03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی: پانچ افراد ہلاک اور تخریب کاری کی کوشش ناکام

کراچی میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری۔ رائٹرز تصویر

کراچی: شہر میں تخریب کاری کی کوشش ناکام بنا دی گئی، بروقت اطلاع ملنے پر یونیورسٹی روڈ پر نصب بم ناکارہ بنا دیا گیا۔ ساتھ ہی کراچی میں دیگر پُرتشدد واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

سچل تھانے کی حدود یونیورسٹی روڈ پر صفورا چورنگی کے قریب سڑک کنارے بم نصب کیا گیا تھا۔

اطلاع ملنے پر بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پہنچ کر تیرہ کلو وزنی بم کو ناکارہ بنا دیا۔

ڈیٹونیٹرز پر مشتمل دیسی ساختہ بم نجی اسکول کے قریب فٹ پاتھ کے ساتھ درخت کے نیچے بم نصب کیا گیا تھا۔

اس دھماکے کے ہونے کی صورت میں بڑی تباہی ہو سکتی تھی تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بم کو ناکارہ بنادیا۔

تفصیلات کے مطابق،کورنگی اکیاون سی میں فائرنگ سے لیاقت علی نامی شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ مقتول کا تعلق سیاسی جماعت سے ہے۔ ڈالمیا میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ لی مارکیٹ اور فیڈرل بی ایریا سے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔  حسین آباد سے مغوی ندیم کی لاش ملی جسے فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔ شارع نورجہاں کے علاقے میں نیوی کے افسر چوہدری اشرف کی گاڑی پر فائرنگ کی  گئی تاہم وہ محفوظ رہے۔

ادھر نارتھ ناظم آباد میں باپ نے اپنی بیٹی مقدر کو گلا دبا کر ہلاک کردیا ملزم باپ نے بعد ازاں خود تھانے جاکر گرفتاری دے دی۔ پاپوش کے علاقے میں خلافت چوک کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے لیڈی بینکر ثنا کو زخمی کردیا جبکہ مواچھ گوٹھ میں بھی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔

دوسری جانب سی آئی ڈی پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرکے تحریک طالبان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث گیارہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور بھاری تعداد میں گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔ کھارادر پولیس نے دو بھتہ خور اور خواجہ اجمیر نگری پولیس نے ایک ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

کراچی: پولیس چوکی پر دستی بم حملہ، چار اہلکار زخمی

شاہراہِ فصل پر نرسری کے مقام پر پولیس چوکی پر دستی بم حملے سے چوکی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

حیدر آباد: عمارت گرنے سے 13 افراد ہلاک، متعدد زخمی

چوڑی پاڑہ میں گرنے والی تین منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب کر مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔