25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کسی ادارے کو قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں، کائرہ

قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت کا عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ فوٹو اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ قانون سازی صرف پارلیمنٹ کا اختیارہے اور کسی ادارے کو  قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں  سول  ملٹری تعلقات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں مارشل لا سے ادارے اور ملک کمزور ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ماضی کی غلطیوں کو مد نظر رکھ کر مفاہمتی پالیسی  کو فروغ دیا اور اداروں کو تصادم سے بچایا۔

قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ  حکومت کا  عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ توہین عدالت کا قانون پارلیمان نے بنایا تھا، اگر  عدلیہ کو کسی شق پر اعتراض تھا تو اسے اس شق کو ختم کرنا چاہئے تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں کا پہلے بھی احترام کیا اور آئندہ  بھی کریں گے، این آر او عملدرآمد کیس سے متعلق آج کے عدالتی فیصلے پر قانونی ٹیم سے مشاورت جاری ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ  اداروں اور سماج نے اکٹھے مل کر چلنا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اداروں کے رویے اچانک نہیں بنتے۔

انہوں نے کہا کہ  ادارے نہیں سماج بدلتے ہیں، معاشرے اور اداروں کے رویوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ  سول اور عسکری کے ساتھ ساتھ جو عدلیہ کے ساتھ تعلقات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ  ملک میں سول عسکری تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔  ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر نے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کبھی نہیں آئی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک سے باہر بلوچ سرداروں کو قومی سیاست میں آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ بلوچ عوام کے لیے تکمیل حقوق بلوچستان پیکج کی ضرورت ہے۔

اس حصے سے مزید

پاکستان کی صحافی فیض اللہ کی رہائی کیلئے صدر کرزئی سے اپیل

ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز رپورٹر فیض اللہ خان کو افغان سیکورٹی فورسز نے اپریل میں صوبہ ننگرہار سے گرفتار کیا تھا۔

افتخار چوہدری ن لیگ کے 'اوپننگ بیٹسمین' قرار

حکمران جماعت کی طرف سے تمام مبینہ حکمت عملی کے باوجود چودہ اگست کو اسلام آباد میں مارچ کریں گے، شیریں مزاری

اسرائیلی جارحیت: نواز شریف کا ملک میں یومِ سوگ کا اعلان

جعمہ کوسرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزیراعظم نے غزہ کے متاثرین کیلئے 10لاکھ ڈالرامداد کا بھی اعلان کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-