27 اگست, 2014 | 30 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

شام: بم دھماکے میں وزیرِ دفاع ہلاک

مرکزی دمشق میں پیلیس آف جسٹس کے باہر ہونے والے دھماکے کا منظر – اے ایف پی فوٹو

دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق میں وزارتِ دفاع کے ادارے قومی سلامتی کے دفتر پر بم حملے کے نتیجے میں وزیردفاع جنرل داؤد راجہ ہلاک ہوگئے۔

بم حملے میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، تاہم اب تک ان کے تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بم سے کیے گئے حملے کے وقت عمارت کے اندر متعدد اہم سرکاری شخصیات موجود تھیں۔

قومی سلامتی ہیڈ کوارٹر پر بم حملے میں وزیردفاع جنرل داؤد راجہ شدید زخمی ہوئے۔ بعد ازاں، وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

حملے میں ہلاک اور زخمی افراد کو ال شامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

گزشتہ دو روز سے شہر میں حکومت مخالفوں اور سرکاری سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

سرکاری فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر پر ان کا کنٹرول برقرار ہے۔دوسری طرف، حکومت مخالف مظاہرین اور گروپوں نے شہر کی گلیوں میں مورچے قائم کرلیے ہیں۔

اس حصے سے مزید

بوکو حرام کا اسلامی ریاست کا اعلان

بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیکاؤ نے ایک وڈیو میں اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

نائجیریا سے ساڑھے 6 لاکھ افراد کی نقل مکانی

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں بوکو حرام کے حملوں کے باعث ساڑھے 6 لاکھ افراد اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں

گنی میں کنسرٹ کے دوران بھگدڑ سے 24 ہلاک

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کم سے کم 24 لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جاچکا ہے جن میں 13 لڑکیاں بھی شامل ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

دو کشتیوں کے سوار نواز شریف

نواز شریف کے مطابق اگر ان کو طاقت کے زور پر نکالا گیا تو پاکستان کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔

پاکستان میں جمہوریت

کیا جمہوریت پاکستان میں عوام کیلیے ہے یا حکمرانوں کو انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کی یقین دہانی کیلیے ہے؟

بلاگ

مووی ریویو: ٹین ایج میوٹنٹ ننجا ٹرٹلز

تباہی و بربادی کے سینز، سپر ہیروز اور ایک حسینہ والے کامیاب ثابت شدہ فارمولے فلم کا حصہ رہے۔

تجزیوں کا بخار

گھر کے تمام افراد کو اتنے گروپس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جتنے کہ تجزیہ کار موجود ہیں۔

بڑے بوٹ اور چھوٹے بوٹ

پاکستانی عوام کا مزاج کہہ لیں اور ہماری سیاسی قوتوں کی کمزوری کے ہر مشکل گھڑی میں نظریں فوج کی جانب ہی اُٹھتی ہیں۔

!ٹی وی پر انقلاب دیکھنا مشکل کام

مارچ دیکھتے رہنے سے دوسرے مسائل پر سے توجہ ہٹ رہی ہے، جو زیادہ شرمناک ہیں اور جن پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔