30 جولائ, 2014 | 2 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

کارٹونسٹ مشکل میں

پاکستان کے کارٹونسٹ اس وقت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، جس کی ایک وجہ عدلیہ کی وزیراعظم پر کرم فرمائی کا سلسلہ بھی ہے۔

 کسی سیاستدان کا 'کیریکیچر' بنانے کے لیے بہت محنت، وقت اور مہارت چاہیے۔ عموما لوگ کیریکیچر میں ظاہری مشابہت دیکھتے ہیں لیکن اس کے اندر بہت سے مخفی معنٰی ہوتے ہیں۔

 مشرف کے وقت ہمییں نو سال ملے اس کا کیریکیچر بنانے کے لیے۔ اُس وقت کے وزیر اعظم ظفراللہ جمالی، شجاعت حسین اور میاں سومرو آے اور چلے گئے۔ ہمیں پہلی دفعہ ایک سیاستدان گیلانی کا کیریکیچربنانے کے لیے ساڑھے چار سال ملے لیکن اس کو چلتا کر دیا گیا۔

 جب سے ہماری عدلیہ نے وزیرِ اعظم فارغ کرنے کی رسم ڈالی ہے، تب سے تو کارٹونسٹ کا کیریکیچر کے ساتھ چلنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔ پھٹکار ہو ایسے کا م پر۔

میرے ایک دوست نے کہا ہے کہ اب کیریکیچر کا فن ختم ہو چکا۔ اب تو کمپیوٹر کے ذریعے اسے بنانا آسان ہو گیا ہے لیکن ادارتی کارٹون بنانے کے لیے اب بھی کارٹونسٹ کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں آئیڈیا کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

کیریکیچر صرف چہرہ بگاڑنے کا نام نہیں بلکہ اس کے ذریعے ظاہری یا آپ کی تصوراتی شخصیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر سابق صدر کلنٹن اپنے بائی پاس آپریشن کے بعد دُبلے ہو چکے مگرانہیں اب بھی بھاری بھرکم بنایا جاتا ہے۔

کارٹون کی اس صنف  میں تمام منفرد نقوش کو بڑھا چڑھا کر نمایاں نہیں کیا جاتا۔ پکاسو جیسا فنکار بھی مصور کے بجائے زیادہ تر کیریکیچر کارٹونسٹ نظر آتا ہے۔

 یہ بھی ایک تصور ہے کہ کیریکیچر میں کسی جانور کی جھلک ہوتی ہے۔ اب یہ کارٹونسٹ پر منحصر ہے کہ وہ جانور کے کس نقش کو فرد کی عکاسی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مشہور برطانوی کارٹونسٹ اسٹیو بل نے جارج بش کو چمپینزی کی شکل میں بنایا ہے۔

میرے خیال میں اس دور میں سب سے زیادہ کیریکیچرزجارج بش کے بنے ہوں گے۔ ان کے بارے میں مجوعی تاثر ہے کہ وہ اوسط درجے کی ذہانت والے لیڈر ہیں۔  شروعاتی کیریکیچر میں ان کی لہریہ بھویں، ناک کے نتھنے، کھردرے بال، بڑَے کان اور اوپری ہونٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

 ان کے اوپری ہونٹ کا درمیانی حصہ ٹھوڑی کو ٹکراتا تھا۔ ایک دم ان کے کان بڑھنے شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا سر چھوٹا ہوکر ناریل کے برابر ہوگیا جس کے ساتھ ہاتھی کے کان لگے تھے۔

 یہ ری پبلکن پارٹی کے انتخابی نشان کی طرف اشارہ تھا۔ اب کارٹونسٹوں نے ان کی مشابہت پر توجہ چھوڑ دی اور جارج بش اپنے کانوں وجہ سے پہچانے جانے لگے۔

 اور پھر آگئےاوبامہ۔ کارٹونسٹوں نے پہلے تو ان کے ہونٹوں اور ناک کو بڑھا کر پیش کیا لیکن جلد ہی ان کے کان بھی بڑھنےلگے لیکن اب یہ ایک سمت میں بڑھ رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے کان، گدھے کے کان لگنے لگے ہیں (گدھا،جو ڈیموکریٹک پارٹی کانشان ہے۔)

اس کے علاوہ اور بھی کردار ہیں، جیسا کہ ہندوستانی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ ۔ ہندوستانی کارٹونسٹوں نے سنگھ جی کی پگڑی کو نشانہ بنایا ہے جو ان کی شخصیت کا نمایاںحصہ ہے۔

 اگر آپ عینک والے بزرگ کے سر پر نیلی پگڑی اور سفید داڑھی بنادیں تو آپ کامیاب ہوجائیں گے۔ میرے دوست سدھیر تیلنگ ان کی پگڑی کو ایک طرف ڈھلکا کر ٹنڈ نمایاں کر دیتے ہیں۔

وہ تجریدی طریقے سے ان کی ناک ایک طرف اور چہرہ دوسری طرف بناتے ہیں۔ یہ نین نقش من موہن سنگھ جی سے بلکل مشابہت نہیں رکھتے لیکن پھر بھی انہیں پہچاننے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔

پاکستان میں کارٹونسٹوں کا پسندیدہ نشانہ صدر ضیاء تھے۔ کارٹونسٹ ان کی آنکھوں کےحلقوں، خم دار ناک اور مونچھوں کے نیچے پوشیدہ مکارانہ ہنسی کو نشانہ بناتے تھے۔

ضیاء کےکیریکیچررسے عقاب یا گدھ کا تاثر ابھرتا تھا۔ اس لیے ہم مزید نقوش بنانے کے بجائے ان کی مکارانہ ہنسی اور تاؤ کھاتی مونچھوں اورفوجی لباس سے کام چلا لیتے تھے-

 مزیدار بات یہ ہے کہ ہمارے موجودہ چیف جسٹس صاحب اور ضیاء الحق میں بہت ظاہری مشابہت پائی جاتی ہے، سوائے اس کے کہ ضیاء کی مونچھیں ان کے نتھنوں سے نکلتی معلوم ہوتی تھیں لیکن۔۔۔

پاکستاں کے دوسرے پسندیدہ کردار نوزشریف ہیں جو سادہ لوح اور کھانے کے شوقین کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے کیریکیچر بنانے میں آج تک کوئی فیکے کو مات نہیں دے سکا۔ وہ بہت عمدگی اورکم لائنوں کے ذریعے ان کا کیریکیچر بناتے ہیں۔

 یہ ایک صفر ہے جو صفر سے تقسیم ہوا ہے۔ ظہور ان کا نچلا جبڑا سر سے بڑا بناتے ہیں۔ خوش فہمی ہے کہ آپ جان گئے ہوں گے کا ان کا اشارہ کس طرف ہوتا ہے۔

آج کل سب سے زیادہ کیریکیچر آصف زرداری کے بنتے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ میکاولی شہزادہ ہیں۔ ان کے کیریکیچر میں مخصوص سازشی مسکراہٹ اور سامنے کے دانت اہم ترین ہیں مگر زیادہ تر کارٹونسٹ انہیں گلہری کے طور پر بناتے ہیں، جس میں ان کے اگلے دو دانت نمایاں ہوتے ہیں۔

آج کل عمران خان بھی ہیں، جو ہر وقت قوم کی عزت کا رونا روتے ہیں اور ملکی غیرت کو واپس لانے کا جتن کرتے ییں۔ وہ سینہ تان کر چلتے ہیں اور ان کے سر کے بالوں کو دیکھ کر مرغے کی کلغی کی طرف  طرف دھیان جاتا ہے جو مردانگی کا نشان ہے۔

افسوس میرے دوست! کمپیوٹر صرف چہرہ بگاڑ سکتا ہے لیکن ایسا کیریکیچر نہیں بنا سکتا جس کے پیچھے پوشیدہ جانور کی جھلک نظر آسکے۔

آئندہ کسی بھِی کیریکیچرر کو دیکھتے ہوئے، اُس کے پیچھے جھانکتے جانور کی طرف بھی دھیان دیجیے گا، ہو سکتا ہے وہ آپ کو کچھ نئے معنٰی دکھادے۔


صابر نذر کارٹونسٹ ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.

تبصرے (6)

مارےانا
25 جولائ, 2012 23:36
مضمون نگار ایک متعصب شخص ہے
ماریانا شولوم
25 جولائ, 2012 23:42
کارٹون کی صنف کے بارےمیں صابر نزر کچھ بھی نھیں جانتے
نادیھ خان
26 جولائ, 2012 14:36
متعصب؟ لگتا ہے کہ خاک آپ کی سمجھ میں نہیں آیا.
نادیھ خان
26 جولائ, 2012 15:09
یقیناً آپ جیسا مشہور کارٹونسٹ ہی ایسا دعوی کر سکتا ہے.
الطاف حسین
27 جولائ, 2012 08:13
جناب کا پورا فیس بک چھان مارا ، مگر پیپلز پارٹی کا ایک بھی کارٹون نظر نہیں آیا- سارا دن بیٹھ کر عمران خان کے کیری کیچر بناتے ہیں، تعصب اور کیا ہوتا ہے
شکیل اعوان
27 جولائ, 2012 13:26
صابر نذر بہت اچھا کارٹونسٹ ہے مگر ساری دنیا کو پی پی پی کی عینک سے دیکھتا ہے اور اسے عمران فوبیا ہے.
مقبول ترین
بلاگ

مووی ریویو: 'کک' صرف سلمان خان کی فلم نہیں

باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ فلم بنا کر ساجد ناڈیا والا نے خود کو ایک قابل ڈائریکٹر منوا لیا ہے۔

عید پر انکو نہ بھولیں

رمضان میں انسانی ہمدردی کا جو جذبہ آپ کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اسے محض وقتی ابال ثابت نہ ہونے دیں-

کراچی کی قدیم عید گاہیں

سمجھا یہ جاتا ہے کہ کراچی کی پہلی عید گاہ بندر روڈ پر جامع کلاتھ مارکیٹ کے بالمقابل ہے لیکن تاریخی حقائق کچھ اور ہیں

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے