23 جولائ, 2014 | 24 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ نئے توہین عدالت قانون کا موجودہ وزیراعظم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں توہین عدالت کا آپشن بہت کم استعمال کرتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ نے آئین کے تحت حلف لے رکھا ہے اور قانون سازی کرتے وقت آئین کو مدنظر رکھنا چاہئے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ توہین عدالت قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس خواجہ نے کہا کہ آئین کہتا ہے جو توہین عدالت کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ارکان پارلیمنٹ عوام کے خادم ہیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

کسی جنرل سے رابطہ نہیں ہے،طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم فوج کو دعوت نہیں دے رہے، ملک میں مارشل لاء نہیں لگے گا۔

چوہدری نثار سے امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی ملاقات

خطے میں استحکام کے لیے پاک امریکہ تعاون اور رابطہ کاری کو فروغ دینا ہوگا، وزیر داخلہ چوہدری نثار۔

زرداری-بائیڈن ملاقات پرافواہیں

ایک سماجی تقریب میں سابق صدر کے امریکی نائب صدر سےطے شدہ افطار- ڈنر کی خبروں نے سیاسی ماحول گرما دیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔