مصوری ایک فن
لال مسجد آپریشن پر عدالتی کمیشن قائم

جولائی دوہزار سات میں لال مسجد آپریشن سے قبل کی ایک تصویر جس میں مسلح افراد مسجد کے باہر موجود ہیں۔ تصویر تنویر شہزاد
اسلام آباد: دو ہزار سات میں لال مسجد آپریشن کے حقائق معلوم کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے عدالتی کمیشن تشکیل دیدیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، لال مسجد پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد کے قلب میں آبپارہ کے علاقہ میں 1965 میں تعمیر کی گئی ۔ سرخ پتھر سے تعمیر کے باعث یہ “لال مسجد” کے نام سے مشہور ہے۔
لال مسجد کا سب سے پہلے باقی ملک کے لوگوں نے اس وقت نام سنا جب اکتوبر دو ہزار ایک میں افغانستان پر حملے کے بعد یہاں سے طالبان کی حمایت میں جلوس نکلنے شروع ہوئے،لیکن یہاں کے منتظمین نے سیاسی طاقت کا پہلا بھر پور مظاہرہ 2007 میں کیا جب مسجد سے متصل مدرسے کی طالبات نے مبینہ غیر قانونی مساجد کے انہدام کے جواب میں بچوں کی لائبریری پر قبضہ کرلیا۔
پھر مئی 2007 کو انھوں نے چار پولیس والوں کو قابو کر کے لال مسجد میں بند کر دیا۔
جون 2007ء کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلبا اور طالبات نے کچھ چینیوں کو بھی اغوا کیا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ مساج پارلر کے نام پر فحاشی پھیلارہے ہیں۔
جولائی دوہزار سات میں حکومت کی جانب سے طالبان حامی مسجد انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی گئی تو آٹھ روزہ محاصرہ ختم کرنے کیلئے آپریشن میں اٹھاون کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں مدرسے کے طالبعلم اور پاکستان فوج کے اہلکار بھی شامل تھے۔
اس کیس پر دوہزار سات میں ہی سپریم کورٹ نے کارروائی شروع کی تھی ۔ سپریم کورٹ نے آپریشن کی قانونی حیثٰیت اور اس میں بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی نقصان پر بھی سوالات اُٹھائے تھے۔
کیس پر اب تک ہونے والی کارروائی کے بعد فیڈرل شریعت کورٹ کے ایک سینیئر جج، شہزادو شیخ کی نگرانی میں یہ جوڈیشل کمیشن بنایا گیا ہے۔
کمیشن ان سوالات کے جوابات تلاش کرے گا:
لال مسجد آپریشن کی کیا وجوہ تھیں ؟ اس آپریشن میں کتنے سویلین اور کتنے اہلکار مارے گئے؟ کیا تمام لاشیں شناخت کے بعد ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی تھیں؟ کیا حکومت کی جانب سے متاثرین کو معاوضہ دیا گیا تھا؟ کیا آپریشن کرنے والوں کیخلاف کوئی قانونی کارروائی شروع کی گئی؟ کیا دستیاب ثبوتوں کی روشنی میں یہ ممکن ہے کہ مسجد کے محاصرے اور آپریشن کے دوران ہلاکتوں کے ذمے داروں کا تعین کیا جاسکے؟
کمیشن کو پینتالیس روز میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات کی گئ ہیں۔
اسی صفحہ سے
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- لندن پولیس کا الطاف حسین کیخلاف تحقیقات کا آغاز
- نئی کابینہ کے اہم ناموں کی حتمی منظوری
- ایم کیو ایم کے گڑھ میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک
- کراچی کا مینڈیٹ





