بالی وڈ اسٹارز کی ایجوکیشن
بجلی غائب، سازشیں شروع
اتوار کی رات ملک کا بیشتر حصہ اندھیروں میں ڈوب گیا تھا۔ جہاں ملک کے بڑے بڑے شہروں سے روشنی غایب تھی، وہیں ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر کہیں گھبراہٹ اور کہیں خوشی کا اظہار کیا جارہا تھا۔ کچھ لوگ تو کسی دہشت گردی کے واقعے، سائبر حملے، یہاں تک کے فوجی بغاوت کی بھی قیاس آرائیاں کرتے نظر آئے:
اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان میں بجلی کا اچانک غایب ہونا کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں، جلد ہی گھبراہٹ پھیلنے لگی اور لوگوں کو موبائلوں پر ‘کچھ گڑبڑ ہے’ کے پیغامات موصول ہونے لگے۔
بجلی کا اچانک غایب ہونا وہ واحد پیش رفت نہیں ہے جسے لوگ ‘سازش’ کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔
ہماری میڈیا اور سیاست دان لفظ ‘سازش’ کا استعمال عام جام کسی بھی حوالے سے کرتے رہتے ہیں۔ چاہیں پھر وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) یا مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کے رہنما کیوں نہ ہوں جو جمہوریت کے خلاف ہونے والی ‘سازشوں’ کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔
یہاں تک کے پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک یا پھر دفاع پاکستان کونسل کے رہنما پاکستان میں ہونے والے واقعات میں ‘بیرونی ہاتھ’ تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔
آپ کی نظر میں یہ سب قیاس آرائیاں آخر کتنی جائز ہیں؟ پاکستان کے مسائل بشمول بجلی کا بحران، دہشت گردی، کمزور سویلین حکومت اور دیگر کو سازش سے جوڑنا کتنا درست ہے؟ کیا ان افواہوں میں کچھ صداقت بھی ہوتی ہے؟
اس حقیقت کے باوجود کے اس طرح کی افواہوں میں صداقت ہونے کا امکان کم ہی ہے، کیا پاکستان میں ماضی میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر لوگ فرضی سازشیں بنالیتے ہیں؟
ڈان اردو آپ کی قیمتی آراء کا منتظر رہے گا۔
اسی بارے میں
اسی موضوع پر
اسی صفحہ سے
کمنٹس کے لیے زبان سیلکٹ کریں
Urdu Englishاپنی رائے دیجئے
مقبول ترین
- خبریں
- رائے
- ملٹی میڈیا
- نون لیگ کے رہنما کی ساڑھے پینتالیس کروڑ کی گھڑی: شازیہ مری کا دعویٰ
- بلوچستان میں لشکرِ جھنگوی
- مردان دھماکہ: ہلاک ہونے والوں کی تعداد چونتیس ہوگئی
- کامیڈی کا گرتا معیار









اس واقعہ سے ایک بات ثابت هوگئی هے که ملک کے لوگ مارشللا کو کتنی قریب اور کتنی آسان سمجھتی هے جو که همارے ملک کی انتہائی بدقسمتی هے
همارا صوبہ خیبر پختونخوا آج بھی 5هزار میگا وواٹ بجلی پیدا کررہا هے اور صوبے کی زیادہ سے زیادہ ضرورت 16سو میگا واٹ هے اسکے باوجود یہاں پر 20/22 گھنٹے لوڈشیڈنگ هورهی هے اور بجلی کے نرخ بھی ملک کے برابر وصول کی جاتی هے جو کۂ ناجائز اور غیر قانونی هے کوئی اسکا نہیں پوچھ رہا هے اپنے وسائل پر اپنا اختیار والوں نے بھی پانچ سال حکومت کی انہوں نے دوران حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا ایزی لوڈ اور نوکریاں اور ٹهیکے فروخت کرنے میں نام کمایا اور مال بنایا