25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

لاہور میں دو بم دھماکے، کم ازکم بیس زخمی

بادامی باغ فروٹ منڈی میں دھماکوں کے بعد شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ – فائل فوٹو

لاہور: بدھ کے روز لاہور کے علاقے بادامی باغ میں واقع فروٹ منڈی میں یکے بعد دیگرے دو دھماکوں سے بیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے جن میں پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، اسکے ساتھ پورے شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پہلا بم فروٹ منڈی کے داخلی دروازے کے پاس ریڑھی کے نیچے نصب کیا گیا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ فروٹ منڈی سےمتصل ٹرک اڈے میں ہوا۔

دھماکے کے بعد پولیس اور ریسکیو اہلکاروں کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور زخمیوں کومیاں منشی اورمیواسپتال منتقل کردیا گیا،جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے سینئرڈاکٹرزکو بھی طلب کرلیاگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں فروٹ منڈی دھماکوں کے بعد سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے دھماکے کے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایات کرتے ہوئے آئی جی پولیس لاہور سے واقعے کی جلد از جلد رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اس حصے سے مزید

گجرات: زمیندار نے دس سالہ بچے کے دونوں بازو کاٹ دیے

معمولی رنجش پر زمیندار کے بیٹے نے تبسم شہزاد کو موٹر پر دھکا دیدیا جس کی زد میں آکر بچے کے دونوں بازو جسم سے جدا ہوگئے

آزادی مارچ، پی ٹی آئی کا حکمت عملی پوشیدہ رکھنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک رسمی طور پر پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

ایک فراموش کردہ یادگار اپنی بحالی کی منتظر

ملتان میں حضرت سلطان باہوؒ کے ایک عقیدت مند بزرگ حضرت دلیر باہوؒ کے مزار کی بحالی کے لیے فنڈزکا انتظار ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-