24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

عدالت قانون سازوں کی مدد کرسکتی ہے: چیف جسٹس

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری۔—فائل فوٹو

راولپنڈی: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عدالت ، قوانین اور قواعد و ضوابط میں ترمیم کے حوالے سے قانون سازوں کو ہدایات دے سکتی ہے۔

راولپنڈی میں جوڈیشل کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جج صاحبان قانون سازی نہیں کرسکتے لیکن کم سے کم اپنے تجربے اور تحقیق کی بنیاد پر فیصلوں کے ذریعے قائم فرسودہ قوانین اور قوانین میں ضروری تبدیلیاں کرنے کے لئے قانون سازوں کی مدد ضرور کرسکتے ہیں۔

جسٹس افتخار کا کہنا تھا کہ عدلیہ شہریوں کے حقوق اور ان کو فراہم کی ہوئی آزادی کی محافظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ عوام کی مشکلات اور پریشانیوں سے پوری طرح واقف ہے اور اس کے لیئے اقدامات بھی کررہی ہے۔۔

چیف جسٹس پاکستان افتخارمحمد چوہدری کہتے ہیں کہ ججز اور وکلاء کو چاہیے کہ آئینی تجاوز اور من مانیوں کے خلاف دیوار بن جائیں تاکہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنا سکیں۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ مضبوط عدلیہ ہی تمام چھوٹے بڑے اور امیر غریب کا فرق مٹا سکتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن نے عدلیہ کی آزادی کے لیئے سب سے پہلے قدم اٹھایا تاکہ اس ملک میں عدلیہ آزاد ہوسکے۔

اس موقعے پر جسٹس شاکراللہ جان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی بحالی نے ججز کو کیسز کے فیصلے قانون کی رو سے کرنے اور حکمرانوں کی مرضی کو جانے بغیر کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بطور ایکٹینگ چیف الیکشن کمیشنر انتخابی فہرستوں سے خامیاں دور کرکے اور نئے کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں کو پچیس جولائی تک جاری کرنے کے اقدامات کیئے ہیں۔

ادھر جسٹس عمر عطا بندھیال کا کہنا تھا کہ تقریباً تین سو جعلی وکیل لاہور ہائی کورٹ کے بار کی لسٹ میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء ایسوسیشن کو اپنی ہڑتال پر جانے والی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے کیوں کہ اس سے مدعیوں کو خاصہ تقصان پہنچتا ہے۔

اس حصے سے مزید

وفاقی حکومت نے آزادی تقریبات کا اعلان کر دیا

تقریبات کا اعلان کرتے ہوئے سعد رفیق نے تحریک انصاف کے مارچ کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

الدی حسین لاہور
18 جولائ, 2012 10:45
مدد کر سکتی ہے کہ کیونکہ وہ کسی جج کے رشتہ دار، سفارشی یا مالی فوائد والے نہی ہونگے، اور ہر کسی کو ایک معقول گروپس اف لوگو ں نے اچھا بلا چھان بین کر منتخب کیا ہوگا، اپ کی طرح اندھا بانٹے رویڑیا ں اپنوں کو، اپنے ایک مہرباں جس نے فیصلہ حق میں دیا کو رٹیائرڈ در رٹیائرڈ کو پھر جج بنانے کی کو شش در کوشش، کیو نکہ اور تو کو ی پورے ملک میں وکیل اس قابل تھا ہی نہیں، اللہ معاف کرے تمارے اس انصافی پلڑے سے.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-