28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

شام: بم دھماکے میں وزیرِ دفاع ہلاک

مرکزی دمشق میں پیلیس آف جسٹس کے باہر ہونے والے دھماکے کا منظر – اے ایف پی فوٹو

دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق میں وزارتِ دفاع کے ادارے قومی سلامتی کے دفتر پر بم حملے کے نتیجے میں وزیردفاع جنرل داؤد راجہ ہلاک ہوگئے۔

بم حملے میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، تاہم اب تک ان کے تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بم سے کیے گئے حملے کے وقت عمارت کے اندر متعدد اہم سرکاری شخصیات موجود تھیں۔

قومی سلامتی ہیڈ کوارٹر پر بم حملے میں وزیردفاع جنرل داؤد راجہ شدید زخمی ہوئے۔ بعد ازاں، وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

حملے میں ہلاک اور زخمی افراد کو ال شامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

گزشتہ دو روز سے شہر میں حکومت مخالفوں اور سرکاری سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

سرکاری فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر پر ان کا کنٹرول برقرار ہے۔دوسری طرف، حکومت مخالف مظاہرین اور گروپوں نے شہر کی گلیوں میں مورچے قائم کرلیے ہیں۔

اس حصے سے مزید

جنوبی کوریا میں ہیلی کاپٹر حادثہ، پانچ ہلاک

ہیلی کاپٹر تین ماہ قبل ڈوبنے والی فیری کے گم شدہ افراد کی لاشیں تلاش کرنے کے مشن سے واپسی پر حادثے کا شکار ہوا۔

نائیجیریا: 12مغوی لڑکیوں کے والدین ہلاک

ایک رپورٹ کے مطابق ایک ماہ قبل اغوا ہونے والی لڑکیوں میں سے 12 کے والدین ہلاک ہو چکے ہیں۔

نو سالہ بچے کی 62 سالہ خاتون سے شادی

اس بچے نے گزشتہ سال بزرگ خاتون سے زندگی بھر کا تعلق جوڑا تھا مگر جنوبی افریقی روایات کے باعث دوسری بار تقریب سجانا پڑی


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔