رنبیر اور دیپیکا جادو بکھیرنے آگئے
مصر میں نیا آئین کثرت رائے سے منظور

نئے آئین کیخلاف مظاہرے کے دوران ایک مصری خاتون اپنے بال کاٹ رہی ہے۔ فوٹو اے پی۔۔۔
قاہرہ: مصری الیکشن کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم میں نیا ملکی آئین تریسٹھ اعشاریہ آٹھ فیصد “یس” ووٹوں کے ذریعے قبول کر لیا گیا ہے۔
منگل کے روز جاری کیے گئے حتمی نتائج کے مطابق بتیس اعشاریہ نو فیصد ووٹروں نے رائے شماری میں حصہ لیا۔
اس اعلامیے کیساتھ ہی حسنی مبارک کے تیس سالہ حاکمانہ تسلط کا خاتمہ کرنے والے انقلاب کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے وضع کیے جانے والا میثاق ملک کا پہلا آئین بن جائیگا۔
حزب اختلاف کی جانب سے اس آئین کیخلاف تحریک چلائی گئی تھی کیونکہ ان کے مطابق اس سے مصر میں اسلامی حکمرانی قائم ہو جائیگی اور آزادی کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہونگی۔
لہٰذا انہوں نے ان نتائج کو نہ ماننے کا عزم کیا ہے۔ تاہم الیکٹورل کمیشن کے سربراہ جج سمیر ابو الماتی نے عدلیاتی سپروژن میں کمی کے الزامات کی تردید کی ہے۔
یہ حتمی نتائج اس میثاق کے سب سے بڑے حمایتی گروہ مسلم برادرہڈ کی جانب سے اعلان کردہ غیر حتمی نتائج سے مماثلت رکھتے ہیں۔





