29 اگست, 2014 | 2 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ نئے توہین عدالت قانون کا موجودہ وزیراعظم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں توہین عدالت کا آپشن بہت کم استعمال کرتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ نے آئین کے تحت حلف لے رکھا ہے اور قانون سازی کرتے وقت آئین کو مدنظر رکھنا چاہئے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ توہین عدالت قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس خواجہ نے کہا کہ آئین کہتا ہے جو توہین عدالت کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ارکان پارلیمنٹ عوام کے خادم ہیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

نواز شریف اب جھوٹ بولنے پر مستعفی ہوں، عمران خان

آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ایک اور جھوٹ بولنے پر قوم سے معافی مانگیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔