17 ستمبر, 2014 | 21 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'توہین عدالت قانون آزاد عدلیہ کیلئے موت کے مترادف'

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ توہین عدالت کے نئے قانون کا منطقی انجام جو بھی ہوملک میں جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف درخواستوں کی بروز پیر سماعت کی۔

درخواست گزار وںکے وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ نئے قانون سے عدلیہ کی تضحیک کا لفظ نکال دیا گیا ہے، کوئی بھی شخص جب جج بن جائے تو اس کی تعظیم لازمی ہوجاتی ہے۔

درخواست گزار شاہد اورکزئی نے دلائل میں کہا کہ معافی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب آئین نے ہی کسی کو استثنی اور معافی نہیں دی تو قانون کیسے دے سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کی رو سے وفاق اور صوبے الگ الگ قانون سازی کرسکتے ہیں، آئین کے مطابق قانون سازی کا اختیار صرف وفاق کے پاس نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 204میں جہاں قانون کا ذکر ہے وہاں پارلیمنٹ کا تذکرہ نہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ جس کے حق میں فیصلہ ہوجائے اس کیلئے تو سب اچھا ہے مگر جس کے خلاف فیصلہ ہوجائے وہ عدلیہ کا دشمن بن جاتا ہے۔

ایک اوردرخواست گزارمحمود احمد بھٹی کا دلائل میں کہنا تھا کہ توہین عدالت قانون  2012آزاد عدلیہ کیلئے موت کے مترادف ہے اور اس کے ذریعے عدالتی اختیارات کوچھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کے موجود ہ قانون میں بھی شوکازنوٹس کے اجرا ء پرانٹراکورٹ اپیل کے لیے طریقہ کاررکھا ہے ، اس کا مقصد عدالتی کاروائی کوطویل کرنا ہے۔

دیگر درخواست گزاروں جن میں ناصرہ جاوید اقبال اور بار کونسل کی درخواست پر لطیف آفریدی  شامل ہیں نے اپنے دلائل مکمل کر تے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ توہین عدالت کا قانون عجلت میں بنایا گیا جب کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ اٹھارہ کروڑ عوام کیلئے ہیں،کیس کا منطقی انجام جو بھی ہوملک میں جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نبی پاک نے بھی اپنے آخری خطبے میں کہا تھا کہ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ، پارلیمنٹ ، عدالت عظمی ، سول سوسائٹی اور میڈیا میں بحث صحتمندانہ اقدام ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان کوئی محاذ آرائی نہیں، ہم سب ایک ہیں،اس طرح کی کارروائی میں کوئی کسی کا مخالف نہیں ہوتا۔

کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

ملک میں ایک ہی روز پولیو کے تیرہ کیسز سامنے آگئے

سات کیسز فاٹا، تین خیبرپختونخوا، جبکہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں ایک، ایک کیس سامنے آیا ہے۔

عمران خان کا جمعہ کو ’گونوازگو ڈے‘‘ منانے کا اعلان

انہوں نےوزیراعظم کوچیلنج کیاہےکہ اگر نوازشریف اپنے اورخاندان کے تمام اثاثے ظاہر کر دیں تو تحریک انصاف دھرنا ختم کردےگی۔

عمران خان دھاندلی کے الزامات ثابت نہ کرسکے،وزیر اطلاعات

پرویزرشید کاکہناہےکہ پارلیمنٹ اورپی ٹی وی پرحملہ پر پہلے جشن منایا گیا اور مقدمات کے اندراج پر اس سے لاتعلقی ظاہر کی گئی


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈیم، کینال، بیراج، اور ماحول

ہندوستانی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہوئیں، جسکی وجہ سے اپ سٹریم کا پانی پاکستانی چناب اور جہلم میں بہہ آیا ہے

انتخابی اصلاحات: اگلا قدم

بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا، کہ اس معاملے میں سچ سب کے سامنے آئے، اور کوئی شک شبہہ باقی نا رہے۔

بلاگ

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔