اے این پی کی دہشت گردی کیخلاف متحد ہونے کی اپیل

Tuesday 25 December 2012
1

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی صحافیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو۔۔۔

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے سربراہ اسفندیارولی خان نے تمام جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کیخلاف متحد ہو جائیں اور مل کر حکمت عملی تیار کریں، ان کا کہنا تھا کہ اے این پی حکومتی رٹ ماننے والوں سے مذاکرات کیلیے تیار ہے۔

منگل کو وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاورمیں اے این پی کے مشاورتی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران اسفندیارولی خان نے کہاکہ انتہا پسندی ودہشت گردی ملک کی بقا کیلئے خطرہ ہے اوراس کیخلاف لڑنا کسی ایک جماعت کی بس کی بات نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن اقدامات کیلئے اتحادیوں وسیاسی پارٹیوں سے رابطہ کیا جائیگا اور تمام جماعتوں سے یہی اپیل ہے کہ اس کیخلاف باہم متحد ہو کر حکمت عملی تیار کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی عدم تشدد کی پالیسی جاری رکھے گی اور ہم ان تمام افراد کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں جو حکومتی رٹ کومانتے ہیں لیکن جو ریاست کے قانون کو نہیں مانتے ان کو اپنے بدترین انجام کیلئے تیار رہنا چاہیے۔

اسفند یار ولی نے کہا کہ ہمیں اپنے گھروں اور گلیوں میں اپنا دفاع کرنے کے بجائے دہشت گردوں کے گھر پر حملہ کرنا ہو گا اور اس حوالے سے ہمیں قومی اتفاق رائے پیدا کرنی ہو گی تاکہ ریاست اور معاشرے کے دشمنوں کی مکمل بیخ کنی کیلئے موثرحکمت عملی بنائی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی شروع ہی سے ڈرون حملوں کیخلاف ہے جس میں بے گناہ اور معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں، ڈرون حملے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کیخلاف ہیں۔

کرپشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اسفندیارولی خان نے کہاکہ یہ فیصلہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے کرینگے کہ کون کرپٹ ہے اور کس کا دامن صاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگ کسی کے آگے نہیں جھکے اس لیے ہم بھی نہیں جھکیں گے، ہم دہشت گردوں سے خوفزدہ نہیں۔

اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی بناء پر ہم انتخابات موخرکرنے کے حق میں نہیں ہیں اور اے این پی آئندہ عام انتخابات میں بھرپورحصہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے ہارون بلور کو وزیر اعلیٰ کا خصوصی مشیر بنایا جائے گا۔

اسفند یار ولی نے اے این پی کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ صبرکاراستہ اختیار کریں اور ریاست دشمن عناصر کے جال میں نہ آئیں جو خانہ جنگی کے ذریعے ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدرخان ہوتی، صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین، اے این پی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں

Urdu English

اپنی رائے دیجئے

ایک تبصرہ
  1. اے این پی کو اب اس بات کا احساس هوا اگر پانچ سال پہلیے اگر آج کی بات کرتے تو بہتر هوتا اتنے نقصان کے بعد امن کی بات کرنا اچھی بات هے لیکن دیر هوجکی هے اسکے علاوہ اےاین پی کو خود بھی اسٹیبلشمنٹ کے جتهری سے باہر آنا هوگا