25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ نئے توہین عدالت قانون کا موجودہ وزیراعظم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں توہین عدالت کا آپشن بہت کم استعمال کرتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ نے آئین کے تحت حلف لے رکھا ہے اور قانون سازی کرتے وقت آئین کو مدنظر رکھنا چاہئے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ توہین عدالت قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس خواجہ نے کہا کہ آئین کہتا ہے جو توہین عدالت کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ارکان پارلیمنٹ عوام کے خادم ہیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا

سات سالوں میں 2090 فرقہ وارانہ ہلاکتیں

سینیٹ میں حزب اختلاف کے اراکین نے حکومتی اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟