28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی میں پرتشدد واقعات جاری، تین افراد ہلاک

کراچی میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری۔ رائٹرز تصویر

کراچی: کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔

علاوہ ازیں ایسٹ پولیس نے  چوبیس گھنٹو ں کے اندر مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرکے ستائیس  ملزمان کو گرفتار کرلیا جن کے قبضہ سے اسلحہ منشیات و مسروقہ سامان بھی برآمد ہوا ہے۔

آج صبح کباڑی مارکیٹ میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگ۔

لانڈھی کے علاقے میں چراغ ہوٹل کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عالم دین مولاناسلیم عباس نقشبندی شدید زخمی جبکہ ان کے ساتھی ہلاک ہوگئے۔

عالم دین  کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سنی تحریک  کے رہنما اور بڑی تعداد میں کارکن بھی اسپتال پہنچ گئے۔

رہنماوں نے مولانا سلیم تقشبندی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی اور ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

شرافی گوٹھ کے علاقے مانسہرہ کالونی میں فٹبال میچ دیکھنے والے افراد پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

اس حصے سے مزید

کراچی: لیاقت علی خان کے بیٹے انتقال کر گئے

اشرف علی خان اپنے والد کی وفات کے وقت محض 14 برس کے تھے، اُن کو کراچی میں سپرد خاک کیا جا ئے گا۔

کراچی: جمشید ٹاؤن تھانے کے قریب بم ناکارہ بنا دیا گیا

حکام کا کہنا ہے کہ پانچ کلو وزنی دھماکا خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا، جسے ناکارہ بنایا دیا گیا۔

کراچی میں ایک ہفتہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی

کراچی الیکٹرک کے جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کے ای نے صارفین کے لیے عید پیکج کا اعلان کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔