01 اگست, 2014 | 4 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

فوج اور جوگ

ریل کی سیٹی

ہندوستان کی سر زمین پہ سولہ اپریل ۱۸۵۳ کے دن پہلی بار ریل چلی تھی۔ جس طرح پل بنانے والے نے دریا کے اس پار کا سچ اس پار کے حوالے کیا ، اسی طرح ریل کے انجن نے فاصلوں کو نیا مفہوم عطا کیا۔ اباسین ایکسپریس ، کلکتہ میل اور خیبر میل صرف ریل گاڑیوں کے نام نہیں بلکہ ہجر، فراق اور وصل کے روشن استعارے تھے۔

اب جب باؤ ٹرین جل چکی ہے ا ور شالیمار ایکسپریس بھی مغلپورہ ورکشاپ کے مرقد میں ہے، میرے ذہن کے لوکوموٹیو شید میں کچھ یادیں بار بار آگے پیچھے شنٹ کر رہی ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو میں نے ریل میں بیٹھ کر تو کبھی دروازے میں کھڑے ہو کر خود سے کی ہیں۔وائی فائی اور کلاؤڈ کے اس دور میں، میں امید کرتا ہوں میرے یہ مکالمے آپ کو پسند آئیں گے۔


تصویری خاکہ - ماہ جبیں / ڈان ۔ کام

ریل کہانی دینہ سے آگے بڑھے تو کلوال، کالا گوجراں سے ہوتے ہوئے اسے جہلم جا کر رکنا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ کوئی آواز ہے جو بار بار مسافر کو روکتی ہے۔

پرانی کہانیوں کی مانند اسے پیچھے مڑنے کا بھی کہتی ہے اور کان میں سرگوشی بھی کرتی ہے کہ پیچھے مڑ کر دیکھا تو پتھر کے ہو جاؤ گے۔ اسی الجھن میں میں جہلم نہیں پہنچ پایا اور شاید اسی لئے سارا شہر بھی پتھر کا ہو چکا ہے۔

دینہ کے بعد ایک ویرانہ ہے جسے محکمہ مال کی قانونگوئی، بوڑھے جنگل کے نام سے جانتی ہے۔ یہیں سے ایک راستہ روہتاس کا سراغ لے کر نکلتا ہے۔ ایک بوسیدہ سے پل کے بل بوتے پر کاہان کا دریا عبور کریں تو سامنے روہتاس ہے۔

تقریبا پانچ کلو میٹر کے محیط پہ مشتمل اس قلعے میں اب صرف پرانے عہد کے وہ لوگ رہتے ہیں، جن کا مذہب وابستگی تھا۔ سنا ہے یہ لوگ قلعہ بننے کے وقتوں سے یہاں آباد ہیں۔ کافرستان کے ان لوگوں کی طرح، جو سکندر کے واپس آنے کے وعدے سے ہنوز بندھے ہیں۔

پرانے وقتوں کے بادشاہ چونکہ اپنی طاقت سے بادشاہ بنتے تھے اور معمولی اصلاحات تک کے لئے بھی اتحادی جماعتوں کے محتاج نہیں ہوا کرتے تھے، لہذا ان کے ریت رواج بھی اپنے ہوا کرتے تھے۔

اس وقت کی رسم تھی کہ سلطنت کے دونوں سروں کے نام ایک جیسے ہوا کرتے تھے، جیسے اٹک سے کٹک۔ سوری بادشاہ کب پیچھے رہنے والے تھے سو فیصلہ ہوا کہ بہار کے روہتاس گڑھ کے دوسری طرف ایک اور روہتاس ہونا چاہئے ۔ اس خوابیدہ سی بستی کا جنم اسی فیصلے سے ہوا۔

جب ظہیر الدین بابر کی دعا قبول ہوئی اور بیٹے کی بیماری باپ کی جان لے کر ٹلی تو سلطان الا عظم والخاقان ا لمکرم ابوالمظفر ناصر الدین محمد ہمایوں پادشاہ غازی ظل ا للہ دولت ہند عظیم کے تخت پر رونق افروز ہوئے، مگر ہر حکمرانی خراج مانگتی ہے ۔

جلد ہی فرید خان نے مغلوں کی حکمرانی سے انکار کر دیا۔ چھوٹی چھوٹی محاذ آرائیوں کا سلسلہ دراز ہوا اور بالآخر قنوج کی جنگ میں شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دی۔ بے تاج بادشاہ منزلوں پہ منزلیں مارتا ہندوستان سے رخصت ہو گیا۔

شیر شاہ کی ایک عمر مغلوں کے ساتھ گزری تھی لہذا وہ جانتا تھا کہ ہمایوں واپس ضرور آئے گا۔ اسی خیال کے پیش نظر اس نے پشاور سے آنے والے راستے کو بند کرنے کے لئے قلعے کی تعمیر کا حکم دیا مگر شیر شاہ کے حکم اور قلعے کی تعمیر کے دوران ایک وعدہ حائل تھا جو مدتوں پہلے گکھڑ سرداروں نے بابر سے کیا تھا۔

گکھڑوں کے دل ہنوز ہمایوں کی محبت میں دھڑکتے تھے لہذا انہوں نے شیرشاہی حکم کو ماننے سے انکار کیا۔ فرید خان نے قسم کھائی کہ وہ گکھڑوں کے سینے میں ایسی میخ ٹھونکے گا کہ وہ رہتی دنیا تک یاد رکھیں گے۔ گکھڑ تو سمندر پار چلے گئے میخ البتہ ماضی کی سیلن زدہ دیوار میں اب تک پیوست ہے۔

گکھڑوں کے انکار کے بعد فرید خان نے اپنا ترپ کا پتہ پھینکا اور تاریخ کو ٹوڈر مل مل گیا۔ اس کایستھ کھتری نے اعلان کیا کہ ہر پتھر لانے والا مزدور ایک سونے کا سکہ انعام میں پائے گا۔ چند دنوں بعد یہ عالم ہو گیا کہ لوگ تانبے کے سکوں کے عوض سارا سارا دن پتھر ڈھونے لگے۔

شیر شاہ کی تلوار تو جنجوعہ قوم کی اطاعت حاصل نہ کر سکی مگر ٹوڈر مل کی اشرفیوں نے ان کا ایمان ضرور حاصل کر لیا۔ ادھر قلعہ مکمل ہوا ، ادھر ہندوستان میں سوریوں کی حکومت اپنے انجام کو پہنچی۔ رہ گیا ٹوڈر مل تو وہ اچھے ٹیکنو کریٹ کی طرح نئی حکومت کا بھی منظور نظر بن گیا۔

شیر شاہ کا میر تعمیر، جلد ہی مہابلی کا لگان منتری بن گیا۔ اپنے کام کے باعث دربار میں عزت پائی اور بہت سی اصلاحات کروائیں۔ ہندوستان میں بنیادی پیمائش کا نظام ٹوڈرمل کے ذہن رسا کا کارنامہ ہے ۔

جو کے تکوں، ہاتھ کی چوڑائی اور گز کی لمبائی کا یہ نظام عین مین اسی طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی اپنا لیا اور بعد میں سر تھامس منرو نے اسی نظام کو پورے ہندوستان میں رائج کروایا۔

فارسی کو درباری اور سرکاری زبان کا درجہ دلوانے اور لگان کی شرح فصل کی پیداوار سے منسلک کروانے کا سہرا بھی اسی ٹوڈر مل کے سر جاتا ہے۔ مگر بات کاہان کے کنارے روہتاس سے چلی تھی تو اس وقت کے سکہ را ئج الوقت میں تقریبا پچیس کروڑ کی لاگت سے یہ قلعہ مکمل ہوا۔ مگر ہمایوں کا راستہ پھر بھی نہ روک سکا۔۔۔

روہتاس کے طلسم سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں تو بھی جہلم میں داخل ہونا آسان نہیں۔ شہر اور چھاؤنی سے آنکھ بچا کر ایک راستہ رڑیالہ ہر دیو ، سنگھوئی اور داراپور کو جاتا ہے۔ ٹلہ جوگیاں اسی راستے پر واقع ہے۔

پہلے یہاں بدھ بھکشو آ کر بیٹھے یا سوریا پوجا شروع ہوئی، آیور وید کے ذریعے جسم کی آلائشیں صاف ہوئیں یا کن پھٹے جوگیوں نے روح کی بالیدگی کا اہتمام کیا، رانجھا پہلے آیا یا پورن بھگت، گرو گورکھ ناتھ نے گیان دیا یا گرو نانک دیو نے نروان لیا، اشنان کے تالاب تین ہیں یا مندر بارہ ہیں، یہ سوال مورخ اور محقق پوچھتے رہیں گے مگر ایک بات طے ہے، جوگیوں اور روگیوں کو یہاں سے کچھ نہ کچھ ملتا ضرور ہے۔

فوجیوں کے شہر جہلم تک کا سفر طے کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ روہتاس کے فوجی اور ٹلہ کے جوگی اتنی آسانی سے مسافروں کو راستہ نہیں دیتے، آبادیوں سے دور آباد ہونے والے یہ دونوں قبیلے انسانوں کو دو ہی چیزیں دان کرتے ہیں انتشار یا اطمینان ۔


مصنف وفاقی ملازم ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

راستی
07 اگست, 2012 02:58
بہت خوبصورت... آپکی کہانی کی آخری چند ایک سطریں ہمیشہ اس براق کا سا کام کرتی ہیں جو انسان کو لمحوں میں زمین سے عرش تک لے جاتا ہے... ہر لفظ کے نیچے ایک عام معنی ہے اور ایک خاص مفہوم... لکھتے رہیے...
Koi-Kon
07 اگست, 2012 14:02
سفر نصیب
مقبول ترین
بلاگ

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔

ایک پاکستانی صحافی کی امریکا یاترا

میں نے جب یہ پوچھا کے کیا وہ پاکستان جانا چاہے گا تو اس کا کہنا تھا کے ہاں مجھے پاکستان جانے کا بہت شوق ہے۔

مووی ریویو: 'کک' صرف سلمان خان کی فلم نہیں

باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ فلم بنا کر ساجد ناڈیا والا نے خود کو ایک قابل ڈائریکٹر منوا لیا ہے۔