25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

بے چارہ انقلاب

تصویری خاکہ - خدا بخش ابڑو

بے چارہ انقلاب جو آتے آتے کہیں راستے میں بھٹک گیا تھا، عمران خان کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ خان صاحب نے گرمی میں خراب ہونے والے اپنے ساتھیوں کے آسرے پاکستان میں انقلاب لانے کے دعوے شروع کردیے ہیں، جب کہ انقلاب کا اسپانسر وہی ادارہ ہے جو پاکستان میں پینسٹھ سال سے انقلاب کو روکنے کے فرائض سر انجام دے رہاہے۔

اس نے یا توبڑے بڑے انقلابیوں کو دوسرے کاموں پرلگادیا یا پھرتوبہ تائب کروادی۔ باقی اگر قوم کو بہت ہی زیادہ شوق ہے انقلاب کا تو اس ادارے نے  بہت سارے بنے بنائے انقلابی چھوڑ رکھے ہیں، قوم چاہے تو اپنا شوق پورا کرسکتی ہے۔

اب تو انٹر نیٹ، فیس بک اور ٹوئیٹر یعنی سوشل میڈیا  کا زمانہ ہے۔ لمحوں میں انقلاب کی خبریں اِدھر سے اُدھر پہنچ جاتی ہیں۔ ٹی وی چینل بھی اپنی ذمےداریاں بخوبی نبھا رہے ہیں اورانقلاب کا رنگ سرخ سے سبز میں تبدیل کرنے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کوئی بچا کھچا انقلابی کہیں رہ بھی گیا ہے تو اس کو تو چینل کے قریب پھٹکنے بھی نہیں دینا۔ باقی بنے بنائے انقلابیوں کی ہر طرف بہتات ہے جو  صبح سے رات تک انقلاب کا درس دیتے دیتے نہیں تھکتے۔

جب سوشل میڈیا وجود میں نہیں آیا تھا تب انقلاب کی خبریں کامریڈ لوگ پمفلٹس کے ذریعےپہنچایا کرتے تھے اور وہ بھی چھپ چھپا کے یا پھر پلیجو صاحب گاؤں گوٹھوں میں پہنچ کر یہ نوید دیتے کہ انقلاب ابھی راستے میں ہے ۔ یا پھر شاعر اور ادیب لوگ ہی تھے کہ جنہوں نے انقلاب کی لو کو جلائے رکھ تھا۔ ویسےاب بھی کچھ سر پھرے باقی ہیں کہ جو اس لو کو بجھنے نہیں دیتے لیکن اب انقلاب نے کتابوں میں پناہ لے لی ہے اور باہر نکلنے کے لیے تیار ہی نہیں یا پھرکبھی کبھار کمپیوٹر مانیٹر پر دکھائی دے جاتا ہے۔

انقلاب کا راستہ روکنے اور پاکستان کو ہیروئن، طالبان، کلاشنکوف، خودکش بمبار، جاہلیت  کے تحفے دینے اورنام نہاد مذہب کی آگ میں جھونکنے والے، آج اپنی غلطی پر نادم ہیں۔ اب انہوں نے بھی پینترا بدلا ہے۔ اب وہ بھی روشن فکری،ترقی پسندی اور سوشل میڈیا کو ذریعہ انقلاب بنانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ پہلے جو مذہبی انتہا پسندی کے جتھے تیار ہوئے، ان پربھی ان ہی کی رقم لگی ہوئی تھی۔ اب روشن فکری، ترقی پسندی اور انقلاب پر خرچے کا ذمہ بھی انہوں نے اپنے سر لے لیا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ جب  فیض صاحب کی شاعری مجمعِ عام میں پڑھنے  کے لیے بھی دل گردہ درکار تھا،  اب تو بینکرز بھی جوق دَرجوق، بنے سنورے، اپنی شام بتانے کے لیے بڑے بڑے ہوٹلوں میں جمع ہوتے ہیں  اوربڑے ذوق و شوق سے اورجھوم جھوم کر 'ہم دیکھیں گے،لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے' سنتے ہیں۔

اب تو فیض صاحب کو بھی بھائی لوگوں نے کارپوریٹ بنادیا ہے ۔غریب غربے کی پہنچ سے تو دور ہی ہیں لیکن بچارے جالب صاحب جب زندہ تھے تو بھی مشکل میں تھے، اب تواور بھی مشکل میں ہیں۔

اب جالب صاحب کی نظم 'ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے' ہمیں چھوٹے شریف کی آواز میں سننے کو ملتی ہے۔ جب وہ لہک لہک کر اور جھوم جھوم کرجالب صاحب کی طرز پر یہ نظم  گاتے ہیں تو جالب صاحب کی روح تو تڑپتی ہی ہوگی لیکن ان کے چاہنے والے بھی دل ہی دل میں روتے ہیں۔

جب جالب صاحب لاہور کے ریگل چوک پرخواتین محاذِ عمل کےمظاہروں میں خواتین کے ساتھ خود بھی لاٹھیاں کھاتے اوران کے ساتھ ساتھ اپنا بھی سر پھٹوا کر اپنی نظم 'ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے' پڑھتے تو اس کا اثر ہی کچھ اور ہوتا تھا۔

مگراب۔۔۔ کسی صوبے کا حکمران بھی ہو اور اپنے ہی صوبے میں جلوس بھی نکلوائے اور احتجاج کا اہتمام  بھی کرے اور اپنی ہی پولیس سے گولیاں بھی چلوائے او ر سونے پہ سہاگہ کہ جالب صاحب کی طرز پر 'ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے' بھی جھوم جھوم کر گائے تو جالب صاحب کے نصیب پر ہمارے جیسے بھی سر پیٹ کے رہ جاتے ہیں کہ انقلاب بھی جا کرکس کی منڈیر پہ بیٹھا ہے۔

ہمارے شریف برادران، جو اب شریف سے بدل کرشیخ بن گئے ہیں، وہ بھی اپنے رائے ونڈ والے محل سے انقلاب کا سورج طلوع کرنے کے چکر میں ہیں لیکن عمران خان اس زعم میں مبتلا ہیں کہ نوجوان اور ماڈرن انقلابی نسل جو فیس بک سے اٹھنے کے لیے بھی تیار نہیں، وہ انہیں آخر وہاں پہنچائے گی جہاں پہنچنے میں میاں صاحب رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ویسے انہوں نے میاں صاحب کو کہہ دیا ہے کہ 'جان دیو، ہن ساڈی واری وی آن دیو'۔

بہرحال،  انقلاب آج کل بہت مشکل میں ہے۔ جیسے 'رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی تھی 'ایسی ہی کچھ واردات انقلاب کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔

انقلاب کے نام پربہت کچھ بک رہا ہے۔۔۔ دوائی سے لے کر کپڑوں تک۔۔۔جو آپ کی جیب اجازت دے، آپ بھی خرید سکتے ہیں۔جیب اگر خالی ہے تو خیال بیچیں، بہت پیسہ ہے، بس تھوڑی کوشش کر کے دیکھیں مایوسی نہیں ہوگی۔


وژیول آرٹس میں مہارت رکھنے والے خدا بخش ابڑو بنیادی طور پر ایک سماجی کارکن ہیں، ان کے دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق سے لیکر آمرانہ حکومتوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ڈان میں بطور الیسٹریٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-