02 اگست, 2014 | 5 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ نئے توہین عدالت قانون کا موجودہ وزیراعظم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں توہین عدالت کا آپشن بہت کم استعمال کرتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ نے آئین کے تحت حلف لے رکھا ہے اور قانون سازی کرتے وقت آئین کو مدنظر رکھنا چاہئے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ توہین عدالت قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس خواجہ نے کہا کہ آئین کہتا ہے جو توہین عدالت کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ارکان پارلیمنٹ عوام کے خادم ہیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

سیاسی بحران ختم کرنے کیلئے نواز شریف کی مشاورت

وزیر اعظم کو ہر صورت 'ون مین شو' کا تاثر زائل کرنے، پارٹی میں اندرونی اختلافات ختم کرانے کے مشورے۔

'نجکاری کمیشن میں بولی لگانے کا عمل شفاف نہیں'

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے نجکاری کمیشن پر زور دیا ہے کہ مالیاتی مشیروں کی تقرری کے عمل کو شفاف طریقے سے دوبارہ شروع کرے۔

اسلام آباد میں اضافی دستے تعینات نہیں کر رہے، فوج

دستوں کی تعیناتی پندرہ جون کو ہو چکی اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن دیر سے آیا، فوجی ترجمان کا اصرار۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔