دہلی ریپ کیس: ملزمان عدالت میں پیش

Monday 7 January 2013
0

فوٹو اے ایف پی۔۔۔

نئی دہلی: ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں گزشتہ مہینے زیادتی کا نشانہ بنائی جانے والی 23 سالہ لڑکی کے قتل اور ریپ کے الزام میں گرفتار ملزمان کو پہلی دفعہ عدالت میں پیش کردیا گیا جبکہ مقدمے کی بند کمرے میں سناعت کا حکم دیا گیا ہے۔

نئی دہلی میں قتل اور ریپ کے الزام میں گرفتار پانچ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر عدالت کے باہر ہجوم اور افرا تفریح کے باعث مقدمے کی بند کمرے میں سماعت کی گئی۔

پرازیکیوٹر راجیو موہن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ملزمان نے مقدمے کے دفاع کیلیے ایک وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں تاہم انہوں نے دو ملزمان کی جانب سے وعدہ معاف گواہ بننے اور مقدمے میں تعاون کی پیشکش کرنے پر کسی بھی قسم کا بیان دینے سے انکار کر دیا۔

نئی دہلی کے رہائشی ملزمان جن کی عمر 19 سے 35 سال کے درمیان ہے، کو سیکیورٹی خدشات کے باعث تہار جیل سے انتہائی سخت سیکیورٹی میں کورٹ کمپلیکس لایا گیا۔

مجسٹریٹ نمرتا اگروال نے سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو چارج شیٹ دیدی گئی ہے اور آئندہ سماعت 10 جنوری کو ہو گی۔

اس موقع پر کورٹ کے باہر کھڑے کچھ وکیلوں نے سپریم کورٹ کے دو وکیلوں کی جانب سے ملزمان کے کیس کی پیروی کرنے پر احتجاج کیا۔

اس سے قبل انہوں نے وکیلوں اور صحافیوں مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ مذکورہ لڑکی پر نئی دہلی میں چلتی بس میں اجتماعی زیادتی اور لوہے کی سلاخوں سے تشدد کیا گیا تھا اور بعد میں ملزمان انہیں اور ان کے دوست کو بس سے باہر پھینک کر فرار ہو گئے تھے۔

لڑکی کی حالت بگڑنے پر اسے علاج کیلیے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا تاہم وہاں بھی وہ زخموں کی تاب نہ لکاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی۔

واقعے پر شدید احتجاج کے بعد ہندوستانی حکومت نے تحقیقات کے لیے خصوصی کمیشن قائم کرنے اور وزیراعظم نے ذمہ داروں کوجلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اعلان کیا تھا۔

کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں

Urdu English

اپنی رائے دیجئے

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا