24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

قانون سازی صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے، زرداری

صدر آصف علی زرداری۔ -- فائل فوٹو

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قانون سازی پہ صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور اس اختیار پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت منگل کے روز پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی مجوعی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔

صدر کا کہنا تھا کہ قانون سازی پہ صرف پارلیمنٹ کا اخیتار ہے اور منتخب پارلیمنٹ کے علاوہ قانون سازی کے نئے مراکز کی بھرپور مخالفت کی جائیگی۔ صدر نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو ہدایت کی کہ آئندہ انتخابات کیلیے تیاری شروع کردیں۔

ترجمان ایوان صدر کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ آئندہ عام اتنخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے،

انہوں نے کہا کہ اپنی پالیسوں کی توثیق کے لیے عوام کے پاس جانے سے نہیں جھجھکتے، پیپلزپارٹی عوام کی طاقت پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ انتخابی فہرستیں غلطیوں سے پاک ہونی چاہئیں اور کسی بھی اہل ووٹر کا نام فہرست سے خارج نہیں ہونا چاہئے۔

اجلاس میں وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے آئینی و قانونی صورتحال پر جبکہ وزیر پانی وبجلی چوہدری احمد مختار نے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران پر اجلاس کو بریفنگ دی۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان: ڈھائی سال میں پہلا پولیو کیس

یونیسیف کے مطابق پولیو وائرس کا شکار 18 ماہ کی بچی کا خاندان رواں سال کراچی سے قلعہ عبداللہ منتقل ہوا تھا۔

وفاقی حکومت نے آزادی تقریبات کا اعلان کر دیا

تقریبات کا اعلان کرتے ہوئے سعد رفیق نے تحریک انصاف کے مارچ کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔

گجرات: زمیندار نے دس سالہ بچے کے دونوں بازو کاٹ دیے

معمولی رنجش پر زمیندار کے بیٹے نے تبسم شہزاد کو موٹر پر دھکا دیدیا جس کی زد میں آکر بچے کے دونوں بازو جسم سے جدا ہوگئے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-