سب کچھ لائیو ہے

Thursday 17 January 2013
6
السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

السٹریشن — خدا بخش ابڑو –.


is blog ko Abro Sahab ki awaaz mein sunne ke liye play ka button click karen | اس بلاگ کو ابڑو صاحب کی آواز میں سننے کے لئے پلے کا بٹن کلک کریں

جو بھی کچھ ہے آجکل لائیو ہے۔ گلی کا کتا بھونک رہا ہو یا محلے کا گدھا ڈھیچوں ڈھیچوں کر رہاہو۔ مرغا بے وقت کی اذان دے دے یا کوے اپنی کاں کاں سےآسما ن سر پر اٹھالیں۔ بندر مداری کی جگہ ڈُگڈُگی بجا نا شروع کردے یا مداری بھالو کے بھیس میں کرتب دکھانا شروع کردے۔ اپنے ملک میں  سب کچھ لائیو چل پڑتا ہے۔ ویسے بھی اپنی تماشبین قوم کوصرف وہی دکھائی دیتا ہے جو لائیو دکھایا جا رہا ہوتا ہے۔

 اپنی تماشبین قوم ایک دن کرکٹ کے مزے لے رہی ہوتی ہے تو دوسرے دن لانگ مارچ کے۔ کبھی کلچرل ڈے کے بہانے ناچ رہی ہوتی ہے تو دوسرے دن مقدس کتاب کو جلانے کے الزام میں کسی اپنے ہی جیسے کی جان لے رہی ہوتی ہے۔ ہم آنکھیں بند کرکے دیکھ بھی لیتے ہیں تو کان بند کرکے سن بھی لیتے ہیں اور اس پر یقین بھی کر لیتے ہیں۔ یقین بھی ایمان کی حد تک اور ایمان اتنا کمزور کہ اس کے ٹوٹنے کا  خطرہ ہر وقت ہمارے سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔

ایک ہی آدمی کم از کم چارچینلز پر ایک ہی وقت میں لائیو بیٹھا چیخ رہا ہوتا ہے اور ہم ہر چینل پر لائیو لکھا ہوا پڑھ کر بھی اپنی آنکھوں  پر بندھی یقین کی پٹی کو ہٹانے کی کوشش بھی گوارا نہیں کرتے۔ جس پروگرام کے ماتھے پر ہی جھوٹ لکھا ہوا ہے، اسے دیکھتے بھی ہیں اور اس پر یقین بھی کرلیتے ہیں۔

کوئی کہیں سے بھی آکرکچھ بھی بول دے، نا ہی اس کا آگا دیکھیں گے نا پیچھا۔ بس آنکھیں بند کرکے اس کے پیچھےچل پڑینگے۔ اور پھر جب یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ تو آیا ہی ہمیں بھٹکانے کے لیے تھا تو ہمارے لیے ایک اور نیا گڈریا اتار دیا جاتا ہے اور ہم پھر بھولی بھالی بھیڑوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے ہو لیتے ہیں۔

جو ہزاروں کے مجمعے میں رات کو ایک بات بول رہا ہوتا ہے تو صبح دوسری اور وہ بھی اسی دھڑلےکے ساتھ، جس دھڑلے کے ساتھ رات  کوبول رہا تھا۔ ہم سر جھکائے بیٹھے سن رہے ہوتےہیں اور پھر اس پر بلا چوں چرا یقین بھی کر لیتے ہیں کہ آپ تو جو بھی فرمائینگے بجا ہی فرمائینگے۔

آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نے کام کرنا بالکل چھوڑدیا ہے؟ جھوٹے کے پاس تو دلائل کی کوئی کمی نہیں، پہلے ایک بات پر دلائل دے رہا ہوتا ہے تو دوسرے لمحے دوسری بات کو بھی سچ  ثابت کررہا ہوتا ہے اور ہم ہیں کہ دل ہی دل میں پھولے نہیں سما رہے ہوتے کہ  ہاں یار یہ کہہ تو سچ رہا ہے۔

عوام کو تو چھوڑ دیں کہ وہ تو بےچاری ہمیشہ سے ہی بھولی ہے۔ یہ جو پڑھے لکھے ہیں اور عینک جن کے ماتھے پر ہمیشہ سجی رہتی ہے کہ  جنہیں آنکھوں پر لگانے کی  انہیں کبھی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ سوشل میڈیا پر ایک لمحے ایک رونا رو رہے ہوتے ہیں  تودوسرے لمحے دوسرا۔ وہ اگر اپنے ہی لکھے ہوئے اسٹیٹس دوبارہ پڑھ لیں تو شاید  انہیں بھی کچھ سوچنے کا موقعہ  مل جائے۔

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو

السٹریشن — خدا بخش ابڑو

جوآج ڈیموکریسی مائے فٹ کہہ رہے ہیں کل بلوچ قوم پرستوں  کے غائب ہونے اور ان کی لاشوں پر احتجاج کر رہے تھے اور بلوچستان سے فوج کی واپسی کے مطالبے کر رہے تھے۔ پھر جب معصوم ہزارہ  لوگوں کی لاشیں گرنا شروع ہوگئیں توتوجہ کا مرکز بھی بدل گیا۔ اب وہی لوگ بلوچستان کو فوج کے حوالے کرنے کے مطالبے کر رہے ہیں، جو کب سے فوج ہی چلا رہی ہے۔

یہ طالبان، جہادی، جھنگوی، لشکر و سپاہ آخر کس نے  ہمارے سروں پر بٹھائے ہیں؟ کیوں یہ بے خوف و خطر دندناتے پھرتے ہیں؟کیوں یہ کسی کی پکڑ میں نہیں آتے؟ کبھی لوگ فرقوں کی بنیاد پر مرنا شروع ہوجاتے ہیں تو کبھی قومیت کے نام پر، تو کبھی اپنے مذہب کے نام پر۔ لیکن مارنے والا کبھی بھی ہاتھ نہیں آتا۔ البتہ  گھما پھرا کر گالی جمہوریت کو ہی پڑتی ہے۔

ویسے یہ جمہوریت ہی ہے کہ ملک کا سربراہ عوام کے دھرنے میں آکر ان کے ساتھ زمین پر بیٹھتا ہے، انکی بات سنتا ہے اور مانتا بھی ہے۔ اگر جمہوریت نا ہو تو ہم دھرنا تو کیا، گھر سے باہر نکلنے کے روادار بھی نہیں ہوتے۔

ایک طرف تو دوہری شہریت والا اس ملک میں پارلیمنٹ کا ممبر بننے کا اہل نہیں۔ دوسری جانب دوہری شہریت والا دوسرے ملک سے بیٹھ کر شہر بند بھی کرواسکتا ہے تو کھلوا بھی سکتا ہے۔ اور اگر چاہے تو قتل و غارت  اور ملک توڑنے کی دھمکیاں بھی دے سکتا ہے۔ پھر دوسرا  دوہری شہریت والا ملک کے قانون اپنی مرضی سے بدلنے کے احکامات بھی جاری کرتا ہے اور اپنے حامیوں کی فوج کے ساتھ دارالحکومت پر دھاوا  بھی بول دیتا ہے۔ لیکن اس سے ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا کہ یہ سب  کچھ اگر ممکن ہے تو صرف ملک کے اصلی تے وڈے والی وارث کی منشا سے ہی ممکن ہے۔

جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ طالبان ملک دشمن ہیں اس ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ تو جب ملا اور ان کے بھائی بند جلوس نکالتے ہیں جلسے کرتے ہیں لانگ مارچ تک نکال لیتے ہیں تو کوئی دہشتگرد اس موقعے کا فائدہ نہیں اٹھاتا اور ملک کو نقصان پہنچانے کا موقعہ ہاتھ سے جانے دے دیتا ہے۔کیونکہ اس دن سارے دہشتگرد اور طالبان چھٹی پر بھیج دیے جاتے ہیں۔

لیکن اگر کوئی عوامی جماعت، کوئی عوام کے حقیقی نمائندے اس طرح جمع ہوں تو  پہلے تو نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اگر نکل آئے تودھماکے بھی ہوجاتے ہیں تو قتل و غارت بھی۔ لگتا ہے ملک کے اصل حکمران ووٹ کی طاقت سے اب بھی اتنے ہی خوفزدہ ہیں جیسے ہمیشہ سے رہتے آئے ہیں۔

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

السٹریشن — خدا بخش ابڑو –.

اب روز نیا تھیٹرلگایا جا رہا ہے اور قوم ہے کہ ٹی وی اسکرین سے نگاہ ہٹا نہیں پاتی۔ ایک ڈرامہ ختم نہیں ہوتا تو دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔ کبھی کیمرے عدالتوں کی طرف دوڑنے لگتے ہیں تو کبھی دھرنے کو کور کر رہے ہوتے ہیں ۔کبھی تو دھماکے بھی لائیو دکھا رہے ہوتے ہیں کہ انہیں اطلاع پہلے ہی  ہوجاتی ہے۔ پھر دہشتگردی کروانے والے بھی ہمیشہ فون پر دستیاب ہوتے ہیں اور ذمیداری بھی قبول کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جن کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ کوئی بھی مجرم ان سے بچ نہیں سکتا  نا ہی اوجھل ہوسکتا ہے ۔ وہ ان سے ہمیشہ اوجھل رہتے ہیں اور اِن  بے چاروں کے ہاتھ بھی چھوٹے پڑجاتے ہیں اور اُن تک پہنچ  بھی نہیں پاتے۔

تماشا جاری و ساری ہے اور تماشبین قوم سارے کام کاج چھوڑ کر ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھی ہے اور سب کچھ لائیو دیکھ رہی ہے۔ ریٹنگ کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔ آپ  کو پل پل اور لمحہ لمحہ آگاہ رکھا جارہا ہے۔ بے چارے  ڈرامہ سے وابستہ افراد جو ترک ڈراموں سے خوفزدہ تھے۔ لگتا ہےاب  ان ڈراموں کے خلاف  بھی چیخیں گے  کہ پوری تماشبین قوم تو یہی تماشا دیکھنے میں مصروف ہے۔ ٹی وی سے  اگرآنکھ ہٹتی ہے تو ایک دوسرے سے بھی اسی پر بات کرتے ہیں یا پھر فیس بک ہو یا ٹویٹر سب جگہ یہی تماشا لگا ہے۔ کوئی ادھر ادھر دیکھنے کو تیار بھی نہیں۔

انقلاب بس آنے ہی والا ہے، دستک تو سنائی دے ہی رہی ہے، ہوسکتا ہے دروازہ کھلے تو سامنے کھڑا ہو۔ نئی ٹوپی پہنے  اور نئی تراش کی داڑھی  کے ساتھ۔ آپ کو تو پہلے ہی ٹوپی پہناچکے اور آپ کو پتہ بھی نہیں لگا۔ ویسے تماشبینوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ آپ محو ِتماشا ہوتے ہیں اور کوئی جیب کترا آپ کی جیب کاٹ کے چل پڑتا ہے یا پھر آپ کو ٹوپی پہنا کے نکل لیتا ہے۔ آپ کو بعد میں پتہ لگتا ہے کہ یہ میلہ  تولگاہی آپ کی جیب کاٹنے کے لیے تھا۔


وژیول آرٹس میں مہارت رکھنے والے خدا بخش ابڑو بنیادی طور پر ایک سماجی کارکن ہیں۔ ان کے دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق سے لیکر آمرانہ حکومتوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ڈان میں بطور الیسٹریٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا بلاگ مصنف اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں

کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں

Urdu English

اپنی رائے دیجئے

6 تبصرے
  1. السلام علیکم خدا بخش ابڑو یہ جو پانچ سالا حکومت ہے اس نے عوام کو کیا دیا آپ ریلوے کو دیکھ لے پاکستان بھر میں لوڈ شیڈینگ آپ کیا سمجھتے ہیں اسے میں کوئی عوام کی حمایت میں آواز اٹھائے تو اسے کیا کہا جائے گا؟ جبکہ میں حامی نہیں بس پاکستان ترقی کرے کوئی تو ایماندار لیڈر آئے جو پاکستان کی تقدیر سوار دے

  2. Abrar کہتے ہیں

    Excellently en-lighted Pakistani nation’s mindset and beliefs

  3. Muhammad Waqas کہتے ہیں

    Khuda Bakhs sb app nay to govt ki zuban boli hai app iss baat pur shukar nahie kertay k koi to bola hai iss awam k liye app sari zindagi sartay rahie isssi terha jahan na bijli hai na gas hai aur app jaisay loog jo tora bht likhna jantay hein woo b jaheloon ki jaisay batien kertay hein

  4. حسین عبد اللہ کہتے ہیں

    گھبراو مت میرے بھائی جتنے لوگ سڑکوں پر نکلے تھے کوئٹہ سی لیکر ڈی چوک تک وہ امن پسند اور جمہوریت دوست ہیں جس کا عملی ثبوت آپ کو مل گیا ہے لیکن انتہا پسند سیکولرز اور جمہوری انتہاپسندی بھی یا درست کہوں تو جمہوری ڈکٹیٹرشب کو لگام بھی دینی پڑتی ہے اور یہ احتجاج دھرنے۔۔۔یہ لگام ہی تو ہے
    اسے روکوگے تو پھر مذہبی انتہا پسندی شروع ہوگی کیا ھم انتہا پسندیوں سے دور نہیں رہ سکتے ۔۔۔۔۔۔۔انسانی حقوق کے نعروں کی مثال ہمارے جیسے ممالک کے لئے کھودا پہاڑ نکلا چوہا ہے یہ جنہوں نے بنائے ہیں انہیں ہی ساجے ۔۔۔۔۔۔آج تک اس انسانی حقوق نے پریس ریلیز جاری کرنے چند درجن فیشن ایبل مرد خواتین کو سڑکوں پر کچھ دیر شور مجوانے کے علاوہ کیا گیا ہے ؟؟؟؟؟؟سوچئے زرا ناراض مت ہو جائے

  5. ملک عوام سیاست میڈیا مزدور کسان غریب سب کو یۂ فیصلہ کرنا هوگآ کۂ اس ملک کو یا وه چلاینگے یا؟؟؟؟ ورنہ اس ملک کا وجود هی نہیں رہے گآ

  6. Salman Ahmed کہتے ہیں

    Feeble minds get provoked easily. Perhaps solution lies in to avoid them from intoxication by religious dogmas. Educate masses on equitable and rational lines. Set rules to contain religious gatherings with in walls. Let democracy and democratic forces take lead. Perhaps this is the only way to fast educate masses.

%d bloggers like this: