21 اپريل, 2014 | 20 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ نئے توہین عدالت قانون کا موجودہ وزیراعظم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں توہین عدالت کا آپشن بہت کم استعمال کرتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ نے آئین کے تحت حلف لے رکھا ہے اور قانون سازی کرتے وقت آئین کو مدنظر رکھنا چاہئے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ توہین عدالت قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس خواجہ نے کہا کہ آئین کہتا ہے جو توہین عدالت کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ارکان پارلیمنٹ عوام کے خادم ہیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے۔

اس حصے سے مزید

وزیرِ اعظم نے حامد میر حملے کی جوڈیشل تحقیقات کا حکم دیدیا

کمیشن کیلئے سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی، قاتلوں کی اطلاع پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان۔

پرویز مشرف کراچی پہنچ گئے

پرویز مشرف کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ لینڈ کرگیا جہاں ان کی آمد کے پیش نظر سخت سیکورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

'دہشت گردی ختم کیے بغیر مضبوط دفاع کا قیام ناممکن'

مضبوط معیشت اور دہشت گردی ختم کیے بغیر ملکی دفاع کا قیام ناممکن ہے،وزیر اعظم کا کاکول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔