29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

شفاف انتخابات آخری خواہش ہے، فخرالدین جی ابراہیم

نئے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم ۔–فائل فوٹو

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم نے شفاف انتخابات کو اپنی آخری خواہش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کریں گے۔

فخرالدین جی ابراہیم نے آج (پیر) بطور تئیسویں چیف الیکشن کمشنر حلف اٹھا لیا۔

سپریم کورٹ میں ایک تقریب کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان سے حلف لیا۔

تقریب میں سپریم کورٹ کے جج، سیکرٹری الیکشن کمیشن، الیکشن کمیشن ارکان اور وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو میں فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ عام انتخابات کرانے کا اعلان وزیراعظم کا اختیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پیشرو کہہ چکے ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے تیار ہے۔

فخرالدین جی ابراہیم حلف برداری کے بعد الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے اور اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔

اس حصے سے مزید

آرٹیکل 245 کا نفاذ: حکومتی اعلامیے کی نقل پیش کرنیکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے حکمنامے کی نقل پیش کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔

فوج طلب کرنے پر وزارت داخلہ و دیگر کو نوٹسز جاری

اگر اسلام آباد میں ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس سے حکومتی رٹ کمزور ہوگی، درخواست گزار۔

مضاربہ اسکینڈل: نیب کا ایک اور ریفرنس

ریفریس میں میزبان ٹریڈنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو غلام رسول ایوب سمیت تین افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔