01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی: پانچ افراد ہلاک اور تخریب کاری کی کوشش ناکام

کراچی میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری۔ رائٹرز تصویر

کراچی: شہر میں تخریب کاری کی کوشش ناکام بنا دی گئی، بروقت اطلاع ملنے پر یونیورسٹی روڈ پر نصب بم ناکارہ بنا دیا گیا۔ ساتھ ہی کراچی میں دیگر پُرتشدد واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

سچل تھانے کی حدود یونیورسٹی روڈ پر صفورا چورنگی کے قریب سڑک کنارے بم نصب کیا گیا تھا۔

اطلاع ملنے پر بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پہنچ کر تیرہ کلو وزنی بم کو ناکارہ بنا دیا۔

ڈیٹونیٹرز پر مشتمل دیسی ساختہ بم نجی اسکول کے قریب فٹ پاتھ کے ساتھ درخت کے نیچے بم نصب کیا گیا تھا۔

اس دھماکے کے ہونے کی صورت میں بڑی تباہی ہو سکتی تھی تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بم کو ناکارہ بنادیا۔

تفصیلات کے مطابق،کورنگی اکیاون سی میں فائرنگ سے لیاقت علی نامی شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ مقتول کا تعلق سیاسی جماعت سے ہے۔ ڈالمیا میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ لی مارکیٹ اور فیڈرل بی ایریا سے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔  حسین آباد سے مغوی ندیم کی لاش ملی جسے فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔ شارع نورجہاں کے علاقے میں نیوی کے افسر چوہدری اشرف کی گاڑی پر فائرنگ کی  گئی تاہم وہ محفوظ رہے۔

ادھر نارتھ ناظم آباد میں باپ نے اپنی بیٹی مقدر کو گلا دبا کر ہلاک کردیا ملزم باپ نے بعد ازاں خود تھانے جاکر گرفتاری دے دی۔ پاپوش کے علاقے میں خلافت چوک کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے لیڈی بینکر ثنا کو زخمی کردیا جبکہ مواچھ گوٹھ میں بھی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔

دوسری جانب سی آئی ڈی پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرکے تحریک طالبان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث گیارہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور بھاری تعداد میں گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔ کھارادر پولیس نے دو بھتہ خور اور خواجہ اجمیر نگری پولیس نے ایک ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

کراچی: ایک گھنٹے میں پولیس پر دو حملے، دو اہلکار زخمی

پہلا واقعہ حسن اسکوائر کے قریب پیش آیا جہاں ایک پولیس موبائل کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے دستی بم سے نشانہ بنایا۔

ممتاز بھٹو بیٹے سمیت مسلم لیگ ن سے بے دخل

سندھ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین ممتاز بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اُنہیں بیٹے سمیت پارٹی سے نکال دیا ہے

'پاکستان میں حقیقی جدوجہد غریب اور اشرافیہ کے درمیان ہے'

آغا خان یونیورسٹی کے فکری مباحثے میں ماہرین نے سوال کیا کہ کیا ہمیں جمہوری فلاحی ریاست بننا چاہیے یا سیکورٹی اسٹیٹ؟


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟