02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

عدالت قانون سازوں کی مدد کرسکتی ہے: چیف جسٹس

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری۔—فائل فوٹو

راولپنڈی: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عدالت ، قوانین اور قواعد و ضوابط میں ترمیم کے حوالے سے قانون سازوں کو ہدایات دے سکتی ہے۔

راولپنڈی میں جوڈیشل کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جج صاحبان قانون سازی نہیں کرسکتے لیکن کم سے کم اپنے تجربے اور تحقیق کی بنیاد پر فیصلوں کے ذریعے قائم فرسودہ قوانین اور قوانین میں ضروری تبدیلیاں کرنے کے لئے قانون سازوں کی مدد ضرور کرسکتے ہیں۔

جسٹس افتخار کا کہنا تھا کہ عدلیہ شہریوں کے حقوق اور ان کو فراہم کی ہوئی آزادی کی محافظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ عوام کی مشکلات اور پریشانیوں سے پوری طرح واقف ہے اور اس کے لیئے اقدامات بھی کررہی ہے۔۔

چیف جسٹس پاکستان افتخارمحمد چوہدری کہتے ہیں کہ ججز اور وکلاء کو چاہیے کہ آئینی تجاوز اور من مانیوں کے خلاف دیوار بن جائیں تاکہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنا سکیں۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ مضبوط عدلیہ ہی تمام چھوٹے بڑے اور امیر غریب کا فرق مٹا سکتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن نے عدلیہ کی آزادی کے لیئے سب سے پہلے قدم اٹھایا تاکہ اس ملک میں عدلیہ آزاد ہوسکے۔

اس موقعے پر جسٹس شاکراللہ جان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی بحالی نے ججز کو کیسز کے فیصلے قانون کی رو سے کرنے اور حکمرانوں کی مرضی کو جانے بغیر کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بطور ایکٹینگ چیف الیکشن کمیشنر انتخابی فہرستوں سے خامیاں دور کرکے اور نئے کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں کو پچیس جولائی تک جاری کرنے کے اقدامات کیئے ہیں۔

ادھر جسٹس عمر عطا بندھیال کا کہنا تھا کہ تقریباً تین سو جعلی وکیل لاہور ہائی کورٹ کے بار کی لسٹ میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء ایسوسیشن کو اپنی ہڑتال پر جانے والی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے کیوں کہ اس سے مدعیوں کو خاصہ تقصان پہنچتا ہے۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد: مشترکہ آپریشن کے دوران تین مشتبہ ملزمان گرفتار

بنی گالہ میں سیکورٹی فورسز،رینجرز اور پولیس کمانڈوزکے مشترکہ آپریشن کےدوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

پروین رحمان قتل کیس: پولیس تفتیش میں ناکام

سپریم کورٹ میں پولیس حکام نے تسلیم کیا کہ کراچی میں ہوئے اس قتل کے معاملے میں ان کی تفتیشی صلاحیت محدود ہوگئی ہے۔

عالمی ادارے کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے بھرپور عزم کا مطالبہ

پولیو کی نگرانی کرنے والے بورڈ آئی ایم بی پی نے وزیراعظم کے پولیو سیل کو خیالی جنگ میں مصروف ادارہ قرار دیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

الدی حسین لاہور
18 جولائ, 2012 10:45
مدد کر سکتی ہے کہ کیونکہ وہ کسی جج کے رشتہ دار، سفارشی یا مالی فوائد والے نہی ہونگے، اور ہر کسی کو ایک معقول گروپس اف لوگو ں نے اچھا بلا چھان بین کر منتخب کیا ہوگا، اپ کی طرح اندھا بانٹے رویڑیا ں اپنوں کو، اپنے ایک مہرباں جس نے فیصلہ حق میں دیا کو رٹیائرڈ در رٹیائرڈ کو پھر جج بنانے کی کو شش در کوشش، کیو نکہ اور تو کو ی پورے ملک میں وکیل اس قابل تھا ہی نہیں، اللہ معاف کرے تمارے اس انصافی پلڑے سے.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟