سانحہ بلدیہ، مالکان کیخلاف کیس واپس لے لیا گیا

Thursday 24 January 2013
1

فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے خزانہ سلیم مانڈوی والا کے مطابق علی انٹرپرائیزز کے مالکان  کے خلاف تین سو دو کی دفعہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے حکم پر واپس لی گئی ہے۔

ڈان نیوزکے مطابق بدھ کے روز سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نےکراچی چیمبر کے دورہ کے موقع پر یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت فیکٹری مالکان کیخلاف دفعہ تین سو دو واپس لے لے گی۔

حکومت کی طرف سے کیس میں ضمنی چالان جمع کرایا گیا ہے جس کی  ایف آئی آر میں موجود مل مالکان کے خلاف تین سو دو کی دفعہ واپس لے لی گئی ہے۔

 واضح رہے کہ گزشتہ سال گیارہ ستمبر کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آگ لگنے سے ڈھائی سوسے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ آگ لگنے پر مزدوروں نے باہر نکلنے کی کوشش کی جس پر مینجر نے فیکٹری کا واحد دروازہ ہی بند کر دیا تھا۔

کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں

Urdu English

اپنی رائے دیجئے

ایک تبصرہ
  1. انور امجد کہتے ہیں

    صنعتی حادثات میں لاپرواہی، غلطی وغیرہ کے الزامات تو لگائے جا سکتے اور ثابت ہونے پر سخت سزا بھی دی جاسکتی ہے لیکن مالکان پر یا کسی اہلکار پر قتل کا الزام لگانا زیادتی ہے۔ اگر سانحہ بلدیہ میں جذباتی ہو کر کسی پر دفعہ تین سو دو لگائی گئی ہے تو وہ غلط ہے اور اس کو واپہس لینا چاہیے۔ ورنہ بہت غلط روایت قائم ہو گی اور یہ پاکستان کی صنعت کے لئے نقصاندہ ہوگی۔ اس حادثہ پر سستی شہرت حاصل کرنے کی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ مگر یہ کیس بند نہیں ہونا چاہیے اور اس حادثہ کی پوری تحقیقات ہونی چاہیے اور جن کی لاپرواہی یا غلطی کی وجہ سے یہ سانحہ ہوا ہے ان کو سخت سزا دی جائے۔