30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

خیبرایجنسی میں دھماکہ، نیٹو کنٹینرز کو جزوی نقصان

نیٹوکے سامان کے ساتھ ایک پاکستانی ٹرک افغانستان جانے کیلئے تیار۔ رائٹرز تصویر

پشاور: خیبرایجنسی میں جمرود بائی پاس روڈ پر سڑک کنارے ریمورٹ کنٹرول نصب بم پھٹنے سے نیٹو کنٹینرز کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

خاصہ دار فورس کے مطابق جمرود بازار بائي پاس روڈ پر نيٹو سپلائی پر حملے کے لئے بم نصب کيا گيا تھا تاہم بم اس وقت پھٹا جب نيٹو سپلائي کا قافلہ گزر چکا تھا۔

دھماکے کے بعد سيکيورٹي اور خاصہ دار فورس نے علاقے کو گھيرے ميں لے ليا۔

دوسری طرف پشاور کے کینٹ بازار میں سیکورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران تین عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔

پوليس کے مطابق فورسز کی قيد سے چند عسکریت پسندوں کے فرار ہونے کے بعد پشاور کے کینٹ ایریا میں سرچ پریشن کیا گیا۔

اس حصے سے مزید

۔’’ضرب عضب‘‘: 32 دہشت گرد ہلاک، 3ٹھکانے تباہ

آئی ایس پی آر کے مطابق بارودی مواد سے بھری ہوئی 23 گاڑیاں اور اسلحے کے 4 ذخائر بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

کوہاٹ : ایک ہی خاندان کے 5 افراد قتل

نامعلوم افراد نے ایک گھر میں گھس کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں میاں، بیوی، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہلاک ہوگیا۔

بے گھر افراد میتوں کی تدفین کے لیے پریشان

مقامی لوگ اپنے قبرستانوں میں ان کی میتوں کی تدفین کی، جبکہ انتظامیہ شمالی وزیرستان لے جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ملکی مسائل سے غیر آہنگ حکومتی پالیسیاں

کیا یہ بات سمجھ آنے والی نہیں کہ میگا پروجیکٹس پر اٹھنے والے پیسے سے پہلے توانائی کے مسئلے کو حل کر لیا جائے؟

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

بلاگ

پکوانی کہانی- سندھی بریانی

ہر قسم کی بریانیوں میں سے یہ بریانی منفرد حیثیت رکھتی ہے جو سندھی طریقے سے بہت زیادہ مصالحوں کے ساتھ تیار ہوتی ہے۔

‫ڈرامہ ریویو: وہ۔۔۔ دوبارہ (خوف و دہشت کا احساس)

انسان چاہے بد روحوں سے جتنا بھی ڈرے مگر ان پر بنی فلموں یا ڈراموں کو دیکھنے کا شوق پھر بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

تھری ڈی پرنٹنگ پر کچھ سوالات

کچھ کیسز ضرور ہوں گے جن میں تھری ڈی پرنٹنگ کو کاپی رائیٹ مواد کی غیر قانونی نقل تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پانی کی کمی اور پاکستان کا مستقبل

وزرات منصوبہ بندی کے مطابق پاکستان کی پانی ذخیرہ کی صلاحیت صرف نو فیصد ہے جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح چالیس فیصد ہے۔