22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

کسی ادارے کو قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں، کائرہ

قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت کا عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ فوٹو اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ قانون سازی صرف پارلیمنٹ کا اختیارہے اور کسی ادارے کو  قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں  سول  ملٹری تعلقات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں مارشل لا سے ادارے اور ملک کمزور ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ماضی کی غلطیوں کو مد نظر رکھ کر مفاہمتی پالیسی  کو فروغ دیا اور اداروں کو تصادم سے بچایا۔

قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ  حکومت کا  عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ توہین عدالت کا قانون پارلیمان نے بنایا تھا، اگر  عدلیہ کو کسی شق پر اعتراض تھا تو اسے اس شق کو ختم کرنا چاہئے تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں کا پہلے بھی احترام کیا اور آئندہ  بھی کریں گے، این آر او عملدرآمد کیس سے متعلق آج کے عدالتی فیصلے پر قانونی ٹیم سے مشاورت جاری ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ  اداروں اور سماج نے اکٹھے مل کر چلنا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اداروں کے رویے اچانک نہیں بنتے۔

انہوں نے کہا کہ  ادارے نہیں سماج بدلتے ہیں، معاشرے اور اداروں کے رویوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ  سول اور عسکری کے ساتھ ساتھ جو عدلیہ کے ساتھ تعلقات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ  ملک میں سول عسکری تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔  ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر نے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کبھی نہیں آئی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک سے باہر بلوچ سرداروں کو قومی سیاست میں آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ بلوچ عوام کے لیے تکمیل حقوق بلوچستان پیکج کی ضرورت ہے۔

اس حصے سے مزید

آئندہ 48 گھنٹے’حساس‘ ہیں، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ فوج کو اس آزمائش سے نکالیں اور آپریشن کی طرف ان کو لے کر جائیں جہاں ان کی ضرورت ہے۔

نواں دن: اسلام آباد دھرنوں کے باعث سیاسی بے یقینی برقرار

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی سے مستعفی

عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے اسپیکر کےدفتر میں جمع کرا دیے گئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔