لاپتہ افراد کے حوالے سے سفارشات جاری

Tuesday 8 January 2013
0
سینیٹر رضا ربانی۔ فائل فوٹو۔۔۔

سینیٹر رضا ربانی۔ فائل فوٹو۔۔۔

اسلام آباد: قومی سلامتی کمیٹی نے لاپتہ افراد کے حوالے سے سفارشات جاری کردیں کے مطابق، کسی بھی شخص کی حراست آئین کے آرٹیکل دس کے تحت ہونی چاہیے جبکہ انٹیلی جنس اداروں کی کارروائی کو ریگولیٹ کیا جائے۔

 منگل کو سینیٹر میاں رضا ربانی کی زیر صدارت قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

 قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کیلئے خصوصی بنچز تشکیل دیں۔

 سفارشات میں کہا گیا کہ کسی ایجنسی یا ادارے کی جانب سے کسی شخص کو حراست میں لیاجانا آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔

 سفارشات کے مطابق، غیر قانونی حراست پر متعالقہ شخص کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے جبکہ حکومت کو 24 گھنٹے کے اندر کمپیوٹرائزڈ رجسٹر میں حراست میں لیے گئے شخص کا نام درج کرنا چاہئیے۔

 حراست میں لیے گئے شخص کو 24 گھنٹے کے اندر ان پر لگائے دفعات سے باخبر کرنا چاہئیے۔

 کمیٹی کی سفارشات کے مطابق، فوج، انٹیلی جنس اینجسیز اور پولیس کے تمام تربیتی ادارے قانون کے مطابق ہونے چاہئیں۔ حکومت جیل اصلاحات کا فوری طور پر اعلان کرے جبکہ حکومت پولیس کو انسانی حقوق کے دائرے میں تربیت دینے کے لیے اقدامات کرے۔

 کمیٹی کا کہنا تھا کہ لاپتہ شخص کو مقررہ مدت میں عدالت میں پیش کرنے والے اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی۔

 اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران رضا ربانی کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی سفارشات کو سینیٹ، قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،

 انکا مزید کہنا تھا کہ لاپتہ افراد افراد کی بازیابی کے لیے حکومت سفارشات پر عملدرآمد کرائے۔

کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں

Urdu English

اپنی رائے دیجئے

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا