23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ايفی ڈرين کيس کی سماعت، سيکريٹری داخلہ غیرحاضر

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: ايفی ڈرين کيس ميں سيکريٹری داخلہ سپريم کورٹ ميں پيش نہيں ہوئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر وہ پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس کی سربراہی ميں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایفی ڈرین کیس میں ڈاکٹر تنویر کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت سيکريٹری نیشنل ریگولیشن اینڈ سروسز عدالت میں پیش ہوئے تاہم سیکرٹری داخلہ خواجہ صديق اکبر پیش نہيں ہوئے، جس پر عدالت نے برہمي کا اظہار کيا۔

مقدمے کی مزيد سماعت چھ اگست کو ہوگی۔

یکم آگست کو ہونے والی سماعت میں طاہر نے اکبر پر الزام لگایا تھا کہ وہ سابق سیکرٹری صحت خوشنود اختر لاشاری کو ان معمالات سے کلیئر کرنے کے لیئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

بینچ نے سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کردیا تھا۔

طاہ نے یہ کہا تھا کہ قومی قوانین اور خدمات کی منسٹر فردوس عاشق اعوان اور اس کے رکن انتظامیہ ڈاکٹر عبدالرشید ان کو ہراساں کررہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

حکومت کو پولیو ایمرجنسی سینٹر قائم کرنے کی جلدی

ایسا نظر آتا ہے کہ اس مرکز کا قیام انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈکو مطمین کرنے کے لیے عمل میں لایا جارہا ہے ۔

سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی ختم

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب متاثرین کو فی خاندان 25 ہزار روپے امداد دی جائے۔

جاوید ہاشمی کی پی ٹی آئی رکنیت معطل

جاوید ہاشمی کو وضاحت کیلئے انتیس ستمبر کو پارٹی سیکریٹریٹ میں طلب کرلیا گیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-