22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

برطانیہ میں پاکستانی والدین کو اپنی بیٹی کے قتل کے جرم میں قید

شفیلیہ کے والد افتخار احمد۔اے پی فوٹو

لندن: سترہ سالہ شفیلیہ کے پاکستانی والدین کو اپنی بیٹی کے قتل کے جرم میں جمعے کے روز عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

شفیلیہ کی بہن نے عدالت کو گواہی دی کہ کس طرح اس کے والدین نے شفیلیہ کا گلہ گھونٹ کر اس کی بہن قتل کیا۔

افتخار اور فرزانہ نے اپنی بیٹی شفیلیہ کو سن دو ہزار تین میں قتل کیا تھا اور اسکی لاش پھینک دی تھی۔

شفیلیہ کی بہن علیشا نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنے والدین کو شفیلیہ کو دھکیلتے ہوئے دیکھا تھا، اس کے بعد اس نے اپنی ماں کی آواز سنی جو کہہ رہی تھیں کہ 'اسے یہی مار ڈالو'۔

پروسیکیوٹر کے مطابق شفیلیہ دس سال کی تھی جب اس نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف بغاوت کرنی شروع کی۔

شفیلیہ کے اسکول کے دوستوں نے بتایا کہ کس طرح شفیلیہ اسکول میں مغربی لباس پہنا کرتی تھی لیکن جیسے ہی اس کے والدین اس کو لینے آتے تو کپڑے بدل لیتی۔

شفیلیہ کے انہی دوستوں نے بتایا کہ کس طرح شفیلیہ اسکول روتے ہوئے آتی تھی اور اپنی آمی کے ڈانٹنے کی شکایت کرتی تھی۔

لیکن آخری سالوں میں شفیلیہ کے مراسم کچھ لڑکوں سے بھی ہوگئے تھے جس کی وجہ سے سفیلیہ کے والدین نے اس کو جبری گھر بیٹھانے کی کوشش کی۔

نومبر دو ہزار دو اور دو ہزار تین کے بیچ شفیلیہ نے اپنے دوستوں اور ٹیچرز نے اس پر گھر پر مزید تشدد ہونے کی تصدیق کی۔

فروری سن دو ہزار تین میں شفیلیہ اپنے لڑکے دوست مشتاق کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی اور حکومت سے فوری رہائیش کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کے والدین اس کی شادی زبردستی اس کے ایک کزن کے ساتھ کرنا چاہ رہے تھے۔

اسی مہینے اس کے والدین اسے پاکستان لے کر آئے تھے جہاں اس نے ارینج میریج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بلیچ پی لیا تھا۔ جب وہ مئی سن دو ہزار تین میں واپس برطانیہ آئی تو اسے گلے میں بلیچ کی وجہ سے خرابی کی بناہ پر ہسپتال میں رکھا گیا۔

ہسپتال سے گھر آنے کے بعد بھی اس کے مغربی لباس تن کرنے پر اس کے اور اس کے والدین کے بیچ تنازعات جاری رہے۔

شفیلیہ کی بہن نے بتایا کہ اس کے والدین نے شفیلیہ کو مارا، اس کے منہ کے اندر پلاسٹک بیگ گھسا کر اس کے ناک اور منہ پر ھاتھ روک کر اس کا دم گھونٹ دیا۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں ایک سو آٹھ ملین مسلمان مقیم ہیں۔

اس حصے سے مزید

گینگ ریپ ’معمولی‘ قرار دینے پر انڈین وزیر کے خلاف غم و غصے کی لہر

وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ گینگ ریپ کے ایک معمولی واقعے کو شہرت دینے سے سیاحت کو لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔

عراق: مسجد پر حملے میں 30 ہلاک

سیکورٹی ذرائع کے مطابق صوبہ دیالی میں یعقوبہ شہر کے ہسپتال میں کم از کم 30 لاشیں لائی گئیں ہیں۔

بگرام جیل سے نو پاکستانی حکام کے حوالے

یہ افراد جمعرات کی صبح پاکستان پہنچے اور ان کی بریت کے حوالے سے دفتر خارجہ امریکا سے رابطے میں تھا، ترجمان دفتر خارجہ۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

یمین الاسلام زبیری
06 اگست, 2012 02:15
اس قسم کے واقعات کی وجہ ایک یہ ہوسکتی ہے کہ والدین اپنے جاننے والوں کے سامنے شرمندگی سے مرے جاتے ہیں. انہیں کرنا یہ چایے کہ اپنی ایسی اولاد، جو ان کا کہنا نہیں مان رہی ہے اسے اپنے سے الگ کر دینا چاہئے. اور کبھی ملاقات ہو تو ایسے ان سے ملیں جیسے دور کے دوستوں سے ملا جاتا ہے، یعنی خیریت ضرور پوچھیں. رہا لوگوں کا تو ان سے کہہ دیں کے اب ان کا ان سے کوئی تعلق نہیں. ایسا کرنا مشکل ضرور ہے، نا ممکن نہیں. اس کے علاوہ چارہ بھی نہیں. ساتھ رہنا خلجان کا باعث ہے اور قتل تو گناہ کبیرا ہے.
لاریب
06 اگست, 2012 10:02
درست کھا یمین بھائی آپ نے.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔