03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ارسلان افتخار کی نیب سے معذرت

ارسلان افتخار۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: نیب نے ارسلان افتخار کیس میں رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین کو پچیس جولائی جبکہ چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار کو چھبیس جولائی کو پھر طلب کرلیا ہے۔

ارسلان افتخار، ملک ریاض کے داماد سلمان احمد اور ان کے بزنس پارٹنر احمد خلیل نے نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی تھی۔

نیب نے ارسلان افتخار چوہدری، سلمان احمد اور احمد خلیل کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے آج نیب ہیڈکوارٹر میں طلب کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق نیب تحقیقاتی ٹیم پر تحفظات کے باعث ارسلان افتخار ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہتے۔

جبکہ سلمان احمد اور احمد خلیل نے بھی نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کر لی ہے۔

ملک ریاض کے داماد نے نیب کو اگاہ کیا ہے کہ ان کو دھمکیاں مل رہی ہے وہ اس کیس کے لئے پاکستان نہں اسکتے تاہم ان کا بیان بیرون ملک ریکارڈ کرایا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ احمد خلیل نے بھی نیب کو پغام بھجوایا ہے کہ وہ جرمنی میں زیر علاج ہے لحاضہ پیش نہیں ہوسکتے۔

دوسری جانب، ارسلان افتخار کیس میں بحریہ ٹاؤن کے سابق چیرمین ملک ریاض نیب تحقیقاتی ٹیم کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

اس حصے سے مزید

مناسب خوراک کی کمی اور تھکاوٹ انقلابیوں پر اثرانداز ہونے لگی

یہ بدقسمتی ہے کہ یہ احتجاجی مظاہرین اس طرح کے مضر صحت ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں۔

زرغون گیس فیلڈ سے جزوی فراہمی شروع

گیس کے اس ذخیرے کی مقدار 77 ارب مکعب فٹ ہے، یہاں سے پندرہ سال تک روزانہ دو کروڑ مکعب فٹ کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔