18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

توہین عدالت قانون: فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

سپریم کورٹ.— فائل فوٹو اے ایف پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاق کی جانب سے توہین عدالت قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت آج شروع کی تو اٹارنی جنرل  اور وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواستوں کی سماعت فل کورٹ کرے۔

جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا، 5 رکنی بینچ مقدمہ کے سماعت کرے گا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ انہیں دو ہفتے کا وقت دے دیا جائے، پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کا کیس پہلے نہیں آیا۔

جس پر جسٹس خواجہ نے کہا کہ وہ درست نہیں کہہ رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسی طرح کا ایک کیس پہلے بھی زیر سماعت آچکا ہے،انیس سو چھیانوے میں چیف جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی تھی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے جسٹس اجمل میاں کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں ایک دو ہفتے کا وقت دے دیں ، جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کافی وقت دے چکے ہیں، مسئلہ بہت اہم ہے اوراس کا فیصلہ کیا جانا ضروری ہے۔

درخواست گزار باز محمد کاکڑ کے وکیل ایم ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدلیہ کی آذادی آئین کے دیباچے میں لکھی ہوئی ہے، جس پر جسٹس جیلانی نے کہا کہ توہین عدالت کا قانون ، قانون کی حکمرانی کی توسیع ہے، ہمیں یقین ہے جب تک انصاف کا نظام موجود ہے توہین عدالت کا قانون رہے گا۔

عدالت نے درخواست گزاروں کو کل تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اس حصے سے مزید

پروسیکیوٹر کی تقرری سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

اسلام آباد منڈی دھماکے کی تفتیش میں امرود فرم کا منیجر گرفتار

حکام کے مطابق تقریباً 40 پیٹیاں ایک مسافر بس کی چھت پر لوڈ کرکے اسلام آباد کی پھل و سبزی کی مارکیٹ میں لائی گئیں تھیں۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔