ناانصافی پر مبنی نظام کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں، طاہرالقادری

Tuesday 1 January 2013
6

منہاج القرآنا کے سربراہ طاہر القادری ایم کیو ایم کے جلسے میں آمد کے موقع پر عوام کے خیر مقدمی نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔ فوٹو آن لائن۔۔۔

کراچی: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ عوام جھوٹی جمہویت سے مایوس ہوچکے ہیں، ناانصافی پر مبنی نظام کا تخت الٹنا چاہتے ہیں اور استحصالی قوتوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

نائن زیرو پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے طاہرالقادری نے کہا کہ کراچی سے آج انقلاب کے سفر کا آغاز ہو گیا ہے، ہم پہلے اصلاحات اور اس کے بعد انتخابات چاہتے ہیں، چودہ جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والے مارچ میں عوام کی پارلیمنٹ اپنا فیصلہ صادر کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ چودہ جنوری کو اسلام آباد دنیا کا سب سے بڑا تحریر اسکوائر بننے جارہا ہے، ہماری تحریک کا مطالبہ کہ ہے مکمل غیر جانبدارانہ نگران حکومت آنی چاہیے،ہم ظلم و ناانصافی، بھوک اور افلاس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت اور آئین کے دائرے سے ایک قدم بھی باہر نہیں جانا چاہتے۔ ہم صرف ایماندارانہ نگراں حکومت چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی نام نہاد جمہوریت کو نہیں مانتے، ساٹھ فیصد لوگ اس جھوٹی جمہوریت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ہمارا اصول یہ ہے کہ جو امانت دار ہیں وہ اسمبلی میں بیٹھیں اور جاہل اور کرپٹ جیل میں جائیں۔

منہاج القرآن کے سربراہ نے کہا کہ ہم ظلم کا نظام ختم کرنا اور سچ کا تخت سجانا چاہتے ہیں، ہم لوٹ کھسوٹ کی سیاست کے خلاف ہیں۔ ہماری جدوجہد کا مقصد لوگوں کا اس نظام پر اعتماد بحال کرانا ہے۔

طاہر القادری نے کہا کہ عوام کی حقیقی جمہوریت ان کو لوٹانا چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے حقیقی جمہوریت کی دعوت پر لبیک کہا اور آج کراچی سے انقلاب کے سفر کا آغاز ہوگیا ہے۔

بعدازاں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ انقالب کے سفر کا آغاز ہو گیا ہے، مسلح افواج پاکستان بچانے کیلیے انقلاب کا ساتھ دیں۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی اور اب جبر کی حکمرانی کا دور ختم ہونے والا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انقلاب کے سفر کا آغاز ہو چکا ہے اور اب یہ اپنی منزل پر پہنچ کر ہی اختتام پذیر ہو گا، مسلح افواج اور قومی سلامتی کے ادارے انقلاب کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں اور ہمارا ساتھ دیں۔

اس سے قبل تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے منگل کو کراچی میں ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائن زیرو پہنچے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

اس موقع پر انہوں نے اپنے وفد کے ہمراہ رابطہ کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور چودہ جنوری کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ پرغور کیا گیا۔

کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں

Urdu English

اپنی رائے دیجئے

6 تبصرے
  1. jaseemjaan کہتے ہیں

    انقلاب کے سفر کا آغاز ہو چکا ہے اور اب یہ اپنی منزل پر پہنچ کر ہیاختتام پذیر ہو گا،
    عوام جھوٹی جمہویت سے مایوس ہوچکے ہیں، ناانصافی پر مبنی نظام کا تخت الٹنا چاہتے ہیں اور استحصالی قوتوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اور ہم سربراہ طاہر القادری
    کےساتھ
    ہے

  2. طاہرالقادری سے زیادہ ایم کیو ایم تبدیلی کیلئے پرجوش هے 1985سے اس سسٹم کا حصہ بننے کے باوجود آج پھر تبدیلی کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانےکی کوشش هورهی هے ایم کیو ایم واحدجماعت هےجو 1985 سےهرحکومت میں شامل هوجکی هےاور آج بھی پی پی پی کےساتھ مرکزی و صوبائی حکومت میں براجمان هےانکایۂ عمل شرمناک اور منافقانۂ هےالیکشن سے پہلے ایسی باتوں کاکیاجواز اور مطلب هےمشرف کےآمریت میں نۂ قادری اور نۂ ‏9/‏0‎ ‎نے‏ ان کے حلاف بولنےکی ضرورت محسوس کی تھی آج یۂ لوگ تبدیلی کے نام پر صرف انتخابات رکوانے کے چکر میں هیں پاکستان کے عوام اب بہت هی خوشیار هیں ایسی باتوں میں آنے والے نہیں اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی یه بات سمجھ لینا چاہیے‎ ‎کون ایماندار اور کون بے ایمان اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں

    • طاہرالقادری سے زیادہ ایم کیو ایم تبدیلی کیلئے پرجوش هے 1985سے اس سسٹم کا حصہ بننے کے باوجود آج پھر تبدیلی کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانےکی کوشش هورهی هے ایم کیو ایم واحدجماعت هےجو 1985 سےهرحکومت میں شامل هوجکی هےاور آج بھی پی پی پی کےساتھ مرکزی و صوبائی حکومت میں براجمان هےانکایۂ عمل شرمناک اور منافقانۂ هےالیکشن سے پہلے ایسی باتوں کاکیاجواز اور مطلب هےمشرف کےآمریت میں نۂ قادری اور نۂ ایم کیو ایم نے‏ ان کے حلاف بولنےکی ضرورت محسوس کی تھی آج یۂ لوگ تبدیلی کے نام پر صرف انتخابات رکوانے کے چکر میں هیں پاکستان کے عوام اب بہت هی خوشیار هوجکے هیں ایسی باتوں میں آنے والے نہیں اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی یه بات سمجھ لینا چاہیے ایماندار بے ایمان کا فیصلہ عوام نے کرنا هے

  3. شانزے کہتے ہیں

    عوام اگر ہوشیار ھوتے تو زرداری ہمارا صدر نہ ہوتا اور ڈفر شریفین اپنی باری کے منتظر نہ بیٹھے ہوتے
    جس ملک میں آج بھی ذات برادری یا وڈیرے کے حکم پہ ووٹ دیا جاتا ھو اور لآء میکرز کے نام پہ اسمبلی میں فظلوٹو اور طالبان کے نمائیندے بیٹھے ھوں وہاں تبدیلی خاک آنی ھے!
     

    • قادری صاحب انتخابات کے میدان میں آئیں اور اگر عوام نے پذیرائی کی تو جیسے چاهۓ تبدیلی کرلیںآمریت کو باری دینےکیلئےراستہ بنانےسازش نۂ کریں عوام کی منتحب اسمبلی موجود هے فیصلے انکا حق هے هجوم جمع کرکے اسمبلی لگانے کی کوئی حیثیت نہیں سوائے ایک نئے بحران کے قادری صاحب پہلے کنیڈا کی شہریت ترک کرلے پھر سیاست کریں ایم کیو ایم کو بھی چاہیے کۂ پہلے حکومت چھوڑیں پھر تبدیلی اور انقلاب کی بات کریں

  4. انور امجد کہتے ہیں

    کسی بھی غیر آئنی طریقے سے حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ اب جب عام انتخاب قریب ہیں اس طرح کی تحریک کا کوئی جواز نہیں اور یہ صرف افراتفری پھیلانے کی سازش ہے۔ لگتا ہے کہ طاہرالقادری صاحب کینیڈا سے نہیں بلکہ جنّت سے آئے ہیں اور انیس کروڑ لوگوں کو شیطان سے صالح انسان بنانا چاہتے ہیں۔ فی الحال پاکستان کی سیاست میں ان کا تو کوئی کردار نہیں ہے لیکن ایم کیو ایم کے پاس بھاری عوامی مینڈیٹ ہے اور وہ اس ڈرامے میں شامل ہو کر گھاٹے کا سودا کر رہی ہے۔