03:30 pm
بیگم حضرت محل کی کہانی

راشد رحمان اور کینزی مورد۔ — سارہ فاروقی / ڈان ۔کام
03:00 pm
دخترِ مشرق ‘ڈاٹر آف ایسٹ’ کیسے لکھی گئی

لنڈا برڈ فرینک اور وکٹوریہ سکوفیلڈ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے۔ — سارہ فاروقی / ڈان۔ کام
02:45 pm
ابھرتے ایشیاء میں امیر کیسے بنا جائے

چکل سرکار اور محسن حامد ۔ — سارہ فاروقی / ڈان۔ کام

محسن حامد کو سننے کے لیے ہال کچھا کچھ بھرا ہوا تھا۔ — سارہ فاروقی / ڈان ۔ کام
اگر آپ کے پاس پاکستان میں پیسہ نہیں تو آپ مر جائیں گے۔ محسن حامد
کاش ہال کے باہر ہوا میں پیلے غباروں کے بجائے پیلی پتنگیں آڑ رہی ہوتیں۔ محسن حامد
12:30 pm
منٹو

عائشہ جلال اور ماڈریٹر علی سیٹھی۔
منٹو پر گفتگو کرنے کے لیے عائشہ جلال سے بہتر انتخاب اور کس کا ہو سکتا تھا۔
جلال کا کہنا تھا کہ منٹو نے کبھی بھی ان چیزوں کے بارے میں نہیں لکھا جن کا انہیں تجربہ نہ ہوا ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی کہانیاں وقتی نہیں بلکہ انسانی فطرت پر مبنی ہیں۔
جلال کا ماننا ہے کہ اگر برصضیر کی تقسیم نہ ہوتی تو منٹو بہت بڑے مصنف کا اعزاز پاتے۔
‘تقسیم ہند کے تجربے نے منٹو کی تحریر میں نکھار پیدا کیا’۔
حاضرین سے سوال و جواب کے دوران جلال نے کہا کہ اگر انہیں منٹو کو ایک لفظ میں بیان کرنےھ کے لیے کہا جائے تو وہ انہیں ‘ جییئس’ کہیں گی۔
انہیں خدشہ تھا کہ ایک دن سعادت حسن تو مر جائے گا لیکن منتو ہمیشہ ذندہ رہے گا۔ تحریر فراز خان
میرے خیال میں منٹو کے کام کا اب تک پوری طرح سے ترجمہ نہیں کیا گیا- عائشہ جلال
12:00 pm
خواتین کی آواز

منیزہ ہاشمی اور فائزہ ایس خان
خواتین کی آواز کے عنوان سے منعقد ہونے والے سیشن میں منیزہ ہاشمی اور فائزہ ایس خان کے درمیان عورتوں کے مسائل پر مرد اور خواتین لکھاریوں کے طرز تحریر میں فرق پر دلچسپ گفتگو سننے کو ملی۔
دونوں تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ مقامی فکشن میں مرد لکھاریوں کا غلبہ ہے اس لیے جانبداری کا عنصر واضح نظر آتا ہے۔
سیشن میں پاکستانی فکشن لکھنے والوں کے اب تک کے سفر پر بھی طویل بحث سننے کو ملی۔ شمسی تسلیم کرتی ہیں کہ پاکستان میں انگریزی کے مقابلے میں اردو فکشن رائٹنگ کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں فہمیدہ ریاض اور رشید جہاں جیسے لکھاریوں نے انگریزی فکشن لکھنے والوں کو آؤٹ کلاس کیے رکھا لیکن آج مونی محسن اور کاملہ شمسی نے اس میدان میں اپنی مہر ثبت کر دی ہے۔
تاہم منیزہ نے شکایت کی کہ انگریزی فکشن لکھنے والوں نے خود کو دھیمے پن پر مشتمل جدید انداز تک محدود کر رکھا ہے۔
مقامی فکشن لکھنے والوں کے سٹائل کا موازنہ شارلیٹ برونٹ اور جین آئیر جیسے بین القوامی مصنفوں سے کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ نگاروں نے مقامی فکشن لکھنے والوں کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ تحریرمریم پرویز
11:30 am

عوام کی بڑی تعداد میلے کے دوسرے دن بھی مختلف سیشنز میں شریک نظر آ رہی ہے۔ — تابندہ صدیقی / ڈان ۔ کام

ادبی میلے کے رضاکاروں کا گروپ فوٹو۔
11:15 am
اردو فکشن اور شاعری

افضل احمد سعید، علی اکبر ناطق، خالد طور، مشرف علی فاروقی۔ — فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان ۔ کام
11:00 am
کامن ویلتھ، قوم پرستی اور عالمگیریت

مینزے شمسی، چِکل سرکار، جیت تھیال، ندیم اسلم اور شیہان کرونا لیکا۔ — فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان ۔کام
میرے سماجی پس منظر کے تحت اگر میں پاکستان میں ہی رہ جاتا تو مصنف نہ بن پاتا- ندیم اسلم
ہندوستان میںانگریزی میں ادب لکھنے والوں کے برعکس انگریزی میں شاعری کرنے والوں پر زیادہ تنقید ہوتی ہے۔- جیت تھیال
10:45 am
پنجاب میں اردو ادب کا مستقبل

انتظار حسین اور اصغر ندیم سید موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ — فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان ۔ کام
10:30 am
گمشدہ کہانیاں

انتظار حسین اور اصغر ندیم سید موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ — فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان ۔ کام
ڈان ۔ کام لاہور ادبی میلے کے دوسرے روز آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔
اتوار کی خوبصورت صبح ہے اور لوگ الحمرا پہنچ رہے ہیں، جہاں آج پھر دانشور، ادیب اور مصنف انمول موتی بکھیریں گے۔
ڈان ۔ کام مختلف سیشنز کی خاص خاص باتوں اور تصویروں کے ساتھ آپ کو میلے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھے گا۔
07:15 pm
لاہور ادبی میلے کا پہلا روز اپنے اختتام کو پہنچا ۔ لاہور کے شہریوں نے آج فہم و آگہی اور شعور کی باتیں سنیں اور جب وہ اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ مزید معلومات، نئے خیالات اور تازہ فکر بھی تھی۔
طنز و مزاح کے سیشن میں جہاں قہقے بلند ہوتے رہے، وہیں ‘کیا پاکستان جدید ملک ہے؟’ نامی سیشن کے شرکاء خاموشی سے سنجیدہ گفتگو پر اپنی توجہ مرکوز کیے دکھائی دیے۔
ڈان ۔ کام کی آج کی خصوصی کوریج اپنے انجام کو پہنچی۔ کل نئے دن ، نئے سیشنز کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے۔
06:15 pm
شاعری اور ترجمے پر زہرہ نگاہ کے خیالات

زہرہ نگاہ اور انتظار حسین موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ — سارہ فاروقی / ڈان ۔ کام
05:00 pm
مزاحمتی ادب

علی دایان حسن، بشارت پیر، سلمٰی دباگ، محمد حنیف، لیس ڈوسیٹ اور انودتی رائے اسکائیپ کے ذریعے سیشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ — فوٹو تابندہ صدیقی
04:30 pm
قومی داستانیں اور حکایات

بشارت پیر، اوون بینیٹ جونز، اوروشی بٹالیہ اور سارہ سنگھ موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں جبکہ خالد احمد سیشن ماڈریٹ کر رہے ہیں۔ — فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان ۔ کام
قومی حکایات آپ کی شناخت سے جڑی ہوتی ہیں – سارہ سنگھ
اگر آپ اہم مسائل پر اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکتے، تو پھر یہ ایک مسئلہ ہے – اوون بینیٹ جونز
04:15 pm
ادب اور لاہور

انتظار حسین، ایبا کوچ، رافع عالم، باپسی سیدھوا اور پران نیوائل۔ — فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان ۔کام
لاہور کو بیان کرنا ممکن نہیں، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ پران نیوائل
میرے خیال میں کسی اور شہر میں لاہور سے زیادہ کھانے کی جگہیں موجود نہیں۔ آج بھی اس شہر کا اتنا ہی لطف اٹھایا جا سکتا ہے جتنا ماضی میں – باپسی سیدھوا
03:50 pm
‘شاعر مشرق’
علامہ اقبال کی شہرت مشرق کی سرحدوں سے کہیں آگے پہنچ چکی ہے۔ مغرب اور دوسرے اسلامی ملکوں کے بے شمار مصنف، مترجم اور تنقید نگاران کے کام کی جانب متوجہ ہوئے، جو ان کے ایک عالمی ادبی شخصیت ہونے کا ثبوت ہے۔ علامہ اقبال اسلامی تہذیب کی سیاسی اور روحانی احیاء کے بھرپور حامی تھے۔




تصاویر۔— سارہ فاروقی
03:30 pm
فیض کا ترجمہ

رضا رومی اور محمود جمال فیض کی شاعری کے ترجمے پر ایک سیشن میں گفتگو کر رہے ہیں۔ — فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان۔ کام
03:05 pm
کیا پاکستان جدید ملک ہے؟

پینل کے ارکان اس موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ —فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان ۔کام

اس موضوع پر شرکاء کی دلچسپی کا اندازہ ان کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے۔ —فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان ۔کام
پاکستانی ریاست کا بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود کو جدید سمجھتی ہے۔ عائشہ جلال
حکومتی امور سر انجام دیتے ہوئے ریاست اور مذہب کو علیحدہ رکھا جانا چاہیے – طارق علی
دانشور طبقہ کو مذہب پر گفتگو کرنی چاہیے، لیکن یہاں مذہب کو نقصان پہنچانے والے ہی اس پر گفتگو کر رہے ہیں جبکہ پڑھا لکھا طبقہ اس حوالے سے زیادہ علم حاصل ہی نہیں کرنا چاہتا – عائشہ جلال
02:45 pm
طنز و مزاح

طنز و مزاح پر ایک سیشن کے پینل ارکان گفتگو کرتے ہوئے ۔ — فوٹو تابندہ صدیقی / ڈان ۔ کام
میرے طنز و مزاح کا مقصد لوگوں کو ہنسانا اور انہیں سوچنے پر مجبور کرنا ہے – مونی محسن
لوگ مزاح اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ وہ دوسروں کی کہانی ہو اور خود ان کا کوئی تعلق نہ ہو – مونی محسن
لکھاریوں کو زیادہ تر بس باتیں بنانے کی عادت ہے – محمد حنیف
زندگی بہت تھوڑی ہے، بالخصوص میری – شیہان کرونا لیکا
طنز دراصل مزاح کی ایک عظیم روایت ہے – ولیم ڈیل ریمپل
02:00 pm

لاہور میں بارش کے باوجود لوگ ادبی میلے میں شریک ہو رہے ہیں۔
01:30 pm

کھانے کا وقفہ ہو چکا ہے، اس دوران میلے کے شرکاء اسٹالز پر اپنے پسندیدہ موضوعات پر کتابیں دیکھ رہے ہیں۔
01:00 pm

کینز مورد فرانسیسی صحافی اور مصنف ہیں۔ — فوٹو سارہ فاروقی / ڈان ۔کام
فیسٹیول میں فہم و فراست کا میعار بہت اعلٰی ہے۔ اس سے سیاسی مسائل اجاگر ہو رہے ہیں جو آج کے پاکستان کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ کینز مورد
11:30 am
پاکستانی ادب کی عالمگیریت

اس موضوع پر پینل کے ارکان اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ — فوٹو سارہ فاروقی / ڈان۔ کام
لکھنے کے لیے آپ کسی موضوع کا چناؤ نہیں کرتے بلکہ وہ موضوع خود آپ کا انتخاب کرتا ہے – دانیال محی الدین
میں سیکس پر نہیں لکھ سکتا کیونکہ اچھے سیکس پر لکھنا مشکل کام ہے – مونی محسن
11:30 am
دی بلائنڈز مین گارڈن

ندیم اسلم اپنے ناول پر ڈیکلن والش سے گفتگو کر رہے ہیں۔ — سارہ فاروقی / ڈان ۔ کام

ندیم اسلم کے سیشن میں شرکاء بڑی تعداد میں موجود نظر آئے۔ — فوٹو سارہ فاروقی / ڈان ۔ کام
ندیم اسلم کی مٹی مشرق کی لیکن پروان مغرب کی ہے – ڈیکلن والش
اس ناول کو لکھنے کا مقصد سیاست پر فکشن کی تخلیق تھا – ندیم اسلم
میں پاکستان میں غلطی کرنے سے نہیں گھبراتا – ندیم اسلم
11:00 am
چائنا مین – دی لیجنڈ آف پرادیپ میتھیو

ناول کے سری لنکن مصنف شیہان کرونا لیکا کا دوران گفتگو ایک انداز۔ — فوٹو سارہ فاروقی / ڈان۔ کام
چائنا مین بنیادی طور ایک جاسوسی ناول تھا- شیہان کرونا لیکا
10:15 am
سیاست اور ثقافت – طارق علی کے ساتھ

معروف تاریخ دان طارق علی نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ — فوٹو سارہ فاروقی / ڈان ۔کام
کراچی کے بعد لاہور کی تاریخ کا پہلا لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ دو روز تک جاری رہنے والے فیسٹیول کا آج پہلا روز ہے۔
This is one of the best sites promoting news other than War and hatred….. I love this site to visit again and again.