19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

قومی کانفرنس

اسلام آباد: ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنما میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔—آن لائن

نظریاتی طور پر یہ ایک دانشمندانہ خیال ہے کہ ملک کی تمام سیاسی قیادت کو ایک گول میز کانفرنس کے لئے اکھٹا کیا جائے اور ان کی توجہ ملک کے اندرونی و بیرونی مسائل کی جانب مبذول کرائی جائے۔البتہ، پاکستان میں یہ طریقہء کار غیر عملی نہیں تصور کیا جاتا۔

تو کیا ایم کیو ایم کے دیگر سیاسی جماعتوں سے ایک گول میز کانفرنس کیلئے کئے جانے والے رابطوں سے کچھ حاصل ہونا ممکن ہے؟حالیہ برسوں میں تقریبا ًہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی مسئلے پر گول میز کانفرنس کے انعقاد کو بطور حل پیش کرچکی ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان ،توانائی کے بحران اور سیاسی مسائل کے حل کیلئے قومی کانفرنسوں کے انعقاد کے خیال کو عام کیا اور کچھ ہی عرصے میں حزب اختلاف بھی یہی کچھ کرتی نظر آئی۔

مگرچونکہ بلوچستان آج بھی جل رہا ہے اور بجلی کا بحران آج بھی زور وشور سے جاری ہے، ایسے میں قومی کانفرنسوں اور گول میز کے خیالات سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔

البتہ ماضی کی ناکامیوں کو مستقبل کی کاوشوں میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے اور ایم کیو ایم کی جانب سے کئے جانے والے ان رابطوں میں کم ازکم ایک مثبت پہلو کا امکان نظر آتا ہے اور وہ  یہ کہ کراچی کے معاملات سے تعلق رکھنے والے سیاسی کرداروں کے قومی سطح پر مصالحت اور بلاتکلف بحث  و مبحاثے کی وجہ سے شہرمیں ہونے والی قتل وغارت گری میں ممکنہ کمی۔

ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں کے درمیان منگل کواسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کراچی کے ان شہریوں کے لئے کسی حد تک راحت کا سبب بنی ہو گی جو روزانہ ہی  قتل،بم دھماکوں،حملوں،اغواء برائے تاوان، بھتہ کا سامنا کرتے ہیں ۔

بلاشبہ کراچی جیسے پیچیدہ شہر میں امن صرف ایک ملاقات کے ذریعے نہیں قائم ہو سکتا اور نہ ہی ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کراچی میں جاری جرائم اور پرتشدد واقعات کے منظم سلسلوں کو فوراً ختم کر سکتا ہے۔

بہرحال جب تک بات چیت کے دروازے کھلے ہیں اور کچھ مثبت ہونے کی امیدیں باقی ہیں تب تک یہ ممکن ہے ایک امن پسندانہ حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ فی الحال ایسا محسوس نہ بھی ہو، مگر کراچی اتنا اہم شہر ہے کہ اسے تشد د پسند قوتوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری محاذ آرائی سے پیدا ہونے والی چہ مگوئیوں کے تناظر میں ایم کیو ایم کے جماعت اسلامی سے لیکر پی ایم ایل (نون)اور ق لیگ جیسی جماعتو ں تک رابطے قومی سیاست کو مستحکم کرنے کیلئے بہترین نسخہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

ایم کیوا یم کی بطور ایک علاقائی جماعت پہچان اس لئے سود مند ہو گی کہ پی ایم ایل (نون) جیسی دوسری بڑی جماعتیں یہ محسوس نہیں کرینگی کہ ایک قومی سطح کا حریف انہیں رائے عامہ کے حوالے سے جال میں جکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیکن پھر ایم کیوایم کی دیگر جماعتوں سے ماضی میں رہنے والی چپقلشیں ایک کامیاب گول میز کانفرنس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔اسکے باوجود ،یہ کوشش قابل عمل ہو سکتی ہے خا ص طور پر اگر سیاستدان تعلیم اور صحت مثلاًپولیو جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے ایک حقیقت پسندانہ لا ئحہ عمل تیار کرنے اور جمہور ی طرز حکومت پر عوامی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

اس حصے سے مزید

طالبان کی کہانی

مذاکراتی عمل میں، داستانِ جنگ کو یکسر فراموش کردینا حکومت کی بڑی اور بنیادی غلطی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات

سب کچھ ماورائی فلموں جیسا لگتا ہے لیکن پاکستان سمیت کوئی بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔

ٹی ٹی پی ڈرائیونگ سیٹ پر؟

خفیہ رکھے گئے مذاکرات پر پیشرفت کے دعوے، لگتا ہے ٹی ٹی پی پھر فائدے میں ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

یمین زبیری
27 جولائ, 2012 20:19
اوپر مضمون میں ایم کیو ایم کی دوسری جماعتوں سے چپقلشوں کے بارے میں لکھا گیا ہے. میرا یہ کہنا ہے کہ آپس میں بات چیت کریں گے تو یہ رنجشیں بھی دور ہو سکتی ہیں. بات چیت کا جاری رہنا بہت ضروری ہے. چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد. میں یہاں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ جو لوگ بات چیت نہیں کرتے وہ بچکانہ ذہنیت رکھتے ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔