29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ايفی ڈرين کيس کی سماعت، سيکريٹری داخلہ غیرحاضر

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: ايفی ڈرين کيس ميں سيکريٹری داخلہ سپريم کورٹ ميں پيش نہيں ہوئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر وہ پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس کی سربراہی ميں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایفی ڈرین کیس میں ڈاکٹر تنویر کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت سيکريٹری نیشنل ریگولیشن اینڈ سروسز عدالت میں پیش ہوئے تاہم سیکرٹری داخلہ خواجہ صديق اکبر پیش نہيں ہوئے، جس پر عدالت نے برہمي کا اظہار کيا۔

مقدمے کی مزيد سماعت چھ اگست کو ہوگی۔

یکم آگست کو ہونے والی سماعت میں طاہر نے اکبر پر الزام لگایا تھا کہ وہ سابق سیکرٹری صحت خوشنود اختر لاشاری کو ان معمالات سے کلیئر کرنے کے لیئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

بینچ نے سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کردیا تھا۔

طاہ نے یہ کہا تھا کہ قومی قوانین اور خدمات کی منسٹر فردوس عاشق اعوان اور اس کے رکن انتظامیہ ڈاکٹر عبدالرشید ان کو ہراساں کررہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد میں فوج کا معاملہ پارلیمنٹ میں

پی پی پی نے اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کا حکومتی فیصلے پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

آرٹیکل 245 کا نفاذ: حکومتی اعلامیے کی نقل پیش کرنیکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے حکمنامے کی نقل پیش کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔

فوج طلب کرنے پر وزارت داخلہ و دیگر کو نوٹسز جاری

اگر اسلام آباد میں ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس سے حکومتی رٹ کمزور ہوگی، درخواست گزار۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔