29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ارسلان افتخار کی نیب سے معذرت

ارسلان افتخار۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: نیب نے ارسلان افتخار کیس میں رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین کو پچیس جولائی جبکہ چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار کو چھبیس جولائی کو پھر طلب کرلیا ہے۔

ارسلان افتخار، ملک ریاض کے داماد سلمان احمد اور ان کے بزنس پارٹنر احمد خلیل نے نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی تھی۔

نیب نے ارسلان افتخار چوہدری، سلمان احمد اور احمد خلیل کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے آج نیب ہیڈکوارٹر میں طلب کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق نیب تحقیقاتی ٹیم پر تحفظات کے باعث ارسلان افتخار ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہتے۔

جبکہ سلمان احمد اور احمد خلیل نے بھی نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کر لی ہے۔

ملک ریاض کے داماد نے نیب کو اگاہ کیا ہے کہ ان کو دھمکیاں مل رہی ہے وہ اس کیس کے لئے پاکستان نہں اسکتے تاہم ان کا بیان بیرون ملک ریکارڈ کرایا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ احمد خلیل نے بھی نیب کو پغام بھجوایا ہے کہ وہ جرمنی میں زیر علاج ہے لحاضہ پیش نہیں ہوسکتے۔

دوسری جانب، ارسلان افتخار کیس میں بحریہ ٹاؤن کے سابق چیرمین ملک ریاض نیب تحقیقاتی ٹیم کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد میں فوج کا معاملہ پارلیمنٹ میں

پی پی پی نے اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کا حکومتی فیصلے پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

آرٹیکل 245 کا نفاذ: حکومتی اعلامیے کی نقل پیش کرنیکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے حکمنامے کی نقل پیش کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔

فوج طلب کرنے پر وزارت داخلہ و دیگر کو نوٹسز جاری

اگر اسلام آباد میں ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس سے حکومتی رٹ کمزور ہوگی، درخواست گزار۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔