24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی میں پرتشدد واقعات جاری، تین افراد ہلاک

کراچی میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری۔ رائٹرز تصویر

کراچی: کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔

علاوہ ازیں ایسٹ پولیس نے  چوبیس گھنٹو ں کے اندر مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرکے ستائیس  ملزمان کو گرفتار کرلیا جن کے قبضہ سے اسلحہ منشیات و مسروقہ سامان بھی برآمد ہوا ہے۔

آج صبح کباڑی مارکیٹ میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگ۔

لانڈھی کے علاقے میں چراغ ہوٹل کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عالم دین مولاناسلیم عباس نقشبندی شدید زخمی جبکہ ان کے ساتھی ہلاک ہوگئے۔

عالم دین  کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سنی تحریک  کے رہنما اور بڑی تعداد میں کارکن بھی اسپتال پہنچ گئے۔

رہنماوں نے مولانا سلیم تقشبندی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی اور ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

شرافی گوٹھ کے علاقے مانسہرہ کالونی میں فٹبال میچ دیکھنے والے افراد پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

اس حصے سے مزید

'این آر او کے تحت پندرہ سال تک مارشل لاء نافذ نہیں ہو سکتا'

شہلا رضا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ ، یواے ای اور جنرل پرویز اشفاق کیانی نےبھی اس کی گارنٹی دی تھی۔

کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں پانچ افراد ہلاک

دوسری جانب گودھرا میں ایک پولیس مقابلے میں مشتبہ ملزمان کی فائرنگ سے اے ایس آئی ہلاک ہوگیا۔

کراچی: مائی کولاچی روڈ پر ٹرالر اور ڈمپر میں تصادم، تین زخمی

بدھ کے روز علی الصبح ہونے والی ہلکی بارش سے سڑک پر پھسلن بڑھ جانے سے ڈمپر اور ٹرالر بے قابو ہوکر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-