01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

توہین عدالت قانون: فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

سپریم کورٹ.— فائل فوٹو اے ایف پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاق کی جانب سے توہین عدالت قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت آج شروع کی تو اٹارنی جنرل  اور وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواستوں کی سماعت فل کورٹ کرے۔

جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا، 5 رکنی بینچ مقدمہ کے سماعت کرے گا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ انہیں دو ہفتے کا وقت دے دیا جائے، پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کا کیس پہلے نہیں آیا۔

جس پر جسٹس خواجہ نے کہا کہ وہ درست نہیں کہہ رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسی طرح کا ایک کیس پہلے بھی زیر سماعت آچکا ہے،انیس سو چھیانوے میں چیف جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی تھی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے جسٹس اجمل میاں کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں ایک دو ہفتے کا وقت دے دیں ، جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کافی وقت دے چکے ہیں، مسئلہ بہت اہم ہے اوراس کا فیصلہ کیا جانا ضروری ہے۔

درخواست گزار باز محمد کاکڑ کے وکیل ایم ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدلیہ کی آذادی آئین کے دیباچے میں لکھی ہوئی ہے، جس پر جسٹس جیلانی نے کہا کہ توہین عدالت کا قانون ، قانون کی حکمرانی کی توسیع ہے، ہمیں یقین ہے جب تک انصاف کا نظام موجود ہے توہین عدالت کا قانون رہے گا۔

عدالت نے درخواست گزاروں کو کل تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اس حصے سے مزید

وزيراعظم نااہلی کيس:سپريم کورٹ کالارجربينچ بنانےکی درخواست مسترد

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ پر اعتراض کی درخواست بھی چیف جسٹس نے مسترد کر دی، کیس کی سماعت جمعرات سے ہو گی۔

پاکستان میں پولیو کا 14سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کے قریب

اس سے قبل 2000 میں 199 کیس رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں برس 184 کیس سامنے آچکے ہیں۔

آرمی چیف کی صدارت میں کور کمانڈرز کانفرنس جاری

ذرائع کے مطابق کورکمانڈرز نے آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟