24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

'توہین عدالت قانون آزاد عدلیہ کیلئے موت کے مترادف'

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ توہین عدالت کے نئے قانون کا منطقی انجام جو بھی ہوملک میں جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف درخواستوں کی بروز پیر سماعت کی۔

درخواست گزار وںکے وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ نئے قانون سے عدلیہ کی تضحیک کا لفظ نکال دیا گیا ہے، کوئی بھی شخص جب جج بن جائے تو اس کی تعظیم لازمی ہوجاتی ہے۔

درخواست گزار شاہد اورکزئی نے دلائل میں کہا کہ معافی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب آئین نے ہی کسی کو استثنی اور معافی نہیں دی تو قانون کیسے دے سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کی رو سے وفاق اور صوبے الگ الگ قانون سازی کرسکتے ہیں، آئین کے مطابق قانون سازی کا اختیار صرف وفاق کے پاس نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 204میں جہاں قانون کا ذکر ہے وہاں پارلیمنٹ کا تذکرہ نہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ جس کے حق میں فیصلہ ہوجائے اس کیلئے تو سب اچھا ہے مگر جس کے خلاف فیصلہ ہوجائے وہ عدلیہ کا دشمن بن جاتا ہے۔

ایک اوردرخواست گزارمحمود احمد بھٹی کا دلائل میں کہنا تھا کہ توہین عدالت قانون  2012آزاد عدلیہ کیلئے موت کے مترادف ہے اور اس کے ذریعے عدالتی اختیارات کوچھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کے موجود ہ قانون میں بھی شوکازنوٹس کے اجرا ء پرانٹراکورٹ اپیل کے لیے طریقہ کاررکھا ہے ، اس کا مقصد عدالتی کاروائی کوطویل کرنا ہے۔

دیگر درخواست گزاروں جن میں ناصرہ جاوید اقبال اور بار کونسل کی درخواست پر لطیف آفریدی  شامل ہیں نے اپنے دلائل مکمل کر تے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ توہین عدالت کا قانون عجلت میں بنایا گیا جب کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ اٹھارہ کروڑ عوام کیلئے ہیں،کیس کا منطقی انجام جو بھی ہوملک میں جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نبی پاک نے بھی اپنے آخری خطبے میں کہا تھا کہ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ، پارلیمنٹ ، عدالت عظمی ، سول سوسائٹی اور میڈیا میں بحث صحتمندانہ اقدام ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان کوئی محاذ آرائی نہیں، ہم سب ایک ہیں،اس طرح کی کارروائی میں کوئی کسی کا مخالف نہیں ہوتا۔

کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

وفاقی حکومت نے آزادی تقریبات کا اعلان کر دیا

تقریبات کا اعلان کرتے ہوئے سعد رفیق نے تحریک انصاف کے مارچ کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-