03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

شام: بم دھماکے میں وزیرِ دفاع ہلاک

مرکزی دمشق میں پیلیس آف جسٹس کے باہر ہونے والے دھماکے کا منظر – اے ایف پی فوٹو

دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق میں وزارتِ دفاع کے ادارے قومی سلامتی کے دفتر پر بم حملے کے نتیجے میں وزیردفاع جنرل داؤد راجہ ہلاک ہوگئے۔

بم حملے میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، تاہم اب تک ان کے تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بم سے کیے گئے حملے کے وقت عمارت کے اندر متعدد اہم سرکاری شخصیات موجود تھیں۔

قومی سلامتی ہیڈ کوارٹر پر بم حملے میں وزیردفاع جنرل داؤد راجہ شدید زخمی ہوئے۔ بعد ازاں، وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

حملے میں ہلاک اور زخمی افراد کو ال شامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

گزشتہ دو روز سے شہر میں حکومت مخالفوں اور سرکاری سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

سرکاری فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر پر ان کا کنٹرول برقرار ہے۔دوسری طرف، حکومت مخالف مظاہرین اور گروپوں نے شہر کی گلیوں میں مورچے قائم کرلیے ہیں۔

اس حصے سے مزید

بوکو حرام کا اسلامی ریاست کا اعلان

بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیکاؤ نے ایک وڈیو میں اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

نائجیریا سے ساڑھے 6 لاکھ افراد کی نقل مکانی

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں بوکو حرام کے حملوں کے باعث ساڑھے 6 لاکھ افراد اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں

گنی میں کنسرٹ کے دوران بھگدڑ سے 24 ہلاک

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کم سے کم 24 لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جاچکا ہے جن میں 13 لڑکیاں بھی شامل ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔