02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

قانون سازی صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے، زرداری

صدر آصف علی زرداری۔ -- فائل فوٹو

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قانون سازی پہ صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور اس اختیار پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت منگل کے روز پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی مجوعی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔

صدر کا کہنا تھا کہ قانون سازی پہ صرف پارلیمنٹ کا اخیتار ہے اور منتخب پارلیمنٹ کے علاوہ قانون سازی کے نئے مراکز کی بھرپور مخالفت کی جائیگی۔ صدر نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو ہدایت کی کہ آئندہ انتخابات کیلیے تیاری شروع کردیں۔

ترجمان ایوان صدر کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ آئندہ عام اتنخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے،

انہوں نے کہا کہ اپنی پالیسوں کی توثیق کے لیے عوام کے پاس جانے سے نہیں جھجھکتے، پیپلزپارٹی عوام کی طاقت پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ انتخابی فہرستیں غلطیوں سے پاک ہونی چاہئیں اور کسی بھی اہل ووٹر کا نام فہرست سے خارج نہیں ہونا چاہئے۔

اجلاس میں وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے آئینی و قانونی صورتحال پر جبکہ وزیر پانی وبجلی چوہدری احمد مختار نے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران پر اجلاس کو بریفنگ دی۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔

وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیےمنظور کرلی گئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔