02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

مزید دس سال افغانستان میں رہنے کا امریکی منصوبہ

Ryan Crocker
افغانستان میں سبکدوش ہونے والی امریکی سفیر ریان کروکر کابل میں اے پی کو انٹرویو دیتے ہوئے۔

واشنگٹن: امریکی انتظامیہ کے ایک منصوبہ کے تحت دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بعد بھی کچھ زمینی فوجی دستے اور موثر فضائی قوت دو ہزار چودہ تک افغانستان میں موجود رہے گی۔

ایک سینئر امریکی سفارتکار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فوجی دستوں اور موثر فضائی قوت کی موجودگی سے، ملک کے اندرونی استحکام اور کابل کے ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات پر مثبت اثر پڑے گا۔

حال ہی میں امریکی ذرائع ابلاغ میں خبروں کا موضوع بننے والے اس منصوبے کے مطابق دو ہزار چوبیس تک امریکی افواج موجود رہیں گی۔ جس کا مقصد طالبان کو ایک بار پھر ملک پر قابض ہونےسے روکنا ہے۔

کابل میں سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر ریان کروکر نے امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اوبامہ انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی کی تصدیق کی ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغانستان میں انخلا کے بعد بھی امریکا کے کچھ خصوصی فوجی دستے اور فضائی حملہ آور قوت کو شدت پسندوں کی سرکوبی کے لیے بدستور تعینات رکھا جائے گا۔

وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کروکر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی پاکستان کے لیے بھی قابلِ قبول ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں بر سرِ پیکار طالبان نمائندوں کو اس سال اٹھائیس جون کو افغانستان کے موضوع پر منعقدہ عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے جاپان جانے  پر آمادہ کیا تھا۔

کروکر سے جب سوال کیا گیا کہ آیا یہ کانفرنس افغانوں کے مابین مفاہمت کے لیے ایک قدم کی نمائندگی کرتی ہے تو ان کا جواب تھا 'یقیناً، مگر وہاں کچھ دھواں اور چنگاریاں ابھی باقی ہیں۔' ان کا کہنا تھا کہ طالبان رہنماؤں کی اکثریت پاکستان میں ہے اور  کیوٹو میں منعقدہ افغان کانفرنس میں پاکستان کی کچھ خاموش رضامندی بھی شامل ہوسکتی ہے۔

کروکر کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ کانفرنس میں شدت پسند طالبان نمائندوں کو بھیجنے کے لیے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر دباؤ ڈالا گیا ہو۔

امریکی سفارت نے اپنے انٹرویو میں آئی ایس آئی اور طالبان رویوں میں تبدیلی کی دو وجوہات بیان کی ہیں: پہلی وجہ یہ کہ پاکستان میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور ملک کو اس بات کا احساس ہے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان جانتا ہے کہ امریکا کا منصوبہ ہے کہ افغانستان میں کم از کم دو ہزار چوبیس تک فوجی موجودگی برقرار رکھی جائے۔

امریکی سفارت نے واضح کیا کہ واشنگٹن کسی صورت طالبان کو دوبارہ افغانستان پر قابض ہونے کا موقع نہیں دے گا۔

اس حصے سے مزید

افغانستان: طالبان کے حملے، 4فوجی اور 3پولیس اہلکار ہلاک

صوبہ ننگر ہار میں خود کش حملے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، ہرات میں طالبان کے حملے میں فوجی اہلکار مارے گئے

جلال آباد: طالبان کا حملہ، چھ افراد ہلاک، پچاس زخمی

افغان حکام کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں، جبکہ حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

عبداللہ کے انکار پر افغان الیکشن کا آڈٹ معطل

ڈاکٹر غنی کی ترجمان کے مطابق انہیں اقوام متحدہ اور الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے، اور وہ اس آڈٹ کے نتائج تسلیم کریں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔