02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

ايفی ڈرين کيس کی سماعت، سيکريٹری داخلہ غیرحاضر

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: ايفی ڈرين کيس ميں سيکريٹری داخلہ سپريم کورٹ ميں پيش نہيں ہوئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر وہ پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس کی سربراہی ميں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایفی ڈرین کیس میں ڈاکٹر تنویر کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت سيکريٹری نیشنل ریگولیشن اینڈ سروسز عدالت میں پیش ہوئے تاہم سیکرٹری داخلہ خواجہ صديق اکبر پیش نہيں ہوئے، جس پر عدالت نے برہمي کا اظہار کيا۔

مقدمے کی مزيد سماعت چھ اگست کو ہوگی۔

یکم آگست کو ہونے والی سماعت میں طاہر نے اکبر پر الزام لگایا تھا کہ وہ سابق سیکرٹری صحت خوشنود اختر لاشاری کو ان معمالات سے کلیئر کرنے کے لیئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

بینچ نے سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کردیا تھا۔

طاہ نے یہ کہا تھا کہ قومی قوانین اور خدمات کی منسٹر فردوس عاشق اعوان اور اس کے رکن انتظامیہ ڈاکٹر عبدالرشید ان کو ہراساں کررہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

طاہر القادری بھی عمران خان کے نقشِ قدم پر

عوامی تحریک کے قائد نے دھرنے سے آگے کے لائحہ عمل کااعلان کرتے ہوئے فیصل آباد اور لاہور میں جلسے کرنے کااعلان کردیا ہے۔

گندگی کی وجہ سے دھرنے کے شرکاء بیمار پڑ رہے ہیں

پی اے ٹی کے دھرنے میں تقریباً 75 فیصد شرکاء ڈائریا، ملیریا، جلد، گلے اور سینے کے انفیکشن کا شکار ہورہے ہیں۔

ایڈمرل ذکاء اللہ پاک بحریہ کے نئے چیف مقرر

ترقی پانے والے ایڈمرل ذکاء اللہ سات اکتوبر سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنوبی پنجاب کا کیس

پنجاب اس وقت دنیا کی سب سے بڑی وفاقی اکائیوں میں سے ہے۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑا ہے۔

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

بلاگ

کیا آپ کی گائے برانڈڈ ہے؟

ہرعید الاضحیٰ کے ساتھ جانوروں پر شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری: حقیقت یا سراب؟

حکومت نے کئی ارب روپے سے میٹرو بس منصوبہ شروع کر رکھا ہے مگر عوام کو سیلاب سے بچانے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

گو نواز گو!

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔