19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

نیٹو رسد کی بحالی کے معاہدے پر دستخط آج ہونگے

نیٹو رسد۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: نیٹو رسد کی بحالی کے لیئے پاکستان اور امریکا منگل کے روز مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کریں گے۔

قائم  مقام امریکی سفیر رچرڈ ہاگلینڈ اور وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمرل فرخ احمد اپنی حکومتوں کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔

ایک دفعہ اس معاہدے پر دستخط ہوجائے گی تو یہ پرانے زبانی معاہدے کی جگہ لے لے گا۔

خیال رہے کہ نیٹو رسد تین جولائی کو امریکا کی سلالہ چیک پوسٹ پر حملے پر معافی کے بعد بحال ہوئی تھی۔ چھبیس نومبر کو ہونے والے اس حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

یہ نیا معاہدہ جو سن دو ہزار پندرہ تک چلے گا، بعد میں تجدید بھی کیا جاسکتا ہے۔

امریکی سفارت خانے کے ترجمان مارک سٹرح نے ڈان کو بتایا کہ معاہدہ صرف نیٹو رسد کا ہوگا جس میں کوئی پیشگی شرائط نہیں ہوگیں۔

البتہ پاکستان اضافی چارجز بڑھانے کا خواہش مند تھا لیکن امریکا اس بات کے لیئے تیار نہ تھا اور پاکستان کو اپنا یہ مطالبہ ختم کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک سے دفاع کے حکام نے آپریشنل معاملات پر بات چیت کرنے کے لئے باقاعدگی سے ملاقات کریں گے۔

اس حصے سے مزید

یوم نجات کے لیے پی ٹی آئی اور انتظامیہ کی تیاریاں

یوم نجات منانے کے اعلان کے بعد سے پی ٹی آئی اور انتظامیہ نے طاقت کے اس مظاہرے کے لیے اپنی اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے اعلان کا مطالبہ

حزب اختلاف کی جماعتوں کےسیاسی جرگےنےنوازشریف،عمران خان اورطاہرالقادری کوخط لکھاہےجس میں یہ مطالبہ کیاگیاہے۔

وزیراعظم، اسمبلی کے 70 فیصد ارکان ٹیکس نہیں دیتے، عمران

گزشتہ حکومت میں نوازشریف کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا پھر پروٹوکول کیوں تھا، سربراہ پی ٹی آئی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔