21 اپريل, 2014 | 20 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ایل ایچ سی کا لوڈشیڈنگ یکساں کرنے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ۔ فائل فوٹو

لاہور: لاہور ہائیکورٹ (ایل ایچ سی) نے چاروں صوبوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ یکساں کرنے کا حکم  دے دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آج سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف اظہر صدیق ایڈوکیٹ کی درخواست کی سماعت کی۔

سماعات کے دوران چیف جسٹس نے قرار دیا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملہ پر کسی بھی صوبہ سے امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور مساوی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کی جائے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ دوسرے صوبوں میں پنجاب سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے اس کے برعکس پنجاب کے مقابلے میں دوسرے صوبوں میں وصولی کم ہے۔ اس کے باوجود پنجاب سے امتیازی سلوک جاری ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کے چئیرمین ندیم افضل چن کا بجلی کی غیر مساوی لوڈشیڈنگ کے معاملہ پر مستعفی ہونے کی دھمکی بھی امتیازی سلوک کا  اہم ثبوت ہے۔

عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت ،وزارت پانی وبجلی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو سات اگست تک نوٹسز جاری کردیئے۔

عدالت نے پیپکو سے وی وی آئی پیز کی لوڈ شیڈنگ کا طریقہ بھی طلب کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

'طالبان کے مطالبات قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں'

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔

وزیر اعظم کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست مسترد

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیرِ اعظم کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔

ڈیرہ غازی خان: ٹریفک حادثے میں 14 ہلاکتیں

یہ واقعہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے کوٹ چٹھہ میں اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر چڑھ گئی۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔