23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

توہین عدالت قانون: فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

سپریم کورٹ.— فائل فوٹو اے ایف پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاق کی جانب سے توہین عدالت قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت آج شروع کی تو اٹارنی جنرل  اور وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواستوں کی سماعت فل کورٹ کرے۔

جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا، 5 رکنی بینچ مقدمہ کے سماعت کرے گا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ انہیں دو ہفتے کا وقت دے دیا جائے، پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کا کیس پہلے نہیں آیا۔

جس پر جسٹس خواجہ نے کہا کہ وہ درست نہیں کہہ رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسی طرح کا ایک کیس پہلے بھی زیر سماعت آچکا ہے،انیس سو چھیانوے میں چیف جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی تھی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے جسٹس اجمل میاں کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں ایک دو ہفتے کا وقت دے دیں ، جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کافی وقت دے چکے ہیں، مسئلہ بہت اہم ہے اوراس کا فیصلہ کیا جانا ضروری ہے۔

درخواست گزار باز محمد کاکڑ کے وکیل ایم ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدلیہ کی آذادی آئین کے دیباچے میں لکھی ہوئی ہے، جس پر جسٹس جیلانی نے کہا کہ توہین عدالت کا قانون ، قانون کی حکمرانی کی توسیع ہے، ہمیں یقین ہے جب تک انصاف کا نظام موجود ہے توہین عدالت کا قانون رہے گا۔

عدالت نے درخواست گزاروں کو کل تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اس حصے سے مزید

'وزیراعظم ممکنہ اندرونی بغاوت سے خبردار رہیں'

حکمران جماعت کی بھاری اکثریت کے باوجود پارٹی میں موجود 'میر جعفر و میر صادق' سے خطرہ ہے، جماعت اسلامی

پٹرولیم مصنوعات میں چار فیصد تک کمی کا امکان

سیاسی بحران میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی مکمل طور پر صارفین کو منتقل کرسکتی ہے۔

آئندہ 48 گھنٹے’حساس‘ ہیں، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ فوج کو اس آزمائش سے نکالیں اور آپریشن کی طرف ان کو لے کر جائیں جہاں ان کی ضرورت ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔