24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

عمران خان ایک بار پھر چوہدری نثار کی تنقید کا شکار

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثارعلی خان جمعرات کے روز پریس کانفرنس کے دوران۔ – آئی این پی فوٹو

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے ایک بار پھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ٹیکس چور قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثے چھپائے ہیں۔ اوران پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں تو عدالتوں میں لے جائیں۔

جمعرات کے روز بھی تحریک انصاف اور ملسم لیگ ن کا ایک دوسرے کے خلاف دھواں دھار الزامات لگانے کا سلسلسہ جاری رہا۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ عمران خان صرف ن لیگ اور میاں نواز شریف پر الزامات لگاتے ہیں اور اب وہ یہ الزام تراشی کی سیاست بند کردیں۔

گزشتہ روز تحریک انصاف کے سربراہ عمران  خان  نے کہا تھا کہ شوکت خانم کے خلاف لگائے گئے الزامات پر وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

اس سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نے نثار نے عمران خان اور رحمان ملک کے ایجنڈے کو ایک قرار دیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ عمران خان بہادر بنتے ہیں لیکن میدان کے آدمی نہیں ہیں، چیلنج کرکے بھاگ گئے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آصف زرداری پر لگے الزامات نظر کیوں نہیں آتے، شوکت خانم کے پیچھے چھپنے سے بھی کچھ نہ ہوگا۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء کا مزید کہنا تھا کہ غصےسےکوئی بڑا لیڈر نہیں بن جاتا، اور تمام سیاسی جماعتوں کومسائل کے حل پرتوجہ دینی چاہیے۔

اس حصے سے مزید

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پی آئی اے میں صرف انیس طیارے پرواز کے قابل

اس بات کا انکشاف پی آئی اے کے چیئرمین محمد علی گردیزی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو ایک بریفننگ میں کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-