سپر مین کے نئے کارنامے
کوئٹہ: مظاہرین اور خورشید شاہ میں مذاکرات ناکام
کوئٹہ : صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں وفاقی وزیر خورشید شاہ اور یکجہتی کونسل کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔
وفاقی وزیر خورشید شاہ نے مظاہرین سے کہا کہ وہ میتوں کی تدفین کردیں، حکومت ان کے مطالبات پوری کرنے کی کوشش کرے گی تاہم مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے اور میتیں دفنانے سے انکار کر دیا۔
اس سے قبل صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں یکجہتہی کونسل کے دھرنے کو 26 گھنٹے گزرنے کے بعد گورنر بلوچستان ذولفقار مگسی اور سینئر وفاقی وزیر خورشید شامہ مذاکرات کیلیے پہنچے تھے۔
سانحہ کوئٹہ کے خلاف یکجہتی کونسل کا کوئٹہ میں پچیاسی میتوں کے ساتھ علمدار روڈ پر دھرنے کو چھبیس گھنٹے ہوگئے ہیں۔
سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے اڑتالیس گھنٹوں کے بعد وزیر اعظم پاکستان نے کوئٹہ کو فرینٹیئر کور کے حوالے کرنے اور انہیں پولیس کے اختیارات دینے کا حکم جاری کیا تھا۔
وزیر اعظم نے ایک ہفتہ سے زائد عرصے سے بیرون ملک مقیم وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بھی گھر پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔
وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے یہ احکامات وزیر داخلہ رحمان ملک سے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کیے۔
وزیرداخلہ نے انہیں بلوچستان کے دارالحکومت کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے ایف سی کو ہدایات دی کہ وہ امن وامان کے قیام میں صوبائی حکومت کی مدد کرے اور ایف سی کو پولیس کے اختیارات حاصل ہونگے۔
راجہ پرویزاشرف نے وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کو فوری طور پر کوئٹہ پہنچنے کی بھی ہدایت دیں جو کہ تمام صورتحال کی نگرانی کریں گے۔
وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو بھی فوری طور پر وطن واپس پہنچنے کی ہدایت کی ہے جو گزشتہ ایک ہفتہ سے نجی دورے پر لندن اور دوبئی میں موجود ہیں۔
کوئٹہ بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے لیے وزیر اعظم نے فی کس دس لاکھ روپے جبکہ زخمیوں ایک لاکھ روپے فی کس دینے کی بھی منظوری دی اور اس کے ساتھ زخمیوں کو کراچی منتقل کرنے کے لیے سی ون تھرٹی طیارہ بھیجنے کی بھی ہدایت دی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکر کام کریں اور آپس میں رابطہ بہتر بنائیں۔
دوسری جانب وزیرداخلہ رحمان ملک کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی۔
ادھر کوئٹہ میں علمدار روڈ پر چھیاسی جنازوں کے ساتھ ایک ہزار سے زیادہ سوگواروں کے احتجاج کااب دوسرا دن شروع ہو چکا ہے۔
کوئٹہ کی یخ بستہ سردی اور بارش کے باوجود عورتیں، مرد اور بچے پسپائی اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ مظاہرین نے ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری تک میتیں دفنانے سے انکار کردیا ہے۔
کل شام سے سڑک پر بیٹھے ہزاروں افراد نے کہا کہ کوئٹہ سے دہشتگردی اور قتل وغارتگری کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت ناکام ہوچکی ہے لہٰذا بدامنی کے خاتمے کے لیے شہر کو فوج کے سپرد کیا جائے اور جب تک فوج نہیں آئے گی وہ جنازوں کےساتھ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
دھرنے کا نوٹس نہ لینے پر یکجہتی کونسل نے احتجاج کا دائرہ کنٹونمنٹ چیک پوسٹ تک بڑھانے کااعلان کردیا ہے۔
اس دوران ہزارہ ڈیموکریٹک الائنس نے دہشت گردی اور فرقہ پرستی کے خلاف کوئٹہ شہر میں ایک پُرامن احتجاجی ریلی بھی نکالی۔
دوسری طرف مجلس وحدت مسلمین نے کوئٹہ بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں اور ہزارہ کمیونٹی پر مسلسل دہشتگردانہ حملوں کے خلاف ملک بھر میں دھرنے دینے کا اعلان کردیا ہے۔
مجلس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اعلامیہ کے مطابق کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے تک ملک بھر میں دھرنے دیے جائیں گے۔
مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکریٹری اور اہم رہنما امین شہیدنے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ہماری کمیونٹی کو ایک عرصے سے دہشتگردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہمارے ساتھی چوبیس گھنٹوں سے لاشیں لے کر بیٹھے ہیں اور ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نااہل وزیراعلیٰ بلوچستان کو فوری طور پر ہٹایا جائے، جب تک فوج آکر صورتحال کنٹڑول نہیں کرتی اس وقت کچھ نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے بتایا کہ مجلس وحدت مسلمین کے کارکنان کراچی میں تین بجے سے دھرنا دیں گے جبکہ اس کے علاوہ سندھ میں حیدرآباد، مورو، سکھر، کشمور سمیت جہاں جہاں بائی پاس ہیں دھرنے دیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہملک کے دیگر شہروں لاہور، راولپنڈی، ملتان، جھنگ، مظفرآباد، گلگت بلتستان میں بھی دھرنے دیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے بلوچستان میں فرقے کی بنیاد پر ہزارہ کمیونٹی کا قتل عام بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کوئٹہ میں بدترین دہشتگردی کے خلاف کراچی میں صحافیوں نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا۔
مزید براں کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعات پر بلوچستان کی فضا سوگوار رہی، صوبائی حکومت کی جانب سے بھی صوبے میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ کوئٹہ میں سیاسی مذہبی جماعتوں کی جانب سے مکمل ہڑتال کی گئی جس کے سبب شہر کے تمام کاروباری اور تجارتی مراکز بند رہے۔
دوسری جانب دھماکوں میں ہلاک ہونے والے نجی ٹی وی کے کیمرہ مین کی تدفین کوئٹہ کے ریلوے قبرستان میں کی گئی جبکہ رپورٹر کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں سپرد خاک کردیا گیا۔
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
اسی صفحہ سے
کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں
Urdu Englishاپنی رائے دیجئے
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- کراچی، پی ٹی آئی اور متحدہ
- پندرہ ارب ڈالرز کے سعودی بیل آؤٹ پیکج کا امکان
- ایم کیو ایم میں تطہیر کا عمل شروع ہوچکا، الطاف
- پیپلز پارٹی کا زوال







I really appreciate DAWN for giving news. All other Media group were silent on this sad tragedy.
Special thanks for Asma Sherazi and Abdul Malik for their program on 11-01-2012. (Faisla Awam Ka).
We will appreciate if you can telecast dharna live on Dawn Channel.