بالی وڈ اسٹارز کی ایجوکیشن
شکست کی وجہ ٹیسٹ کرکٹ پر عدم توجہ ہے، سابق کرکٹرز

فائل فوٹو اے۔
کراچی: سابق کرکٹرز نے جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں تین صفر سے وائٹ واش کا ذمے دار ٹیسٹ کرکٹ پر عدم توجہی اور پاکستان میں کرکٹ کے ناقص سسٹم کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو اپنے نظام کو درست اور ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جنوبی افریقہ نے سنچورین میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو شکست دے کر سیریز میں کلین سوئپ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سمر سیزن کا بھی شاندار طریقے سے اختتام کیا ہے، پروٹیز نے اس سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں 2-0 سے کلین سوئپ کیا تھا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ کیلیے درکار تیاریوں کے بغیر سیریز میں شرکت کی۔
اس بات کی پہلے ہی پیشن گوئی کر دی گئی تھی، جنوبی افریقہ اس سیریز کیلیے مکمل تیار تھا لیکن ہم ٹیسٹ کرکٹ کیلیے درکار تیاریوں کے ساتھ نہیں گئے جس کی قیمت چکانی پڑی۔
پاکستان کو ٹیسٹ اور ون ڈے کیلیے علیحدہ علیحدہ ٹیمیں بنانی چاہئیں، راشد لطیف۔
پاکستانی بلے باز پوری سیریز میں جنوبی افریق کی تیز اور باؤنسی پچز پر ڈیل اسٹین اور ورنون فلینڈر پر مشتمل حریف باؤلنگ اٹیک کیخلاف جدوجہد کرتے دکھائی دیے، ان دونوں فاسٹ باؤلرز نے سیریز میں مجموعی طور پر 35 وکٹوں کا بٹوارا کیا۔
یاد رہے کہ قومی ٹیم جوہانسبرگ میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ یں ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے کم ترین اسکور 49 پر ڈھیر ہو گئی تھی اور اسے ٹیسٹ میں 211 رنز کے بھاری مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے یونس خان اور اسد شفیق کی سنچریاں سے تقویت پاتے ہوئے 328 رنز کا مجموعہ حاصل کر لیا تھا تاہم دوسری اننگ میں بیٹنگ لائن کی ناکامی کے باعث ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یونس اور اسد کی سنچری کے علاوہ پوری سیریز میں پاکستانی بلے باز جنوبی افریقی پچز پر پریشانی کا شکار دکھائی دیے، پاکستان کیلیے سب سے بڑا دھچکا اوپنر محمد حفیظ کی کارکردگی تھی جو تین ٹیسٹ میچز کی چھ اننگزمیں صرف 43 رنز بنا سکے۔
سابق چیف سلیکٹر عامر سہیل نے کہا کہ پاکستان کو گراس روٹ لیول پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ایک نیا لڑکا ٹیم میں آتا ہے تو اس میں کچھ تکنیکی خامیاں ہوتی ہیں جن کو دور نہیں کیا جاتا جبکہ دوسری جانب جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا اس چیز پر کام کرتے ہوئے دنیا کرکٹ پر حکمرانی کر رہے ہیں۔
ایک اور سابق کرکٹر اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان راشد لطیف نے پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دینے پر زور دیا۔
سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ٹیسٹ اور ون ڈے کیلیے علیحدہ علیحدہ ٹیمیں بنانی چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ پلیئرز سمجھتے ہیں کہ وہ تینوں طرز کی کرکٹ کیلیے موزوں ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی خراب کارکردگی سے ٹیم کی پرفارمنس متاثر ہوتی ہے۔
دوسری جانب شائقین کرکٹ کرکٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو صرف ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے چاہئیں۔
شہر کراچی کے علاقے صدر میں دکان کے مالک عاصم احمد کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ کا اسٹائل پاکستان سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کیلے صبر وتحمل اور لچک درکار ہوتی ہے اور ہمیں یہ دونوں چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی ٹیم دورے میں جنوبی افریقہ کیخلاف 2 ٹی ٹوئنٹی اور پانچ ایک روزہ میچز بھی کھیلے گی۔
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
اسی صفحہ سے
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- نون لیگ کے رہنما کی ساڑھے پینتالیس کروڑ کی گھڑی: شازیہ مری کا دعویٰ
- بلوچستان میں لشکرِ جھنگوی
- اسلام آباد: ٹی ٹی پی کی جانب سے بزنس مینوں سے بھتے کا مطالبہ
- چندر بھان کا جھنگ





