شنگھائی میں فلمی میلہ سج گیا
کراچی دھماکے میں چار ہلاک، طالبان نے ذمے داری قبول کرلی

کراچی میں بس کے قریب بم دھماکے کے بعد کی جگہ کی ایک تصویر۔ اے ایف پی تصویر
کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں عائشہ منزل کے قریب موٹر سائیکل میں دھماکے سے چار افراد ہلاک اور بیالیس زخمی ہو گئے، تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) نے دھماکے کی ذمے ادری قبول کر لی ہے جبکہ ایم کیو ایم واقعے کیخلاف کل یوم سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔
صدر پاکستان نے دھماکے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد انسان کہلانے کے مستحق نہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق دھماکہ عائشہ منزل کی فرنیچر مارکیٹ کے قریب ہوا ہے جس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔
دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا جس سے موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
دھماکہ اس وقت ہوا جب ایم کیو ایم کے جلسے سے واپس آنے والے افراد بس میں سوار ہو رہے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے سے اطراف میں کھڑی متعدد گاڑیوں اور بسوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
دھماکے کے بعد عائشہ منزل، کریم آباد اور اس کے اطراف میں بدترین ٹریفک جام ہو گیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکے میں ایم کیو ایم کے کارکنان بھی زخمی ہو گئے ہیں جو جلسے سے واپس آرہے تھے۔
مزید براں تحریک طالبان پاکستان نے ایم کیو ایم کے جلوس سے واپس آنے والے افراد پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں پر مزید حملوں کا عندیہ بھی دیا ہے۔
پاکستانی طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے عسکریت پسندوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو نشانہ بنایا اور یہ صرف ایک وارننگ ہے، اس کے بعد مزید ایسے حملے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عوام ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے اور ریلیوں میں شرکت سے گریز کریں بصورت دیگر وہ اپنے جانی نقصان کے خود ذمے دار ہوں گے۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کراچی میں بم دھماکے پر بدھ کو یوم سوگ منانے کااعلان کیا ہے۔
رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق یوم سوگ کے سلسلے میں کل ملک بھر میں ایم کیو ایم کی تنظیمی و سیاسی سرگرمیاں معطل رہیں گی اور بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے ایصال ثواب کیلیے قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کی جائے گی۔
رابطہ کمیٹی نے واضح کیا کہ یوم سوگ کے دوران ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں معطل نہیں ہوں گی اور کاروبار اور دکانیں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔
دوسری جانب صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور دیگر رہنماؤں نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ گورنز سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ایک بیان میں الطاف حسین نے کارکنان کی بس پر بم دھماکے اورکارکنان کو ہلاک و زخمی کرنے کے عمل کو کھلی دہشت گردی اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جوعناصراس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے حق پرست کارکنان کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ پاکستان اور اس کے عوام کے کھلے دشمن ہیں۔
ایم کیو ایم کے قائد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، بم دھماکہ کے ذمے دار عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے سخت ترین سزا دی جائے ۔
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
اسی صفحہ سے
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- بس میں سوار خودکش خاتون حملہ آور نے طالبات کو نشانہ بنایا
- سڑک پر وصال ہو
- اسلام آباد: ٹی ٹی پی کی جانب سے بزنس مینوں سے بھتے کا مطالبہ
- پاکستانی جامعات ایشیا کی 250 یونیورسٹیوں میں شامل





