17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن۔ – پی پی آئی فوٹو

کراچی: رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا، ہفتے کو پہلا روزہ ہوگا۔ چاند نظر آنے کا اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کراچی میں کیا۔

چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو روز کراچی میں چیئرمین مفتی منیب الرحمن کی صدارت میں ہوا۔ ملک کے مختلف علاقوں سے چاند نظر آنے کی شہادت ملنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں چاند نظر آنے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔

چاند دیکھنے کا اہتمام محکمہ موسمیات کراچی کی عمارت پرکیا گیا تھا۔ اس موقع پرکمیٹی کے دیگراراکین بھی موجود تھے۔ پشاور میں مقامی کمیٹی کا اجلاس مسجد قاسم علی خان میں  شہاب الدین پوپلزئی کی صدارت میں ہوا۔ جس کے بعد پشاور سے بھی چاند نظر آنے کا اعلان کردیا گیا۔ اسطرح ہفتہ سے پورے ملک میں ایکساتھ رمضان المبارک کا باقاعدہ آغاز ہو جائیگا۔

اسی طرح اسلام آباد اور لاہور کی زونل کمیٹیوں کے اجلاس منعقد ہوئے جنہوں نے چاند نظر آنے کی کوئی شہادت نہ ملنے کا اعلان کیا تھا۔ کوئٹہ میں بھی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مولانا عبدالواحد کے زیر صدارت مرکزی جامع مسجد میں ہوا۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

فیصل رضا عابدی کا استعفیٰ منظور

سینیٹ کے اجلاس میں فیصل نے استعفیٰ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟