16 ستمبر, 2014 | 20 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کسی ادارے کو قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں، کائرہ

قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت کا عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ فوٹو اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ قانون سازی صرف پارلیمنٹ کا اختیارہے اور کسی ادارے کو  قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں  سول  ملٹری تعلقات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں مارشل لا سے ادارے اور ملک کمزور ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ماضی کی غلطیوں کو مد نظر رکھ کر مفاہمتی پالیسی  کو فروغ دیا اور اداروں کو تصادم سے بچایا۔

قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ  حکومت کا  عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ توہین عدالت کا قانون پارلیمان نے بنایا تھا، اگر  عدلیہ کو کسی شق پر اعتراض تھا تو اسے اس شق کو ختم کرنا چاہئے تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں کا پہلے بھی احترام کیا اور آئندہ  بھی کریں گے، این آر او عملدرآمد کیس سے متعلق آج کے عدالتی فیصلے پر قانونی ٹیم سے مشاورت جاری ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ  اداروں اور سماج نے اکٹھے مل کر چلنا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اداروں کے رویے اچانک نہیں بنتے۔

انہوں نے کہا کہ  ادارے نہیں سماج بدلتے ہیں، معاشرے اور اداروں کے رویوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ  سول اور عسکری کے ساتھ ساتھ جو عدلیہ کے ساتھ تعلقات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ  ملک میں سول عسکری تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔  ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر نے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کبھی نہیں آئی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک سے باہر بلوچ سرداروں کو قومی سیاست میں آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ بلوچ عوام کے لیے تکمیل حقوق بلوچستان پیکج کی ضرورت ہے۔

اس حصے سے مزید

عمران خان کا جمعہ کو ’گونوازگو ڈے‘‘ منانے کا اعلان

انہوں نےوزیراعظم کوچیلنج کیاہےکہ اگر نوازشریف اپنے اورخاندان کے تمام اثاثے ظاہر کر دیں تو تحریک انصاف دھرنا ختم کردےگی۔

عمران خان دھاندلی کے الزامات ثابت نہ کرسکے،وزیر اطلاعات

پرویزرشید کاکہناہےکہ پارلیمنٹ اورپی ٹی وی پرحملہ پر پہلے جشن منایا گیا اور مقدمات کے اندراج پر اس سے لاتعلقی ظاہر کی گئی

پاکستانی عدالت نے ایک قاتل کی پھانسی روک دی

سن2008 کے بعد پہلی مرتبہ کسی شہری کو پھانسی دی جا رہی تھی ، تاہم عدالت نے فی الحال سزا پر عمل روک دیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈیم، کینال، بیراج، اور ماحول

ہندوستانی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہوئیں، جسکی وجہ سے اپ سٹریم کا پانی پاکستانی چناب اور جہلم میں بہہ آیا ہے

انتخابی اصلاحات: اگلا قدم

بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا، کہ اس معاملے میں سچ سب کے سامنے آئے، اور کوئی شک شبہہ باقی نا رہے۔

بلاگ

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔