اوکلا ہوما میں تباہی
بلوچستان گورنر راج: مسئلہ حل؟
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے مظاہرے کے آگے آخر کار ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اتوار کو اہل نشیع برادری کے نمایندوں کے سامنے بلوچستان کی حکومت کو ختم کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔
جما دینے والے درجہ ہرارت میں تین راتیں اپنے پیاروں کی میتوں کے ساتھ گزارنے کے بعد پیر کے روز کوئٹہ سانحے میں ہلاک ہونے والے افراد کو دفنا دیا گیا۔
اس سے قبل کوئٹہ میں ہونے والے خونی واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں، دوستوں اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے صوبائی دارالحکومت کی اہم علاقوں پر دھرنا دیا۔
کیا آپ کے خیال میں وفاقی حکومت نے صرف سانحے کے بعد پیدا ہونے والے دباؤ میں آکر صوبے میں گورنر راج نافذ کیا؟
کیا اس پیش رفت کے بعد آپ صوبے کی سیکیورٹی سے متعلق صورت حال کو بہتر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں؟
مزید برآں، کیا ایف سی کو پولیس کے حقوق دینا درست اقدام ہے جبکہ ان پر کئی مرتبہ اپنی منمامی کرنے کا الزام لگایا جاچکا ہے؟
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
اسی صفحہ سے
کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں
Urdu English






why Balochistan assembly members are angry over Governor Rule but silent on continuous Hazara Genocides
حکومت اپنی اہم ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہو چکی تھی۔ اسلم رئسانی اس دور کے محمد شاہ رنگیلا بن چکے تھے۔۔ ایسے میں گورنر راج نہ لگتا تو ایمرجنسی لگتی۔ حیرت ہے اب جو کابینہ قرار دادیں منظورکرکے اس فیصلے کو حکومت پر شب خون قرار دے رہی ہے۔ پچھلے چار سال انہیں ہوش کیوں نہیں آئی۔ اس حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد حالات کے بہتر ہونے کی توقع تو ہے مگر دوٹوک الفاظ میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
Jo log Islam ke naam se aise karwaiyan karte hain, woh dar asal Muslmaan to kya, insaan ka darja bhee nahin rakhte. Yeh log jaanwar se bhee bad tar hain. Lashkar-e Jhangvi aur us jaisi saare shaddat pasand grohon ke wajah se, aap Pakistan ka haalat aisa hua hai. Allah in sub shaheedon ka maghfarat farmaaye aur yeh saare grohon ko tabah aur barbaad karein.
the govt of balochistan is mainly responsible for not ensuring stable law and order in the province. The heartlessness of chief minister is indeed shameful. Secondly,the renown religious persons should come forward to show tolerance. They can free the nation from the menace of sectarianism.