23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ايفی ڈرين کيس کی سماعت، سيکريٹری داخلہ غیرحاضر

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: ايفی ڈرين کيس ميں سيکريٹری داخلہ سپريم کورٹ ميں پيش نہيں ہوئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر وہ پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس کی سربراہی ميں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایفی ڈرین کیس میں ڈاکٹر تنویر کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت سيکريٹری نیشنل ریگولیشن اینڈ سروسز عدالت میں پیش ہوئے تاہم سیکرٹری داخلہ خواجہ صديق اکبر پیش نہيں ہوئے، جس پر عدالت نے برہمي کا اظہار کيا۔

مقدمے کی مزيد سماعت چھ اگست کو ہوگی۔

یکم آگست کو ہونے والی سماعت میں طاہر نے اکبر پر الزام لگایا تھا کہ وہ سابق سیکرٹری صحت خوشنود اختر لاشاری کو ان معمالات سے کلیئر کرنے کے لیئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

بینچ نے سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کردیا تھا۔

طاہ نے یہ کہا تھا کہ قومی قوانین اور خدمات کی منسٹر فردوس عاشق اعوان اور اس کے رکن انتظامیہ ڈاکٹر عبدالرشید ان کو ہراساں کررہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

دسواں دن:تحریک انصاف اورحکومتی ٹیم میں مذاکرات ختم، ڈیڈلاک برقرار

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

عمران خان کا نواز شریف سے ایک ماہ کیلئے استعفی کا مطالبہ

پی ٹی آئی کے دھرنے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایک ماہ کے لیے بھی کرسی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایل او سی خلاف ورزی: ہندوستان کو ڈی جی ایم اوز کی ملاقات کی تجویز

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر ہندوستان کے پاس سرحد پر دراندازی کے ثبوت ہیں تو پیش کرے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈرامے کی آخری قسط

اب اس آخری میلوڈرامہ کا جو بھی انجام ہو- اس نے پاکستانیوں کی آخری ہلکی سی امید کوبھی ریزہ ریزہ کردیا ہے-

پی ٹی آئی کی خالی دھمکیاں

جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، وہ حقیقت سے دور ہیں۔ ایسا کوئی راستہ موجود نہیں، جس سے پارٹی اپنی ان دھمکیوں پر عمل کر سکے۔

بلاگ

سیاست میں شک کی گنجائش

شکوک کے ساتھ ساتھ ان افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔