19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

توہین عدالت قانون: سماعت مکمل، مختصر فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل کرنے کے بعد مختصر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے  آج درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ  نئے قانون  کو ریاضی کے انداز میں دیکھیں گے تو بہت مشکل ہو جائے گی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی  جنرل سے کہا کہ آپ عدالت کو بولنے نہیں دیتے، ججز کو ان کی بات مکمل کرنے دیں۔

جسٹس خلجی عارف حسین  نےاٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق ہر کامہ اور فل اسٹاپ کا کوئی مطلب نکلتا ہے، لیکن آرٹیکل 204 میں تضحیک، سیکنڈلائز اور توہین عدالت کے الفاظ کسی جگہ نہیں ۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئے قانون کے ذریعے توہین عدالت کا دائرہ وسیع کردیا گیا اور نئے قانون کا استعمال سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ نے کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توہین عدالت کا نیا قانون کافی مفصل ہے، اس میں کوئی سقم نہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آرٹیکل دو سو چار  کے کئی حصے توہین عدالت کے تعریف سے نکال دیئے گئے ہیں۔ آرٹیکل ٹو کو تبدیل کیا جائے تو کیا عدالت اسے نہیں دیکھے گی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ جو کچھہ آئین میں لکھا گیا اسے قانون کے ذریعے توسیع دینا ممکن نہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسار کیا کہ سابق وزیراعظم نے اپیل کیوں دائر نہیں کی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے اچھا کیا کہ اپیل دائر نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت آئین کی صحیح روح سمجھنے سے فروغ پاتی ہے، لیکن آئین کی صحیح روح نہ سمجھنے سے ایک وزیراعظم کھو چکے ہیں۔

جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل کو سابق وزیراعظم کا بار بار تذکرہ کرنے سے منع کیا۔

سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، جو آج سہہ پہر ساڑھے تین بجے سنایا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔