01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

ارسلان افتخار کی نیب سے معذرت

ارسلان افتخار۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: نیب نے ارسلان افتخار کیس میں رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین کو پچیس جولائی جبکہ چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار کو چھبیس جولائی کو پھر طلب کرلیا ہے۔

ارسلان افتخار، ملک ریاض کے داماد سلمان احمد اور ان کے بزنس پارٹنر احمد خلیل نے نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی تھی۔

نیب نے ارسلان افتخار چوہدری، سلمان احمد اور احمد خلیل کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے آج نیب ہیڈکوارٹر میں طلب کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق نیب تحقیقاتی ٹیم پر تحفظات کے باعث ارسلان افتخار ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہتے۔

جبکہ سلمان احمد اور احمد خلیل نے بھی نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کر لی ہے۔

ملک ریاض کے داماد نے نیب کو اگاہ کیا ہے کہ ان کو دھمکیاں مل رہی ہے وہ اس کیس کے لئے پاکستان نہں اسکتے تاہم ان کا بیان بیرون ملک ریکارڈ کرایا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ احمد خلیل نے بھی نیب کو پغام بھجوایا ہے کہ وہ جرمنی میں زیر علاج ہے لحاضہ پیش نہیں ہوسکتے۔

دوسری جانب، ارسلان افتخار کیس میں بحریہ ٹاؤن کے سابق چیرمین ملک ریاض نیب تحقیقاتی ٹیم کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

اس حصے سے مزید

لائن آف کنٹرول: ہندوستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق انڈین فورسز نے ایل او سی پر باغ سیکٹر میں فائرنگ کی جس کا بھر پور جواب دیا گیا۔

وزيراعظم نااہلی کيس:سپريم کورٹ کالارجربينچ بنانےکی درخواست مسترد

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ پر اعتراض کی درخواست بھی چیف جسٹس نے مسترد کر دی، کیس کی سماعت جمعرات سے ہو گی۔

پاکستان میں پولیو کا 14سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کے قریب

اس سے قبل 2000 میں 199 کیس رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں برس 184 کیس سامنے آچکے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟