20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

توہین عدالت قانون: سماعت مکمل، مختصر فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل کرنے کے بعد مختصر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے  آج درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ  نئے قانون  کو ریاضی کے انداز میں دیکھیں گے تو بہت مشکل ہو جائے گی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی  جنرل سے کہا کہ آپ عدالت کو بولنے نہیں دیتے، ججز کو ان کی بات مکمل کرنے دیں۔

جسٹس خلجی عارف حسین  نےاٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق ہر کامہ اور فل اسٹاپ کا کوئی مطلب نکلتا ہے، لیکن آرٹیکل 204 میں تضحیک، سیکنڈلائز اور توہین عدالت کے الفاظ کسی جگہ نہیں ۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئے قانون کے ذریعے توہین عدالت کا دائرہ وسیع کردیا گیا اور نئے قانون کا استعمال سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ نے کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توہین عدالت کا نیا قانون کافی مفصل ہے، اس میں کوئی سقم نہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آرٹیکل دو سو چار  کے کئی حصے توہین عدالت کے تعریف سے نکال دیئے گئے ہیں۔ آرٹیکل ٹو کو تبدیل کیا جائے تو کیا عدالت اسے نہیں دیکھے گی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ جو کچھہ آئین میں لکھا گیا اسے قانون کے ذریعے توسیع دینا ممکن نہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسار کیا کہ سابق وزیراعظم نے اپیل کیوں دائر نہیں کی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے اچھا کیا کہ اپیل دائر نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت آئین کی صحیح روح سمجھنے سے فروغ پاتی ہے، لیکن آئین کی صحیح روح نہ سمجھنے سے ایک وزیراعظم کھو چکے ہیں۔

جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل کو سابق وزیراعظم کا بار بار تذکرہ کرنے سے منع کیا۔

سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، جو آج سہہ پہر ساڑھے تین بجے سنایا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اب عمران خان کیا کریں گے؟

عمران خان انتخابی اصلاحات اور تحقیقات کی پیشکش کو تسلیم کر کے جیت سکتے تھے لیکن وہ مزید چیزیں داؤ پر لگائے جارہے ہیں۔

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

بلاگ

ڈرامہ ریویو: چپ رہو - حساس ترین موضوع پر بہترین پیشکش

زیادتی جیسے واقعات ہر وقت خبروں میں رہتے ہیں اس حوالے سے یہ ڈرامہ شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

میں باغی ہوں

اس ملک میں کہیں قانون کی حکمرانی نہیں، ہر جگہ لوٹ مار مچی ہے- کسی کو قانون کا پاس نہیں- تبدیلی آئی تو سب کا احتساب ہوگا-

دھرنے، عوام اور امید کی ہار

یہ میچ بھلے ہی جتنا بھی عرصہ جاری رہے، پر اس میں کھیلنے والے اور دیکھنے والے سب ہی ہارنے والے ہیں۔

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔