17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

عمران خان ایک بار پھر چوہدری نثار کی تنقید کا شکار

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثارعلی خان جمعرات کے روز پریس کانفرنس کے دوران۔ – آئی این پی فوٹو

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے ایک بار پھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ٹیکس چور قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثے چھپائے ہیں۔ اوران پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں تو عدالتوں میں لے جائیں۔

جمعرات کے روز بھی تحریک انصاف اور ملسم لیگ ن کا ایک دوسرے کے خلاف دھواں دھار الزامات لگانے کا سلسلسہ جاری رہا۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ عمران خان صرف ن لیگ اور میاں نواز شریف پر الزامات لگاتے ہیں اور اب وہ یہ الزام تراشی کی سیاست بند کردیں۔

گزشتہ روز تحریک انصاف کے سربراہ عمران  خان  نے کہا تھا کہ شوکت خانم کے خلاف لگائے گئے الزامات پر وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

اس سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نے نثار نے عمران خان اور رحمان ملک کے ایجنڈے کو ایک قرار دیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ عمران خان بہادر بنتے ہیں لیکن میدان کے آدمی نہیں ہیں، چیلنج کرکے بھاگ گئے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آصف زرداری پر لگے الزامات نظر کیوں نہیں آتے، شوکت خانم کے پیچھے چھپنے سے بھی کچھ نہ ہوگا۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء کا مزید کہنا تھا کہ غصےسےکوئی بڑا لیڈر نہیں بن جاتا، اور تمام سیاسی جماعتوں کومسائل کے حل پرتوجہ دینی چاہیے۔

اس حصے سے مزید

فیصل رضا عابدی کا استعفیٰ منظور

سینیٹ کے اجلاس میں فیصل نے استعفیٰ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

تھری، فور جی نیلامی کے لیے چاروں کمپنیاں اہل قرار

دوسری جانب، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی اے اور حکومت کو نیلامی سے روک دیا۔

طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

وزیر اعظم ہاؤس میں تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے کی توثیق


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟