راجہ پرویز اشرف کی نئی ذمہ داریاں

Friday 7 December 2012
0
raja-zardari-meeting-inp-670

اسلام آباد: صدر زرداری اور وزیر اعظم اشرف کے درمیان ملاقات کا ایک منظر۔ —آئی این پی

اسلام آباد: گزشتہ پانچ سالوں سے  پاکستان پیپلز پارٹی کو یکجا رکھنے والے صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے عملی سیاست سے باہر ہونے کے بعد آئندہ الیکشن میں پارٹی کی انتخابی مہم کا بوجھ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے کاندھوں پر آن پڑا ہے۔

سپریم کورٹ نے صدر زرداری کو ایوان صدر سے ہر قسم کی سیاسی سرگرمی سے روک دیا ہے جبکہ پی پی پی کے نائب چیئرمین گیلانی اگلے پانچ سالوں تک انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کے بعد سیاسی بیابانوں میں کھو چکے ہیں۔

پی پی پی کے انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق، صدر زرداری نے راجہ پرویز اشرف کو اپنی زیادہ توجہ سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد وزیر اعظم اپنا زیادہ تر وقت انتخابی سیاست پر صرف کر رہے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف کی حکومت سترہ مارچ کو ختم ہونے جا رہی ہے جس کے بعد نگران سیٹ اپ اگلے ساٹھ دنوں میں عام انتخابات منعقد کرانے کا پابند ہو گا۔

ذرائع نے بتایا کہ نگران سیٹ اپ کے آنے تک راجہ پرویز اشرف صرف ضرورت پڑنے پر ہی بطور ملک کے چیف ایگزیکیٹو اپنی ذمہ داری ادا کریں گے۔

‘اس وقت سارے حکومتی معاملات آٹو پائلٹ پر ہیں اور اس جہاز کی کپتانی کے فرائض صدر زرداری سر انجام دے رہے ہیں’۔

پی پی پی کے ایک اور رہنما نے ڈان کو بتایا کہ آئندہ انتخابات کی منصوبہ بندی کے حوالے سے حالیہ ہفتوں میں وزیر اعظم سیکٹریٹ اور ایوان صدر میں کئی اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

ان ملاقاتوں میں طے کیا گیا ہے کہ انتخابات سے قبل پہلے مرحلے میں راجہ پرویز اشرف ملک بھر میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔

اسی لیے دسمبر کے ہر ہفتے ان کے مختلف شہروں میں عوامی اجتماع رکھے گئے ہیں۔

شیڈول کے مطابق، وزیر اعظم آٹھ دسمبر کو فیصل آباد، سولہ دسمبر کو ہری پور، بائیس دسمبر کو فتح جنگ جبکہ جنوری پانچ کو اپنے آبائی حلقے کے قریب ہی چکوال میں جلسوں سے خطاب کریں گے۔

پی پی پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب ملک کو طالبان اور دوسرے شدت پسند گرہوں سے سنگین خطرات لاحق ہیں، ان جلسوں کے لیے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے خصوصی انتظامات پی پی پی کی حکومت ختم ہونے کے بعد نگراں سیٹ اپ میں ممکن نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم چند ماہ میں ختم ہونے والی حکومت کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔

وزیر اعظم نے اپنے اسٹاف کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ ان سے ملنے کے لیے آنے والوں میں موجوہ ارکان اسملبی یا پھر اہم سیاسی رہنماؤں کو دوسروں ملاقاتیوں پر ترجیع دی جائے۔

اسی لیے آج کل ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب وزیر اعظم سیکٹریٹ کا میڈیا ونگ ان کی اہم اور مختلف سیاست دانوں سے ملاقاتوں پر سرکاری بیان جاری نہ کرتا ہو۔

جب پی پی پی کے ذرائع سے پوچھا گیا کہ آیا پارٹی کے دوسرے رہنما راجہ پرویز اشرف کو انتخابی مہم کی ذمہ داری سونپے جانے پر خوش ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر کئی لوگوں نے راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنانے پر اعتراض کیا تھا لیکن ان کے احتجاج پر کبھی کان نہیں دھرے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ وجوہات چاہے جو بھی ہوں ، حقیقت یہی ہے کہ اشرف صاحب کو موجودہ وزیر اعظم کی حیثیت سے پارٹی نے نئی ذمہ داری دی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے قواعد و ضوابط کے تحت کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والے شخص انتخابی مہم میں حصہ لینے کا اہل نہیں۔

لیکن ان قوانین کا اطلاق عام انتخابات کا سرکاری شیڈول کا اعلان کے بعد ہی ممکن ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘ فی الوقت موجودہ وزیر اعظم یا دوسرے وزراء پر ریلیوں او ر جلسوں میں خطاب کرنے پر کوئی پابندی نہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ  ‘سب کو معلوم ہے کہ یہ عوامی اجتماع اگلے انتخابات کی تیاریوں کا حصہ ہیں، لیکن ہم موجودہ قوانین کی روشنی میں کسی قسم کی  کارروائی نہیں کر سکتے’۔

صدر زرداری نے اپنے طور پر اچھی حکمت عملی اپنائی ہے تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا راجہ پرویز اشرف ان کی توقعات پر پورا اتریں گے یا نہیں۔

 

ڈان میڈیا گروپ کا بلاگ مصنف اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں

کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں

Urdu English

اپنی رائے دیجئے

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا