02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ملک ریاض پر فرد جرم عائد

سپریم کورٹ کی عمارت کا ایک منظر۔۔—اے ایف پی تصویر

اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن کے سابق چیرمین ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کردی گئی۔ البتہ اٹارنی جنرل نے فرد جرم عائد کرنے پر اعتراض کردیا ہے۔

اس کے علاوہ ملک ریاض نے بھی صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

ملک ریاض پر یہ فرد ایک پریس کانفرنس میں عدلیہ پر الزامات لگانے پر عائد کی گئی ہے۔ کیس کی مزید سماعت انتیس اگست کو ہوگی۔

سپریم کورٹ میں ملک ریاض نے  انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی۔

میاں جسٹس شاکراللہ جان کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ ملک ریاض کے خلاف تو  ہین عدالت کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر عبدالباسط نے عدالت کو کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلے تک توہین عدالت کی کاراوئی روک دی جائے۔

اس پر بنچ  میں موجود جسٹس اعجاز افضل کا کہان تھا کہ نیا قانون اب ختم ہوگیا ہے اور موجودہ قانون میں کاوائی جاری رکھی جاسکتی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ توہین عدالت ایکٹ دوہزار بارہ کو ایسا تصور کیا جائے جیسا کہ وہ تھا ہی نہیں۔

ڈاکٹر باسط کا کہنا تھا کہ جس دن انٹرا کورٹ اپیل دائر ہوئی اس دن توہین عدالت کا نیا قانون لاگو تھا۔

انھوں نے کہا کہ اپیل  کے آتے ہی شوکاز نوٹس اور توہین عدالت کی کاروائی معطل ہوگئی تھی۔

ڈاکٹر باسط نے عدالت سے استدعا کی کہ عید کے بعد تک کیس کی سماعت ملتوی کیا جائے۔

اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پہلے فرد جرم عائد کرینگے اور اس کے بعد سماعت بھی ملتوی کرینگے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیا قباحت  ہے کہ اگر آج فرد جرم عائد کی جائے۔

ڈاکٹر باسط نے کہا اس سے میرا انٹرا کورٹ کا حق متاثر ہو جائے  گا۔

اس پر جسٹس جواد اس خواجہ نے کہا کہ آپ  کے انٹرا کورٹ کی اپیل کی سماعت چلتی رہے گی۔

اس حصے سے مزید

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔