ فہرستوں پر انتخابات ہوئے بھی تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کراچی کی منظور کالونی کے ایک گھر کے پتے پر چھیاسٹھ ووٹوں کا اندراج ہے۔ جبکہ ایک سو بیس گز کے ایک گھر کے پتہ پر چھ سو ترپن ووٹ درج ہیں۔ رشید اے رضوی نے اس گھر کی تصویر عدالت میں پیش کر دی۔ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ عملاً ممکن نہیں کہ ایک پتے پر اتنے زیادہ ووٹوں کا اندراج ہو۔
ایم کیو ایم نے بوگس فہرستوں سے متعلق درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیا۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم سے پوچھا کہ عوامی پارٹی ہوکر ووٹوں کی تصدیق کے عمل کی کیوں مخالفت کر رہے ہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے۔ ملک اور قوم جمہوری عمل کے خاتمے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کو گھر گھر ووٹوں کی تصدیق کے لیے اتنا بڑا بجٹ ملا تھا اس کا کیا ہوا۔
ایم کیو ایم کے فروغ نسیم نے کہا کہ بلوچستان، پنجاب، کے پی کے میں بھی امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں۔اگر دیکھا جائے تو کراچی کے مقابلے میں دیگر شہروں میں ووٹروں کے اس سے زیادہ مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مشق شروع کر دی تو پھر انتخابات بھول جائیں۔
صرف کراچی کے لیےالگ سے نہیں بلکہ وہی اقدام ہونا چاہیے جو پورے ملک کے لیے ہو۔ اگر کراچی میں اجازت دے دی تو پھر کوئٹہ ، نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی سے بھی درخواستیں آئیں گی۔ سپریم کورٹ نے کراچی سےتیس لاکھ ووٹروں کی منتقلی کی درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کر لیا۔
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
اسی صفحہ سے
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- نون لیگ کے رہنما کی ساڑھے پینتالیس کروڑ کی گھڑی: شازیہ مری کا دعویٰ
- اسلام آباد: ٹی ٹی پی کی جانب سے بزنس مینوں سے بھتے کا مطالبہ
- بلوچستان میں لشکرِ جھنگوی
- چندر بھان کا جھنگ






