مصوری ایک فن
پاک – انڈیا کشیدگی
چھ جنوری سے لائن آف کنٹرول پر شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا اندیشہ لاحق ہو گیا تھا لیکن سولہ جنوری کو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدہ نے ان خطرات کو کسی حد تک کم کر دیا۔
ایل او سی کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان بحال ہونے والی تجارت نے بھی ماحول پر طاری تناؤ کی کیفیت کو کم کرنے میں اپنا کردار کیا۔
تجارتی سامان سے لدے چھ پاکستانی ٹرک 29 جنوری کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں داخل ہوئے اور یوں بیس دن سے تجارتی سلسلے میں جو تعطل پیدا ہوگیا تھا، وہ دور ہوگیا۔
پانچ فوجیوں کی ہلاکتوں سے سرحد پر بھڑکنے والی کشیدگی کی آگ سے شدید تشویش میں مبتلا دونوں ممالک کی تاجر برادری نے تجارت کے دوبارہ آغاز کا خیرمقدم کیا ہے۔
خاص طور پر پاکستانی تاجروں نے، جن کا تین کروڑ روپے کی مالیت کا سامان رک گیا تھا۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں تاجروں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ کاشان مسعود کہتے ہیں:‘‘ہم نے ٹماٹروں اور دیگر سبزیوں کے آرڈر پورے کرنے تھے جو انڈیا کی جانب سے ہمیں دیے گئے تھے۔اس تجارتی تعطل کی وجہ سے وہ سب سڑ گل جاتیں اور ہمیں تین کروڑ کا نقصان اُٹھانا پڑتا۔’’
انہوں نے بتایا کہ‘‘ہم تو مستقل خوف کی حالت میں رہتے ہیں کہ جب بھی کبھی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پیدا ہوگی تو ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچ جائے گا۔چنانچہ اس تجارتی سلسلے کو ہم اپنے رسک پر جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں حکام کی طرف سے کوئی ضمانت حاصل نہیں ہے۔’’
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ دونوں ممالک میں نچلی سطح پر کی جانے والی تجارت اور روزانہ کے تحت انفرادی سطح پر تجارت کرنے والے محنت کش طبقے کے اس نقصان کی تلافی دونوں حکومتوں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی افواج کو بھی کرنی چاہئے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تاجروں کو حفاظتی دستے فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں تناؤزدہ صورتحال میں بھی جاری رکھ سکیں؟
تازہ ترین صورتحال جوسامنےآئی ہے، وہ یہ ہے کہ تجارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے انڈیا اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سرحدی پوائنٹ ٹیٹرینوٹ چاکان دا باغ کو دوبارہ کھولا جارہا ہے۔
لائن آف کنٹرول کے اطراف پھنسے ہوئے 135 سے زیادہ مسافروں نے دیگر مسافروں کے ساتھ 28 جنوری کو تین ہفتے سے بند رہنے والے کراسنگ پوائنٹ کے دوبارہ کھولے جانے پر سفر کیا۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں محکمہ تجارت و سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر (ر) محمد اسماعیل ایل او سی کے ذریعے ہونے والی سیاحت کے حوالے سے بہت آزردہ تھے، جو ہرقسم کے اعتماد کی بڑھوتری کا پیمانہ سمجھی جاتی ہے، اور لائن آف کنٹرول پر تعینات سپاہیوں پر انحصار کرنے کی وجہ سے بہت نازک ہوچکی ہے۔
اسماعیل کہتے ہیں کہ تجارت و سیاحت کو ترقی دینے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ تلخ حقائق یہ ہیں کہ دونوں اطراف کے تاجروں اور سیاحوں کا اعتماد بحال کیا جائے جو اس طرح کے واقعات کی وجہ سے خاصا متزلزل ہوچکا ہے، اور ان کی وجہ سےآئے دن تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی ہوجاتی ہیں۔
کیا مسافروں کے تحفظ کے لیے اقدامات نہیں اُٹھائے جائیں، اس کے علاوہ ایک صحتمندانہ، تعمیری اور مشترکہ ثقافتی رشتوں کو مضبوط نہ بنایا جائے؟ جو سیاحت، کاروبار، کنٹرول لائن کے اس پار تجارت، خیالات کے تبادلے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی آبیاری کر سکتا ہو؟
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
- Dawn, dawn blog, Dawn editorials, Dawn News, Dawn Newspaper, dawn urdu, dawn urdu news. ڈان اردو, Dawn website, Dawn.com, DawnNews, indian administered kashmir, Indian Kashmir, Indo-Pak dialogue. Kashmir issue., Kashmir, line of control, Line of Control (LOC), LOC, Pakistan, urdu.dawn.com, ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر, ڈان نیوز, ڈان ویب سائٹ, ڈان ڈاٹ کام, ڈان اخبار, ڈان اردو, ڈان اردو خبریں, پاکستان, آزاد کشمیر, ایل او سی
اسی صفحہ سے
کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں
Urdu Englishاپنی رائے دیجئے
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- این اے 250: عارف علوی 17 ہزار ووٹ لیکر کامیاب
- سندھ کا ٹھپہ گروپ
- حیدرآباد میں پی ٹی آئی کے رہنما پر حملہ
- کراچی، تحریک انصاف سندھ کی نائب صدر زہرہ شاہد قتل







بھارت هماره اور هم بھارت کے همسایۂ هے اور همسایۂ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا لہذا اچھے دوستانہ تعلقات دونوں ملکوں کے عوام کے بہترین مفاد میں هے دونوں ملکوں کو تجارت کےعلاوہ دیگر شعبوں میں بھی ایک دوسرے کی مدد کرنا چاهیے اور اس سلسلے میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنا حکومت کا کام اور ذمہ داری هے اس سلسلے میں غیر متعلقۂ عناصر سے پوچھنے/رائےکی قطعآ ضرورت نہیں هندوستان بڑا ملک هے اور ان سے تجارتی روابط پاکستان کے حق میں هے.
بھارت هماره اور هم بھارت کے همسایۂ هے اور همسایۂ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا لہذا اچھے دوستانہ تعلقات دونوں ملکوں کے عوام کے بہترین مفاد میں هے دونوں ملکوں کو تجارت کےعلاوہ دیگر شعبوں میں بھی ایک دوسرے کی مدد کرنا چاهیے اور اس سلسلے میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنا حکومت کا کام اور ذمہ داری هے اس سلسلے میں غیر متعلقۂ عناصر سے پوچھنے/رائےکی قطعآ ضرورت نہیں هندوستان بڑا ملک هے اور ان سے تجارتی روابط پاکستان کے حق میں هے.شروع سے آج تک تجارتی ٹرک بغیر کسی تنازعۂ کے اشیاء کی آمدورفت جاری هے جو اس بات کی واضح دلیل هے کۂ عوام اس سے حوش اور مطمئن هیں
بھارت هماره اور هم بھارت کے همسایۂ هے اور همسایۂ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا لہذا اچھے دوستانہ تعلقات دونوں ملکوں کے عوام کے بہترین مفاد میں هے میری ذاتی رائے هے که بشمول بھارت تمام همسایۂ ممالک کے امن اور جنگ نۂ کرنے کے معائدے کرنے چاہیے اور ایران افغانستان بھارت اور چین اس میں شامل هوں اور تمام ممالک دفاعی اداروں اور اخراجات میں بتدریج کمی کریں تاکہ تمام ممالک کے عوام کیلئے ترقی ذیادہ مواقعے میسر هوں بھارت اور پاکستان کو تجارت کےعلاوہ دیگر شعبوں میں بھی ایک دوسرے کی مدد کرنا چاهیے اور اس سلسلے میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنا حکومت کا کام اور ذمہ داری هےاس سلسلے میں غیر متعلقۂ عناصر سے پوچھنے/رائےکی قطعآ ضرورت نہیں هندوستان بڑا ملک هے اور ان سے تجارتی روابط پاکستان کےحق میں هے.چھوٹی سطح پر شروع تجارت کے نتائج بہت هی حوصلہ افزا هیی اسکو مزید وسعت دینے کی ضرورت هے