21 اپريل, 2014 | 20 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی میں پرتشدد واقعات جاری، تین افراد ہلاک

کراچی میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری۔ رائٹرز تصویر

کراچی: کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔

علاوہ ازیں ایسٹ پولیس نے  چوبیس گھنٹو ں کے اندر مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرکے ستائیس  ملزمان کو گرفتار کرلیا جن کے قبضہ سے اسلحہ منشیات و مسروقہ سامان بھی برآمد ہوا ہے۔

آج صبح کباڑی مارکیٹ میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگ۔

لانڈھی کے علاقے میں چراغ ہوٹل کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عالم دین مولاناسلیم عباس نقشبندی شدید زخمی جبکہ ان کے ساتھی ہلاک ہوگئے۔

عالم دین  کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سنی تحریک  کے رہنما اور بڑی تعداد میں کارکن بھی اسپتال پہنچ گئے۔

رہنماوں نے مولانا سلیم تقشبندی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی اور ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

شرافی گوٹھ کے علاقے مانسہرہ کالونی میں فٹبال میچ دیکھنے والے افراد پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

اس حصے سے مزید

سکھر: بس- ٹرالر میں تصادم، 41 افراد ہلاک

حادثہ اس وقت پیش آیا جب کراچی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی بس پنوں عاقل کے قریب سامنے سے آنے والے ٹریلرسے ٹکراگئی۔

اقوامِ متحدہ نے اپنے دوکارکن لاپتہ ہونے کی تصدیق کردی

اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف کے مقامی ارکان کراچی کے باہر ایک تفریحی مقام سے لاپتہ ہوئے ہیں۔

معروف صحافی حامد میر قاتلانہ حملے میں زخمی

سینئر صحافی اور مایہ ناز ٹیلی ویژن اینکر پرسن حامد میر قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے، حالت خطرے سے باہر۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

دنیاۓ صحافت: داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ایک فوجی کی طرح صحافی کو بھی ہرگز اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، یہ سوچنا کہ یہ ہماری جنگ نہیں، سراسر حماقت ہے-

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔