پی اے سی کا جرنیلوں کو زرعی زمین الاٹمنٹ کی مخالفت

Thursday 20 December 2012
0
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ندیم افضل۔ - فائل فوٹو

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ندیم افضل۔ – فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بدھ کے روز وزارت دفاع کو ہدایت کی ہے کہ وہ سینئر فوجی افسران کو زرعی زمین الاٹ کرنے کی پالیسی کو ختم کریں اور آگے بھی اس پالیسی کو ختم کیا جائے۔

کمیٹی کے اجلاس میں جس کی صدارت اس کے چیئرمین ندیم افضل گوندل کررہے تھے متفقہ طور پر سن دو ہزار نو میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کی طرف سے متعارف کرائی گئی خصوصی حوصلہ افزائی کی پالیسی کی فوری منسوخی کی سفارش کی گئی۔

اس پالیسی کےتحت بی پی ایس بائیس تک پہنچنے والے بیوروکریٹس اور سپریم کورٹ کے ججوں کو اسلام آباد میں ایک اضافی رہائشی پلاٹ ملتا ہے۔

اب تک دو سو چھتیس لوگ جس میں اکیس جج ممبران شامل ہیں اس اسکیم سے فائدہ اٹھا چکے ہیں جبکہ تریسٹھ مقدمات زیر التواء ہیں۔

ندیم افضل گوندل کا کہنا تھا کہ کمیٹی وزارت دفاع کے اپنے سینئر جرنیلوں کو زمین کی بڑی علاقوں کی الاٹمنٹ  کے خلاف ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ پی اے سی یہ نہیں چاہتی کہ اس پالیسی کے خاتمے کا اثر ہلاک ہونے والوں کی بیواؤں اور مستحق لوگوں پر پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ سول اور ملٹرہ دونون بیروکریسیوں نے اس پالیسی کا غلط استعمال کیا ہے جسے اب ختم ہوجانا چاہیے۔

کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں

Urdu English

اپنی رائے دیجئے

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا
%d bloggers like this: