02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

خیبرایجنسی میں دھماکہ، نیٹو کنٹینرز کو جزوی نقصان

نیٹوکے سامان کے ساتھ ایک پاکستانی ٹرک افغانستان جانے کیلئے تیار۔ رائٹرز تصویر

پشاور: خیبرایجنسی میں جمرود بائی پاس روڈ پر سڑک کنارے ریمورٹ کنٹرول نصب بم پھٹنے سے نیٹو کنٹینرز کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

خاصہ دار فورس کے مطابق جمرود بازار بائي پاس روڈ پر نيٹو سپلائی پر حملے کے لئے بم نصب کيا گيا تھا تاہم بم اس وقت پھٹا جب نيٹو سپلائي کا قافلہ گزر چکا تھا۔

دھماکے کے بعد سيکيورٹي اور خاصہ دار فورس نے علاقے کو گھيرے ميں لے ليا۔

دوسری طرف پشاور کے کینٹ بازار میں سیکورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران تین عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔

پوليس کے مطابق فورسز کی قيد سے چند عسکریت پسندوں کے فرار ہونے کے بعد پشاور کے کینٹ ایریا میں سرچ پریشن کیا گیا۔

اس حصے سے مزید

پروفیسر اجمل کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرائے، مُلا فضل اللہ

اسلام آباد میں 30 ہزار لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا لیا ہے جس سے طالبان کا کام آسان ہو گیا،سربراہ تحریک طالبان پاکستان

بے گھر افراد کے لیے 1.5 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست

فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اجراء میں تاخیر سے نقد امداد کی تقسیم کا پروگرام معطل ہوسکتا ہے۔

۔’’ضرب عضب‘‘: 32 دہشت گرد ہلاک، 3ٹھکانے تباہ

آئی ایس پی آر کے مطابق بارودی مواد سے بھری ہوئی 23 گاڑیاں اور اسلحے کے 4 ذخائر بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔