30 ستمبر, 2014 | 4 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

کسی ادارے کو قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں، کائرہ

قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت کا عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ فوٹو اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ قانون سازی صرف پارلیمنٹ کا اختیارہے اور کسی ادارے کو  قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں  سول  ملٹری تعلقات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں مارشل لا سے ادارے اور ملک کمزور ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ماضی کی غلطیوں کو مد نظر رکھ کر مفاہمتی پالیسی  کو فروغ دیا اور اداروں کو تصادم سے بچایا۔

قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ  حکومت کا  عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ توہین عدالت کا قانون پارلیمان نے بنایا تھا، اگر  عدلیہ کو کسی شق پر اعتراض تھا تو اسے اس شق کو ختم کرنا چاہئے تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں کا پہلے بھی احترام کیا اور آئندہ  بھی کریں گے، این آر او عملدرآمد کیس سے متعلق آج کے عدالتی فیصلے پر قانونی ٹیم سے مشاورت جاری ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ  اداروں اور سماج نے اکٹھے مل کر چلنا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اداروں کے رویے اچانک نہیں بنتے۔

انہوں نے کہا کہ  ادارے نہیں سماج بدلتے ہیں، معاشرے اور اداروں کے رویوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ  سول اور عسکری کے ساتھ ساتھ جو عدلیہ کے ساتھ تعلقات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ  ملک میں سول عسکری تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔  ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر نے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کبھی نہیں آئی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک سے باہر بلوچ سرداروں کو قومی سیاست میں آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ بلوچ عوام کے لیے تکمیل حقوق بلوچستان پیکج کی ضرورت ہے۔

اس حصے سے مزید

عیدالاضحیٰ پر تین روزہ تعطیلات کا اعلان

وزراتِ داخلہ کے مطابق چھ سے آٹھ اکتوبر تک تعطیلات کے دوران تمام سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اور دفاتر بند رہیں گے۔

'ڈنڈنے کے زور پر مڈٹرم انتخابات کی حمایت نہیں کی جاسکتی'

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا پی ٹی آئی کی جانب سے چار حلقے کھولنے کے مطابات پر بروقت عمدرآمد ہونا چاہیے تھا۔

آخر کیا پایا؟ 'انقلاب' کی خواہش لیے دھرنے والوں کی واپسی

پی اے ٹی کے کارکنان دھرنے سے گھر واپسی پر جہاں خوش ہیں، وہیں یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ آخر انہوں نے کیا حاصل کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔