20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

صومالی قزاقوں سے رہائی، سات پاکستانی کراچی پہنچ گئے

صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی محمد مجتبیٰ کراچی ایئرپورٹ پر اپنی بیٹیوں کے ہمراہ ۔ اے پی تصویر

کراچی: تاوان کی ادائیگی کے بعد صومالی قزاقوں کی قید سے رہائی پانے والے سات پاکستانی کراچی پہنچ گئے، جن کا کراچی ائیر پورٹ پر شاندار استقبال کیا گیا۔

جمعرات کے روز سات پاکستانیوں کے کراچی ایئرپورٹ پہنچنے پر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد اورمتاثرہ اہلخانہ نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے اور رہائی پانے والے افراد نے وطن واپس پہنچنے پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔

ایم وی ایلبیڈو نامی بحری جہاز کے عملے کو تقریباً ایک سال نو ماہ پہلے صومالی قزاقوں نے یرغمال بنایا تھا۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے گزشتہ روز ذرائع ابلاغ کے نمائیندوں کو بتایا تھا کہ تمام پاکستانی یرغمال صومالی قزاقوں کی قید سے رہائی کے بعد اب محفوظ مقام پر ہیں اور وہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں پاکستان آجائیں گے۔ اس خبر کے بعد یرغمال پاکستانیوں کے اہلِ خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

ان پاکستانیوں کوچھبیس نومبر دوہزار دس میں صومالی ساحل سے نو سو ناٹیکل میل کے فاصلے پرگرفتار کرکے  یرغمال بنایا گیاتھا۔

رہائی پانے والے افراد اور ان کے اہلخانہ کو گورنر ہاؤس  بھی لیجایا گیا جہاں گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ، وزراء اور سیاسی شخصیات موجود تھیں۔ اس موقع پر رہائی پانے والے افراد کے اہلخانہ کی خوشی دیدنی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عید سے پہلے ان کی عید ہو گئی۔

رہائی پانے والے افراد نے اپنی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر حکومت اور دیگر شخصیات کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی، وسان

سندھ کو کوئی تقسیم نہیں کرسکتا، دھرنوں اور احتجاج سے پیدا خطرات ٹل چکے، رہنما پی پی پی۔

شکیل اوج قتل، جامعہ کراچی کے تین اساتذہ سے تفتیش

کلیہ معارف اسلامی کےسربراہ کےخلاف چلائےجانےوالےایس ایم ایس میں مبینہ طورپریہ اساتذہ ملوث تھےجن پر2سال قبل کیس درج ہواتھا

جامعہ کراچی میں تدرسی عمل غیر معینہ مدت کے لیے بند

یونیورسٹی کی ٹیچر سوسائٹی کا کہنا تھا کہ تدریسی عمل اس وقت تک بحال نہیں ہوگا جب تک ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔