02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

برطانیہ میں پاکستانی والدین کو اپنی بیٹی کے قتل کے جرم میں قید

شفیلیہ کے والد افتخار احمد۔اے پی فوٹو

لندن: سترہ سالہ شفیلیہ کے پاکستانی والدین کو اپنی بیٹی کے قتل کے جرم میں جمعے کے روز عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

شفیلیہ کی بہن نے عدالت کو گواہی دی کہ کس طرح اس کے والدین نے شفیلیہ کا گلہ گھونٹ کر اس کی بہن قتل کیا۔

افتخار اور فرزانہ نے اپنی بیٹی شفیلیہ کو سن دو ہزار تین میں قتل کیا تھا اور اسکی لاش پھینک دی تھی۔

شفیلیہ کی بہن علیشا نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنے والدین کو شفیلیہ کو دھکیلتے ہوئے دیکھا تھا، اس کے بعد اس نے اپنی ماں کی آواز سنی جو کہہ رہی تھیں کہ 'اسے یہی مار ڈالو'۔

پروسیکیوٹر کے مطابق شفیلیہ دس سال کی تھی جب اس نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف بغاوت کرنی شروع کی۔

شفیلیہ کے اسکول کے دوستوں نے بتایا کہ کس طرح شفیلیہ اسکول میں مغربی لباس پہنا کرتی تھی لیکن جیسے ہی اس کے والدین اس کو لینے آتے تو کپڑے بدل لیتی۔

شفیلیہ کے انہی دوستوں نے بتایا کہ کس طرح شفیلیہ اسکول روتے ہوئے آتی تھی اور اپنی آمی کے ڈانٹنے کی شکایت کرتی تھی۔

لیکن آخری سالوں میں شفیلیہ کے مراسم کچھ لڑکوں سے بھی ہوگئے تھے جس کی وجہ سے سفیلیہ کے والدین نے اس کو جبری گھر بیٹھانے کی کوشش کی۔

نومبر دو ہزار دو اور دو ہزار تین کے بیچ شفیلیہ نے اپنے دوستوں اور ٹیچرز نے اس پر گھر پر مزید تشدد ہونے کی تصدیق کی۔

فروری سن دو ہزار تین میں شفیلیہ اپنے لڑکے دوست مشتاق کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی اور حکومت سے فوری رہائیش کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کے والدین اس کی شادی زبردستی اس کے ایک کزن کے ساتھ کرنا چاہ رہے تھے۔

اسی مہینے اس کے والدین اسے پاکستان لے کر آئے تھے جہاں اس نے ارینج میریج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بلیچ پی لیا تھا۔ جب وہ مئی سن دو ہزار تین میں واپس برطانیہ آئی تو اسے گلے میں بلیچ کی وجہ سے خرابی کی بناہ پر ہسپتال میں رکھا گیا۔

ہسپتال سے گھر آنے کے بعد بھی اس کے مغربی لباس تن کرنے پر اس کے اور اس کے والدین کے بیچ تنازعات جاری رہے۔

شفیلیہ کی بہن نے بتایا کہ اس کے والدین نے شفیلیہ کو مارا، اس کے منہ کے اندر پلاسٹک بیگ گھسا کر اس کے ناک اور منہ پر ھاتھ روک کر اس کا دم گھونٹ دیا۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں ایک سو آٹھ ملین مسلمان مقیم ہیں۔

اس حصے سے مزید

صاف ہندوستان مہم: مودی جھاڑو لیے دہلی کی سڑکوں پر

ہندوستان میں مہاتما گاندھی کے جنم دن کے موقع پر ’صاف ہندوستان‘ مہم کے تحت وزیر اعظم نریندرا مودی نے بذات خود جھاڑو لگائی

انڈیا، امریکا کا دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کا عہد

مشترکہ بیان میں پاکستان پر ممبئی حملوں کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے پر بھی زور۔

'مکہ کی تعمیر نو: ' تاریخی حقائق کو مٹا دیا گیا

ناقدین کےمطابق "یہ مکہ نہیں بلکہ اس سے الگ کوئی جگہ ہے، یہ ٹاور اور اس کی روشنیاں بالکل لاس ویگاس کا منظر پیش کرتی ہیں"۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

یمین الاسلام زبیری
06 اگست, 2012 02:15
اس قسم کے واقعات کی وجہ ایک یہ ہوسکتی ہے کہ والدین اپنے جاننے والوں کے سامنے شرمندگی سے مرے جاتے ہیں. انہیں کرنا یہ چایے کہ اپنی ایسی اولاد، جو ان کا کہنا نہیں مان رہی ہے اسے اپنے سے الگ کر دینا چاہئے. اور کبھی ملاقات ہو تو ایسے ان سے ملیں جیسے دور کے دوستوں سے ملا جاتا ہے، یعنی خیریت ضرور پوچھیں. رہا لوگوں کا تو ان سے کہہ دیں کے اب ان کا ان سے کوئی تعلق نہیں. ایسا کرنا مشکل ضرور ہے، نا ممکن نہیں. اس کے علاوہ چارہ بھی نہیں. ساتھ رہنا خلجان کا باعث ہے اور قتل تو گناہ کبیرا ہے.
لاریب
06 اگست, 2012 10:02
درست کھا یمین بھائی آپ نے.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنوبی پنجاب کا کیس

پنجاب اس وقت دنیا کی سب سے بڑی وفاقی اکائیوں میں سے ہے۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑا ہے۔

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

بلاگ

کیا آپ کی گائے برانڈڈ ہے؟

ہرعید الاضحیٰ کے ساتھ جانوروں پر شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری: حقیقت یا سراب؟

حکومت نے کئی ارب روپے سے میٹرو بس منصوبہ شروع کر رکھا ہے مگر عوام کو سیلاب سے بچانے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

گو نواز گو!

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔