24 اپريل, 2014 | 23 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

کسی ادارے کو قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں، کائرہ

قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت کا عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ فوٹو اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ قانون سازی صرف پارلیمنٹ کا اختیارہے اور کسی ادارے کو  قانون سازی میں مداخلت کا اختیار نہیں۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں  سول  ملٹری تعلقات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں مارشل لا سے ادارے اور ملک کمزور ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ماضی کی غلطیوں کو مد نظر رکھ کر مفاہمتی پالیسی  کو فروغ دیا اور اداروں کو تصادم سے بچایا۔

قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ  حکومت کا  عدلیہ کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ توہین عدالت کا قانون پارلیمان نے بنایا تھا، اگر  عدلیہ کو کسی شق پر اعتراض تھا تو اسے اس شق کو ختم کرنا چاہئے تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں کا پہلے بھی احترام کیا اور آئندہ  بھی کریں گے، این آر او عملدرآمد کیس سے متعلق آج کے عدالتی فیصلے پر قانونی ٹیم سے مشاورت جاری ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ  اداروں اور سماج نے اکٹھے مل کر چلنا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اداروں کے رویے اچانک نہیں بنتے۔

انہوں نے کہا کہ  ادارے نہیں سماج بدلتے ہیں، معاشرے اور اداروں کے رویوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ  سول اور عسکری کے ساتھ ساتھ جو عدلیہ کے ساتھ تعلقات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ  ملک میں سول عسکری تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔  ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر نے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کبھی نہیں آئی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک سے باہر بلوچ سرداروں کو قومی سیاست میں آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ بلوچ عوام کے لیے تکمیل حقوق بلوچستان پیکج کی ضرورت ہے۔

اس حصے سے مزید

مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

کل ہی نوٹس ملا ہے اسلئے کم ازکم 15 دن کا وقت دیا جائے، اٹارنی جنرل کی سندھ ہائی کورٹ سے درخواست۔

جیو کیخلاف حکومتی درخواست پر جائزہ کمیٹی قائم

کمیٹی پیمرا کے ممبران پرویز راٹھور، اسرار عباسی اور اسماعیل شاہ پر مشتمل، حتمی فیصلہ پیمرا بورڈ کے اجلاس میں ہوگا۔

اسلام آباد میں کچی آبادیوں پر کریک ڈاؤن

اسلام آباد کی قریب ایک درجن کے قریب کچی آبادیوں کے خلاف دارالحکومت کی انتظامیہ کی کارروائی جاری ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟

مووی ریویو: ٹو اسٹیٹس

عالیہ بھٹ کی بے ساختہ اداکاری نے اپنے اب تک بے شمار مداح پیدا کرلئے ہیں حالانکہ یہ ان کی تیسری فلم ہے۔