رنبیر اور دیپیکا جادو بکھیرنے آگئے
کراچی بدامنی: تین علماء سمیت سترہ افراد ہلاک
کراچی: کراچی میں فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں تین علما سمیت 17 افراد ہلاک ہو گئے۔
کراچی کی مصروف شاہراہِ فیصل پر نرسری کے قریب موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ایک ہائی روف پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود تین افراد ہلاک ہوگئے۔ تمام افراد ایک دینی تعلیمی ادارے سے وابستہ تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں مفتی صالح، مفتی عبدالمجید دین پوری اور مفتی حسان شامل تھے۔ تینوں افراد جامعہ اسلامیہ درویشیہ جارہے تھے۔
واقعے کے بعد مدرسے کے طلبا و طالبات کی بڑی تعداد جناح اسپتال پہنچ گئی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں کاروبار بند ہوگیا۔
تینوں علما کی نماز جنازہ جامعہ بنوریہ گرومندر میں ادا کی گئی جس کے بعد مقتولین کو سپرد خاک کر دیا گیا۔
دوسری جانب شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا اور دیگر واقعات میں بھی 14 افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔
لانڈھی نمبر تین پر بابر مارکیٹ کے قریب فائرنگ سے اقبال نامی شخص ہلاک ہوگیا، بھینس کالونی میں فائرنگ سے ایک شخص چل بسا۔
لیاری گھاس منڈی کے قریب سے ایک نوجوان کی بوری بند لاش ملی جسے اغوا کے بعد قتل کیا گیا جبکہ سرجانی ٹاؤن سے دو افراد کی لاشیں ملیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔
سائٹ میٹروول میں ایک شخص کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، سہراب گوٹھ میں ایک شخص کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔
ٹمبر مارکیٹ سے ایک جبکہ بلدیہ ٹاؤن قائم خانی کالونی سے اورنگی ٹاؤن کے رہائشی تین نوجوانوں کی بوری بند لاشیں ملیں جنہیں اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔
شرافی گوٹھ اور کورنگی پانچ نمبر کے قریب بھی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ حیدری مارکیٹ کے قریب رکشے پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
شہر میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور خصوصاً علما کے قتل کے بعد وزیرِ اعلیٰ سندھ، سید قائم علی شاہ نے شرپسندوں اور جرائم پیشہ افراد کیخلاف بھرپور کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
اسی صفحہ سے
کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں
Urdu English






اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے، ۴۰ ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے
بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستا ن اور پولیس اور تھانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ طالبان ،لشکر جھنگوی اور القائدہ ملکر پاکستان بھر مین دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں.
…………………………………………
اقبال جہانگیر کا تازہ بلاگ : پاکستان میں دہشت گردی کے گہرے سائے
http://www.awazepakistan.wordpress.com
.