17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

انصاف، سموسے اور شتر مرغ

ostrich-samosa-shyema-blog-290
تصویری خاکہ - نادر صدیقی/ ڈان۔کام

پنجاب حکومت کی پھرتی اور ہوشیاری پر داد دینی چاہیے۔ پچھلے دنوں میں انہوں نے کافی اہم قومی فیصلے کیئے جن میں سموسے اور شتر مرغ بھی شامل تھے۔

گھنٹوں بجلی اور پانی کے بغیر گھر بند پنجابیوں کو کم از کم ایک خوشی تو ملی کہ اب شتر مرغ ایک پرندہ نہیں کہلا سکتا اور سموسے اب سستے رہیں گے۔

مجھے یقین ہے کہ اگر موقع ملتا تو سندھ حکومت بھی ایسے فیصلے کرنے کی طرف بڑھتی، مگر افسوس وہ امن و امان پر تبصرے کرنے اور سندھی ٹوپی کے دن منانے میں کافی مصروف نظر آتی ہے۔

پنجاب کی طرف فرائنگ پین میں واپس چھلانگ مارنے سے پہلے، ایک منٹ ذرا بیچارے شتر موغ پر بات کر لیتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شتر مرغ اب پرندہ نہیں بلکہ جانور کہلائے گا۔ یہ فیصلہ اس لیئے کیا گیا کہ شتر مرغ کو ذبیح کرنے، پکانے اور کھانے جیسے قومی سطح کے فرائض ادا کیئے جا سکیں۔ مگر سوچنے کی بات ہے کہ پنجابیوں کے پہلے ہی بڑھے ہوئے دسترخوانوں پر کیا ابھی شتر مرغ کی گنجائش موجود تھی؟

جہاں کھانے پکانے کی بات ہو رہی ہے، ظاہر ہے وہاں امیروں کے ٹیکس چرانے اور کھانے پینے کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کرنے جیسے غیر اہم باتوں کو کیوں سوچیں۔ لیکن ہاں، سموسوں کی قیمت فکس کرنا بے حد ضروری ہے، آخر اس سے ہماری میعشت مضبوط ہو گی۔

دو ہزار نو میں لاہور کی مقامی حکومت نے سموسوں کی قیمت چھ روپے مقرر کی تھی۔ جن دکانداروں نے چھ روپے سے زیادہ میں سموسے بیچنے کی غلطی کی، ان کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تھی۔کاش اسی پھرتی سے چوروں کے خلاف بھی ایکشن ہوتا لیکن شاید پاکستان میں چوری سے زیادہ بڑا مسئلہ سموسہ پارٹیاں ہیں۔

اسی طرح لگتا ہے سپریم کورٹ کو بھی پنجابیوں کی صحت کی زیادہ فکر ہےلہذا انہوں نے پنجاب حکومت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔اسی لیئے اس نے کہا کہ سموسے کی قیمت پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔اب سپریم کورٹ کے پاس سموسوں کیلئے اتنا وقت کہاں سے آیا، یہ تو ہمیں نہیں پتا، لیکن شاید عدالت یہ نہیں چاہتی تھی کہ سب پنجابی سموسوں پر ٹوٹ پڑیں۔ یہ کرنے سے ان کی صحت میں ضرورت سے زیادہ اضافے کا ڈر یقینی ہے۔

لیکن کیا سپریم کورٹ صدر اور ان کے متعلقہ معاملات پر پھیکی خط و کتابت سے بور ہو چکی ہے اور عدالتی کارروائیوں میں 'مصالحے' کی خواہش مند ہے؟ یہ ہمیں نہیں معلوم۔

سپریم کورٹ سے ہزاروں لوگ انصاف کی امید رکھتے ہیں اور شاید اسی لیئے سپریم کورٹ نے خود کو سموسے، جلیبی اور چارٹ کی قیمتیں مقرر کرنے میں مصروف رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب حکومت سے تو ہم اتنی امید نہیں رکھ سکتے لیکن سپریم کورٹ تو ایک امید کی کرن تھی ہمارے لیئے۔

جس دن پاکستان میں تمام اقلیتیں محفوظ ہوں اور سب لاپتہ افراد واپس گھر لوٹ آئیں، اس دن عدلیہ کھانے پینے کی قیمتوں کے ساتھ کھیل سکتی ہے۔

جس دن سارے مجرم اور ان کے ساتھ ساتھ سارے بدعنوان سیاستدان اور بیوروکریٹ جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہوں گے، اس دن عدلیہ لاہور کے بیکرز کو آڑھے ہاتھوں لے سکتی ہے لیکن فی الحال عدلیہ کےپاس مہلت نہیں ہے- فی الحال عدلیہ کو سوچنا ہو گا کہ ملک کے لئے زیادہ ضروری کیا ہے؟


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (5)

fahad Khan 2
27 جولائ, 2012 18:09
پنجاب حکومت کا انقلابی اقدام۔ مقابلہ برائے تجویزِ نام شُتر مرغ۔ جیتنے والے کو انعام میں چھوٹا کمپیوٹر ملے گا۔
نادیہ خان
28 جولائ, 2012 08:19
ہا ہا ہا! اور اس کمپیوٹر کو آپ چلا سکیں یا نہیں اس میں سموسے ضرور تل سکتے ہیںِ.
مختارآزاد
28 جولائ, 2012 10:15
عدلیہ عوام کے مفاد میں کام کررہی ہے، یہ اور بات کہ کچھ عالم پناہ جیسے کرا
کنول
29 جولائ, 2012 16:21
کسی پنجاب جلے کی دل کی اہ لگتی ہے . بات تو مزہ میں کہی گئی ہے لیکن جتنی پنجاب اور پنجابیوں کا نام لیکر طنز کسا گیا ہے وہ دلی حالت کا آئینہ دار ہے
عبدالعلیم چودھری
31 جولائ, 2012 09:34
پنجابیوں پر طنز والی بات خوب کہی...ویسے لگتا ایسے ہی ہے کہ سموسوں،شُترمُرغ اور انصاف سے زیادہ توجہ پنجاب پر تنقید پر مرکوز رہی ہے.......
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟