17 ستمبر, 2014 | 21 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

شفاف انتخابات آخری خواہش ہے، فخرالدین جی ابراہیم

نئے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم ۔–فائل فوٹو

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم نے شفاف انتخابات کو اپنی آخری خواہش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کریں گے۔

فخرالدین جی ابراہیم نے آج (پیر) بطور تئیسویں چیف الیکشن کمشنر حلف اٹھا لیا۔

سپریم کورٹ میں ایک تقریب کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان سے حلف لیا۔

تقریب میں سپریم کورٹ کے جج، سیکرٹری الیکشن کمیشن، الیکشن کمیشن ارکان اور وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو میں فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ عام انتخابات کرانے کا اعلان وزیراعظم کا اختیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پیشرو کہہ چکے ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے تیار ہے۔

فخرالدین جی ابراہیم حلف برداری کے بعد الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے اور اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔

اس حصے سے مزید

وزیراعظم سمیت متعدد وزراء کے خلاف مقدمہ درج

پولیس کے مطابق یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ سات اور پی پی سی کی دفعات 302، 324، 148، اور 149 کے تحت درج کیا گیا۔

'بطور آرمی چیف ایمرجنسی کے حکم پر دستخط مشرف کی غلطی تھی'

وزیراعظم کے مشورے پر وہ بطور صدر ایمرجنسی نافذ کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے یہ حکم فوجی سربراہ کے طور پر دیا۔

پی ٹی آئی جمعے کو زیادہ خواتین دھرنے میں لانے کی خواہش مند

پی ٹی آئی راولپنڈی کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں خواتین دھرنے میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈیم، کینال، بیراج، اور ماحول

ہندوستانی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہوئیں، جسکی وجہ سے اپ سٹریم کا پانی پاکستانی چناب اور جہلم میں بہہ آیا ہے

انتخابی اصلاحات: اگلا قدم

بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا، کہ اس معاملے میں سچ سب کے سامنے آئے، اور کوئی شک شبہہ باقی نا رہے۔

بلاگ

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔