24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

نیٹو رسد کی بحالی کے معاہدے پر دستخط آج ہونگے

نیٹو رسد۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: نیٹو رسد کی بحالی کے لیئے پاکستان اور امریکا منگل کے روز مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کریں گے۔

قائم  مقام امریکی سفیر رچرڈ ہاگلینڈ اور وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمرل فرخ احمد اپنی حکومتوں کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔

ایک دفعہ اس معاہدے پر دستخط ہوجائے گی تو یہ پرانے زبانی معاہدے کی جگہ لے لے گا۔

خیال رہے کہ نیٹو رسد تین جولائی کو امریکا کی سلالہ چیک پوسٹ پر حملے پر معافی کے بعد بحال ہوئی تھی۔ چھبیس نومبر کو ہونے والے اس حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

یہ نیا معاہدہ جو سن دو ہزار پندرہ تک چلے گا، بعد میں تجدید بھی کیا جاسکتا ہے۔

امریکی سفارت خانے کے ترجمان مارک سٹرح نے ڈان کو بتایا کہ معاہدہ صرف نیٹو رسد کا ہوگا جس میں کوئی پیشگی شرائط نہیں ہوگیں۔

البتہ پاکستان اضافی چارجز بڑھانے کا خواہش مند تھا لیکن امریکا اس بات کے لیئے تیار نہ تھا اور پاکستان کو اپنا یہ مطالبہ ختم کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک سے دفاع کے حکام نے آپریشنل معاملات پر بات چیت کرنے کے لئے باقاعدگی سے ملاقات کریں گے۔

اس حصے سے مزید

پاکستان کی صحافی فیض اللہ کی رہائی کیلئے صدر کرزئی سے اپیل

ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز رپورٹر فیض اللہ خان کو افغان سیکورٹی فورسز نے اپریل میں صوبہ ننگرہار سے گرفتار کیا تھا۔

افتخار چوہدری ن لیگ کے 'اوپننگ بیٹسمین' قرار

حکمران جماعت کی طرف سے تمام مبینہ حکمت عملی کے باوجود چودہ اگست کو اسلام آباد میں مارچ کریں گے، شیریں مزاری

اسرائیلی جارحیت: نواز شریف کا ملک میں یومِ سوگ کا اعلان

جعمہ کوسرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزیراعظم نے غزہ کے متاثرین کیلئے 10لاکھ ڈالرامداد کا بھی اعلان کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-